أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذۡ قَالَتِ الۡمَلٰٓٮِٕكَةُ يٰمَرۡيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصۡطَفٰٮكِ وَطَهَّرَكِ وَاصۡطَفٰٮكِ عَلٰى نِسَآءِ الۡعٰلَمِيۡنَ‏

ترجمہ:

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم بیشک اللہ نے تمہیں منتخب کرلیا اور تمہیں پاک کردیا اور تمہیں تمام جہان کی عورتوں پر برگزیدگی دی

تفسیر:

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت زکریا (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا تھا جنہوں نے حضرت مریم کی کفالت اور پرورش کی تھی اور اب اس آیت میں خود حضرت مریم کا ذکر فرمایا ہے جن کی انہوں نے پرورش کی تھی۔ اس آیت میں فرمایا ہے جب فرشتوں نے کہا اے مریم ! یہاں فرشتوں سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) ہیں اور ان کو فرشتوں کی جماعت سے اس لئے تعبیر فرمایا ہے کہ انمیں تمام فرشتوں کے کمالات موجود ہیں اور اس کی دلیل یہ ہے کہ سورة مریم میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کی بجائے حضرت جبرائیل کا ذکر فرمایا ہے :

(آیت) ” فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشرا سویا “۔ (مریم : ١٧)

ترجمہ : تو ہم نے ان کی طرف اپنے فرشتے (جبرائیل) کو بھیجا تو وہ مریم کے سامنے مکمل بشر کی صورت میں آیا۔

زیر بحث آیت میں حضرت مریم کے فضائل :

اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کو حضرت مریم (علیہ السلام) کی طرف بھیجا اور ان کی طرف وحی نازل کی۔ اس سے یہ شبہ نہ کیا جائے کہ حضرت مریم نبیہ تھیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نبوت کو صرف مردوں کے لئے مخصوص رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

(آیت) ” وما ارسلنا من قبلک الا رجالا نوحی الیہم من اھل القری “۔ (یوسف : ١٠٩)

ترجمہ : اور ہم نے آپ سے پہلے (بھی) مردوں کے سوا اور کسی کو رسول بنا کر نہیں بھیجا جن کی طرف ہم وحی کرتے تھے جو بستیوں کے رہنے والے تھے۔

اس لیے حضرت مریم کی طرف حضرت جبرائیل کا آنا حضرت مریم کی کرامت اور ولایت کی دلیل ہے اور یہ حضرت عیسیعلیہ السلام کا ارہاص اور حضرت زکریا (علیہ السلام) کا معجزہ بھی ہوسکتا ہے۔

اس آیت میں حضرت مریم کی تین فضیلتیں ذکر فرمائی ہیں اللہ تعالیٰ نے ان کا اصطفاء کیا (ان کو چن لیا۔ منتخب کرلیا) ان کی تطہیر کی اور ان کا تمام جہانوں کی عورتوں پر اصطفاء کیا (تمام جہانوں کی عورتوں میں سے چن لیا اور ان پر فضیلت دی) سو اس آیت میں دو مرتبہ ان کو چن لینے کا ذکر ہے اور دونوں کا معنی الگ الگ ہے۔

پہلے اصطفاء کا معنی یہ ہے کہ عورت ہونے کے باوجود حضرت مریم کو بیت المقدس کی خدمت کے لئے قبول نہیں کیا گیا ‘ حضرت مریم کی پرورش کے دوران ان کے لئے جنت سے بےموسم کے پھل آتے تھے اور حضرت مریم نے بالمشافہ حضرت جبریل کا کلام سنا۔

حضرت مریم کی تطہیر کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو کفر اور معصیت کی آلودگی سے پاک رکھا۔ اسی طرح ہمارے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے متعلق فرمایا :

(آیت) ” انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت ویطھرکم تطھیرا “۔ (الاحزاب : ٣٣)

ترجمہ : اے رسول کے گھر والو ! اللہ یہی ارادہ فرماتا ہے کہ تم کو ہر قسم کی ناپاکی سے دور رکھے اور تمہیں پاک رکھے اور خوب پاکیزہ رکھے۔

نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو مردوں کے چھونے سے پاک رکھا ‘ نیز حضرت مریم کو حیض سے پاک رکھا۔ یہ فضیلت حضرت سیدنا فاطمہ زہراء (رض) کو بھی حاصل تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی حیض سے پاک رکھا۔ علامہ ابن حجر ہیتمی نے لکھا ہے کہ امام نسائی نے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری بیٹی آدمیوں میں حور ہے اس کو حیض اور نفاس نہیں آتا اس کا نام فاطمہ اس لئے ہے کہ اللہ نے اس کو نار سے الگ کردیا۔ (الصواعق المحرقہ ص ١٦٠‘ مطبوعہ مکتبۃ ‘ القاہرہ مصر ١٣٨٥ ھ)

نیز اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو بری عادتوں اور برے کاموں سے پاک رکھا اور یہودیوں نے حضرت مریم پر بدکاری کی جو تہمت لگائی تھی اللہ تعالیٰ نے ان کی تہمت اور بہتان سے حضرت مریم کو پاک اور بری کردیا۔

دوسرے اصطفاء کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کو تمام جہانوں کی عورتوں پر فضیلت عطا فرمائی ہے۔ بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پیدا ہوتے ہی کلام کیا اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور اپنی ماں کی برات اور پاک دامنی بیان فرمائی۔

حضرت مریم کی فضیلت میں احادیث : 

امام ابواحمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابو موسیٰ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مردوں میں بہت کامل ہیں عورتوں میں صرف عمران کی بیٹی مریم اور فرعون کی بیوی آسیہ کامل ہوئی ہیں۔

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عورتوں میں سب سے نیک مریم بنت عمران ہیں اور عورتوں میں سب سے نیک خدیجہ ہیں۔

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد ہیں اور فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں اور مریم بنت عمران ہیں اور فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم ہیں۔ (سنن کبری ج ٥ ص ٩٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ٤١١ اھ)

حافظ سیوطی لکھتے ہیں :

امام احمد ‘ امام ترمذی تصحیح سند کے ساتھ ‘ امام ابن حبان اور امام حاکم حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام جہانوں کی عورتوں سے تمہیں یہ کافی ہیں : مریم بنت عمران ‘ خدیجہ بنت خویلد ‘ فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور فرعون کی بیوی آسیہ۔

امام ابن جریر نے حضرت عمار بن سعد (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت کی عورتوں پر خدیجہ کو اس طرح فضیلت دی گئی ہے جس مریم کو تمام جہان کی عورتوں پر فضیلت دی گئی ہے۔

امام ابن عساکر نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جنت کی عورتوں کی سردار مریم بنت عمران ہیں ‘ پھر فاطمہ ہیں ‘ پھر خدیجہ ہیں ‘ پھر فرعون کی بیوی آسیہ ہیں۔

امام ابن عساکر نے ایک اور سند کے ساتھ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جہان کی سردار چار عورتیں ہیں۔ مریم بنت عمران ‘ آسیہ بنت مزاحم ‘ خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان میں سب سے افضل فاطمہ ہیں۔

امام ابن ابی شیبہ نے عبدالرحمان بن ابی لیلی سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مریم بنت عمران ‘ فرعون کی بیوی آسیہ اور خدیجہ بنت خویلد کے بعد تمام جہانوں کی سردار فاطمہ ہیں۔ (مختصر تاریخ دمشق ج ٢ ص ٣٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ دمشق ‘ ١٤٠٤ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 42