مالک:سیرت مصطفیٰ کے آئینے میں

محمد ابرار عالم مصباحی

حضرت ابن عمر کا بیان ہے کہ ایک شخص نے پوچھا:یارسول اللہ! میں اپنے خادم کو کتنی بار معاف کروں ؟ فر مایا: روزانہ ستربار

ایک اچھا اور عمدہ مالک ہونے کی حیثیت سے ہمارا سلوک اپنے غلاموں اور نوکروں کے ساتھ کیسا ہونا چاہیے، اس بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ ہمارے لیے بہترین نمونۂ عمل اور آپ کی تعلیمات بہترین تعلیم ہیں ۔

 خادموں کے ساتھ سلوک 

 

 حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں دس سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہا ، لیکن واللہ! آپ نے کبھی مجھے اُف تک نہ کہااور نہ کبھی یہ کہا کہ تم نے فلاں کام کیوں نہیں کیا ؟ یا فلاں کام کیوں کیا؟۔ (مسلم، کتاب الفضائل،حدیث:۲۳۰۹)

حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق سب سے اچھے تھے ،آپ نے ایک دن مجھے کسی کام سے بھیجا ،میں نے کہا :واللہ! میں نہیں جائوں گا ،حالاںکہ میرے دل میں تھا کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جس کام سے بھیج رہے ہیں میں وہ کام کرنے ضرور جائوں گا۔پھرمیں چلا گیا یہاں تک کہ میں بازار میں کھیلنے والے چند لڑکوں کے پاس سے گزرا تو میں کھیلنے میں مشغول ہوگیا۔جب تاخیر ہوئی تو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری تلاش میں نکلےاورمجھے کھیلتا ہو ا پایا، پھرمشفقانہ انداز میں پیچھے سے میری گدی پکڑلی ۔حضرت انس کابیان ہے کہ جب میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ مسکرا رہے تھے ۔ آپ نے فر مایا:انس ! کیا تم وہاں گئے تھے جہاں میں نے کہا تھا ؟ میں نے کہا: جی! میں ابھی جارہاہوں یارسول اللہ! (مسلم،کتاب الفضائل ،حدیث:۲۳۱۰)

 اس کے باوجود حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ ان کو ڈانٹ پلائی اورنہ ہی سزا دی، بلکہ مسکرا تے رہے اور شفقت و محبت کے موتی لٹاتے رہے ۔خادموں کے ساتھ اس طرح کا حسن سلوک اور ایساپیارا انداز نہ صرف اُن کے دلوں میں مالک کی محبت پیدا کرتا ہے، بلکہ انھیں مالک کی اطاعت و فرماںبرادری پربھی ابھارتا ہے۔

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو اپنے ہاتھ سے نہ مارا،نہ کسی نوکرکو اور نہ ہی کسی عورت کو۔ (شمائل ترمذی،ص:۵۹۶)

 حضور نبی کریم علیہ الصلاۃ والسلام کا اپنے خادموں اورماتحتوں پر شفقت و محبت کا اندازہ اس واقعے سے بھی بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ حضرت زید بچپن میں اپنے والدین سے بچھڑ گئےتھے اور غلام کی صورت میں حضور نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں پہنچے تھے۔ایک زمانے تک ان کے والدین ان کے فراق و جدائی میں روتے رہے اور انھیں ڈھونڈتے رہے۔حضرت زید کی تلاش میں ان کے والد نے کئی ملکوں کے خاک چھانا اور جب انھیں پتا چلا کہ ان کا لخت جگر مکہ میں ہیں تواُنھیں واپس لانے کے لیےانتہائی بے قراری کے عالم میں مکہ پہنچے۔چنانچہ جب حضرت زید کویہ اختیار دےدیا گیا کہ چاہو تو اپنے والد کے ساتھ گھر چلے جائو اور چاہو تو یہیں رہو۔

ایسےنازک موقع پربھی حضرت زید بلاجھجھک یہ کہتے نظر آئے:

مَاأنَا بِالَّذِی أخْتَارَ عَلَیْکَ أحَدًا أنْتَ مِنِّی مَکَانَ الَأبِ وَالْعَمِّ۔

یعنی یا رسول اللہ !میں ایسا نادان نہیں ہوں کہ آپ کو چھوڑ کر کسی اور کے ساتھ چلا جائوں، آپ ہی میرے باپ ہیں اور آپ ہی میرے چچا ہیں۔

یہ دیکھ کر اُن کے والد نے کہاکہ زید!صد افسوس کہ تم آزادی کے بجائے غلامی کو اور اپنے ماں باپ کے بجائے اِن(نبی کریم ) کو پسند کر رہے ہو ،تمھیں کیا ہوگیا ہے؟

 زید تو اخلاق مصطفی کے اسیر ہوگئے تھے کہنے لگے :

 آ پ کو کیا معلوم ؟جس ہستی کی غلامی پر میں نے آزادی کو اور اپنے ماں باپ اور سارے خاندان کو قربان کر رہا ہوں ، وہ ہستی کتنی دلربا اور کتنی دلکش ہے،میں اُنھیں چھوڑ کر کہیں اورجانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ (ضیاء النبی،جلد:۲،ص:۱۵۸-۱۵۹)

