اصل مقصود؟

جہانگیر حسن مصباحی

موجودہ عہد تعلیمی،تجارتی،سیاسی،سماجی،ایجاداتی اوراطلاعاتی ہر اعتبارسے کافی ترقی یافتہ مانا جارہا ہے ،یہاں تک کہ آج چاند پر جانابھی کوئی اچنبھے والی بات نہیں رہ گئی ہے،غرض کہ آج انسان ترقی کی شاہرا ہ پر کوسوں دور نکل چکا ہے۔اس کے باوجود آج انسانیت کی بقاوتحفظ کی بات کی جائے تو اِس تعلق سے بڑی مایوسی ہوتی ہے،کیوں کہ انسانوں کا قتل عام آج بھی اسی طرح ہورہا ہے جیسے صدیوں پہلے ہواکرتاتھا،کہیں مذہب کےنام پر کہیں طبقات کے نام پر تو کہیں مسلک کے نام پر،پہلے بھی بچیوں کو مار دیا جاتا تھا اور آج بھی اُنھیں ماراجارہاہے ،فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے بچیوں کوپیدا ہونے کے بعد ماراجاتاتھا اور آج پیدا ہونے سے پہلے ماں کے پیٹ میں ہی ماردیاجاتا ہے،اورمزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب غیر اخلاقی حرکتیں کوئی جاہل انسان نہیں کررہا، بلکہ یہ حرکتیں وہ کررہے ہیں جو تعلیم وتعلّم کے اعتبارسے اعلی انسانی معاشرت سے تعلق رکھتے ہیں۔

 مزید یہ کہ ملکی وسماجی سطح پر کرپشن ،رشوت خوری،اورکمیشن خوری کاجوبازار گرم ہے وہ بھی ان ہی اعلیٰ سوسائٹی والے تعلیم یافتہ لوگوں کی کارستانی ہے،علاج ومعالجے کا پیشہ جو حصول معاش کے ساتھ خدمت خلق کا بہترین ذریعہ ہے اُسے آج کے ڈاکٹروں نے محض معاشی حصول کا ذریعہ بنارکھا ہے ،درس وتدریس کا پاک پیشہ بھی آج ناپاک بناہواہے کہ تعلیم وتعلّم کے نام پر بے تحاشہ ذخیرہ اندوزی ہورہی ہے،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ جو تعلیم، تعمیر انسانیت میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے وہ آج موقع پرستوں کی وجہ سےتخریب انسانیت کا آلۂ کاربنی ہوئی ہے۔

 اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ تعلیم کی کثرت کے باوجودہمارےدین وملت اورملک وسماج میں فساد کی فضا بنی ہوئی ہے اورجہاں اَمن وآشتی اور سکون واِطمینان کا ماحول ہونا چاہیے وہاں تناؤ کا بازارگرم ہے؟

 اس سلسلے میں عرض ہے کہ دین وملت اورملک ومعاشرے کی صلاح وفلاح اور انسانیت کی بقاوتحفظ کے لیے محض تعلیم و تعلّم کی کثرت کافی نہیں ہے ،بلکہ اس کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ تعلیم وتعلّم سے جڑے افراد کے دل ودماغ میں تعلیم کے اصل مقاصد بٹھائے جائیں اور اُن پر یہ وا ضح کیاجائے تعلیم حاصل کرلینے کامطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ دین وملت اور ملک ومعاشرے سے لاپرواہ ہوکر صرف اور صرف اپنےذاتی مفادکے بارے میں فکرکی جائے،بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیشہ دین و مذہب اورملک وملت کی تعمیرکے لیے فکرمندرہے اور آس پاس کی صلاح وفلاح کے لیے کوشاں رہاجائے، کیوں کہ تعلیم و تعلّم کے بنیادی مقاصد یہی ہیں۔

