أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ غُلٰمٌ وَّقَدۡ بَلَغَنِىَ الۡكِبَرُ وَامۡرَاَتِىۡ عَاقِرٌ‌ؕ قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ يَفۡعَلُ مَا يَشَآءُ

ترجمہ:

انھوں نے کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے، فرمایا اسی طرح (ہوتا ہے) اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔ (زکریا نے) کہا اے میرے رب ! میرے ہاں لڑکا کس طرح ہوگا حالانکہ مجھے بڑھاپا پہنچ چکا ہے اور میری بیوی بانجھ ہے فرمایا اسی طرح (ہوتا ہے) اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔

حضرت یحییٰ کی ولادت کو حضرت زکریا کے مستعد سمجھنے کی توجیہہ :

اس آیت پر یہ سوال ہوتا ہے کہ حضرت زکریا نے اپنے ہاں بیٹے کو کیوں اس قدر مستعد سمجھا حالانکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت زکریاعلیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک نہیں تھا بلکہ وہ یہ جاننا چاہتے تھے کہ آیا اللہ تعالیٰ ان کے بڑھاپے کو زائل کرکے ان کو جوانی عطا فرمائے گا اور ان کی بیوی کے بانجھ پن کو دور فرمائے گا پھر بیٹا ہوگا یا ان کی اسی حالت کے باوجود اللہ تعالیٰ ان کو بیٹا عطا فرمائے گا ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ جب کوئی شخص کسی نعمت سے مایوس ہو پھر اچانک اس کو اس نعمت کے ملنے کی خوشخبری مل جائے تو وہ خوشی سے از خود رفتہ ہوجاتا ہے اور وہ کہتا ہے یہ کس طرح ہوگا ؟ تیسرا جواب یہ ہے کہ انسان کو جب غیر متوقع طور پر کسی نعمت کے ملنے کی خوشخبری ملتی ہے تو وہ اس کے متعلق بار بار سوال کرتا ہے تاکہ جواب میں پھر اس نعمت کے دیئے جانے کی خوش خبری دی جائے اور اس خبر کی تاکید اور تقریر ہو اور اسے سن کر اسے مزید اطمینان اور شرح صدر حاصل ہو ‘ چوتھا جواب یہ ہے کہ ان کے دعا کرنے کے ساٹھ سال بعد یہ بشارت دی گئی حتی کے بشارت کے وقت وہ اپنی دعا کو بھول چکے تھے ‘ پھر جب انہوں نے سخت بڑھاپے کی حالت میں یہ خوش خبری سنی تو فطری طور پر انہوں نے یہ سوال کیا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 40