مزدوروں اور ماتحتوں کے تعلق سے ہدایات نبوی 

 

جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے خادموں کے ساتھ حسن سلوک فر ماتے تھےاسی طرح اپنی امت کو بھی یہ تمام ہدایات عطا فر مائیں،ان میں سے کچھ افادۂ عام کی خاطر پیش کیے جارہے ہیں:

 ۱۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشاد فرمایاکہ سنو! اپنے غلاموں کا خیال رکھو ، غلاموں کا خیال رکھو، انھیں وہی کھلائو جو تم خود کھاتے ہو، اُنھیں وہی لباس پہنائو جو تم خودپہنتے ہو۔زمانۂ جاہلیت کی ساری چیزیں میں نے اپنے پیروں سے روند دی ہیں ۔البتہ! تم اُنھیں غلطیوں پر معمولی سزائیں دے سکتےہو،لیکن اگر وہ باز آجائیں تو اُنھیں اچھی طرح کھلائو پہناؤ۔

۲۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ تمہارے خادم تمہارے بھائی ہیں جسے اللہ نے تمہارے ماتحت کردیا ہے۔چنانچہ ہر وہ شخص جس کے ماتحت اس کا بھائی ہو، اُسے اپنے کھانے سے کھلائے، اپنےلباس سے پہنائے اور اُس پر کاموں کا اتنا بوجھ نہ ڈالے کہ وہ نہ کر سکے اور اگر زیادہ بوجھ ڈالے تو اس کام میں اُس کی مدد ضرورکی جائے۔ (سنن تر مذی،حدیث:۱۹۴۵،بخاری،حدیث:۲۵۴۵)

۳۔حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے ایک غلام کو مار رہاتھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے کسی کہنے والے کو یہ کہتے ہوئے سنا: ابن مسعود! جان لو، ابن مسعود! جان لو،جب میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔آپ نے ارشاد فر مایاکہ جتنا تم اس غلام پر قادر ہو اُس سے زیادہ اللہ تم پر قادر ہے۔حضرت ابن مسعود کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے اپنے غلام کو کبھی نہیں مارا۔ (مسلم،حدیث:۱۶۵۹)

۴۔حضرت حکیم بن حزام بیان کرتے ہیں کہ میں ملک شام میں کچھ لوگوں کے پاس سے گزرا جنھیں دھوپ میں کھڑا کرکے اُن کے سروں پر تیل ڈالا جارہا تھا ۔یہ دیکھ کر میں نے کہاکہ یہ کیا معاملہ ہے؟ بتا یا گیا کہ ٹیکس نہ دینے کی وجہ سے سزا دی جارہی ہے۔آپ نے کہا:سن لو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سناہے کہ جو لوگ دنیا میں سزا دیتے ہیں اللہ انھیں یقیناًسزا دےگا۔ (مسلم،حدیث:۲۶۱۳)

۵۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کابیان ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا ،اور پوچھا : یارسول اللہ !میں اپنے خادم کو کتنی بار معاف کروں ؟ حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے،پھر انھوں نے کہا :یارسول اللہ!میں اپنے خادم کو کتنی بار معاف کروں ؟ آپ نے فر مایا: روزانہ ستربار۔ (سنن ترمذی،حدیث:۱۹۴۹)

۶۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضورنبی کریم نے فر مایا:

بد کردار مالک جنت میں نہیں جائےگا۔ (سنن ترمذی،حدیث:۱۹۴۶)

۷۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

جس نے اپنے غلام کو کوئی بری بات کہی اس پر قیامت کے دن حد (یعنی سزا)قائم کی جائے گی ،مگر یہ کہ وہ ویسا ہی ہو(تو نہیں)۔ (ترمذی،حدیث:۱۹۴۷)

۸۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا:

مزدوروں کوپسینہ سوکھنے سے پہلے اجرت دے دو۔ (سنن ابن ماجہ،باب اجرالاجراء ،حدیث:۲۴۴۳)

۹۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

تین قسم کے لوگ ایسے ہیں جن کا قیامت کے دن میں خود مدعی بنوں گا(یعنی اس کے خلاف لڑوں گا)ایک تو وہ شخص جس نے میرے نام پر عہد کیا اور پھر وعدہ خلافی کی (یعنی کسی کو میرا نام لے کر یقین دلادیا اور جب اس نے میرے نام کی وجہ سے یقین کر لیا تو اس نے دھوکا دے دیا)۔دوسرا وہ شخص جس نے آزاد آدمی کو بیچ کر اُس کی قیمت کھا گیااورتیسرا وہ شخص جس نے کسی کو مزدوری پر رکھا ، پھر کام تو اس سے پورا لیا لیکن اس کی مزدوری نہیں دی۔ (بخاری،کتاب الاجارۃ،حدیث:۲۲۷۰)

ان تمام باتوں سے واضح ہوتاہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پاکیزہ تعلیمات پر عمل کیے بغیر ایک صالح معاشرہ کی تشکیل ممکن نہیں ہے۔