دوسرے لفظوں میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ تعلیم حاصل کرنے والوں پریہ لازم ہے کہ وہ سب سے پہلےخودکو جہالت کے اندھیرں سے نکال کرعلم وعرفان کےپُرنور شاہراہ پرگامزن کریں،ساتھ ہی ساتھ سب سےپہلے اپنی ذات کی تکمیل کریں،یعنی ہربُری باتوں اورفسادی حرکتوں سے محفوظ رہیں،نیزبلند اخلاق اور اچھےاوصاف کا حامل بنیں،ان کے لیے علم ،محض علم نہ رہے بلکہ یہ قابل تقلیدعمل کی صورت میں لوگوں کے سامنےظاہربھی ہو،وہ اللہ رب العزت اور اُس کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سچےعاشق اورپکےشیدائی ہونے کے ساتھ ساتھ ملک وملت کے مخلص خادم رہیں، نیز صفت الٰہی کہ’’وہ کھلاتا تو ہے لیکن خود نہیں کھاتا‘‘ (وَهُوَ يُطْعِمُ وَلَا يُطْعَمُ انعام(۱۴))کا مظہربھی ہوں، اور عوام الناس کےدرمیان ایسامثالی حسن کردارپیش کریں کہ ان کی ذات پوری انسانیت کے لیے خضرراہ بن جائے۔

اوریہ تبھی ممکن ہے جب ہم تعلیم وتعلّم کے نظام کو محض پیشہ ورانہ طورپر نہ اپنائیں،اُسے محض حصول زر اور ذریعہ معاش بناکر اس کی روحانیت کو ختم نہ کریں،اس کااستعمال جھوٹ،مکراوردغا فریب کے لیےنہ کریں،بلکہ اُس کے نورسےحق کی حمایت اور عدل و انصاف کی تاریک راہوں کومنورکریںتاکہ انسانیت بھی سلامت رہےاور حسن معاشرت کی تعمیر وتشکیل بھی ہو۔

 چنانچہ اس کے لیے لازم ہے کہ طلبااورطالبات کو سب سے پہلے دینی تعلیم دی جائے اور پھراُنھیں دنیوی تعلیم کی طرف متوجہ کرایاجائے۔ اس کا بہترنتیجہ یہ ہوگا کہ دینی تعلیم اُن کے دل ودماغ میں تعلیم کے اصل مقاصدکو راسخ کردے گی اور پھر جب وہ دنیوی تعلیم کے لیے دنیا کی طرف متوجہ ہوںگے تو اُن کے اندر اِس قدر تمیز باقی رہے گی کہ وہ حلال وحرام اور حق وناحق میں واضح فرق بھی کرسکیں گے۔

اب جب کہ دینی مدارس اور یونیورسیٹیوں کی سطح پر تعلیم وتعلّم کا سیشن شروع ہونے والا ہے ، ایسے عالم میں تمام سرپرستوں کی دینی اوردنیوی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تعلیم وتربیت کے تعلق سے غورو فکرکریں کہ کس نہج پراُن کی تعلیم وتربیت کا انتظام کیاجائے،اورکس طرح کے اداروںاور تعلیم گاہوں میں اُن کا داخلہ کرایا جائے، تاکہ ان کا رشتہ تعلیم کے اصل مقاصد سے ٹوٹنے نہ پائے اور وہ اچھے بُرے میں بخوبی تمیزبھی کرسکیں۔

دوسری طرف دینی اورعصری درگاہوں کے سربراہان کا بھی اخلاقی فریضہ ہے کہ تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ طلبااورطالبات کی کچھ ایسی تربیت کریں کہ حصول تعلیم کے بعد وہ محض جاہ وحشمت اور زروجواہر ہی کو اَپنی زندگی کامقصد نہ بنالیں بلکہ اپنے علم وعمل کے نورسے انصاف باہم ،خلق دوستی اور انسانی مروت وہمدردی کی شمع روشن کریں اور اللہ رب العزت کی بستی کو اَمن وآشتی اوراُلفت ومحبت کا گہوارہ بنائیں،ورنہ بصورت دیگرایسی تعلیم سے نہ تو اللہ رب العزت کی معرفت حاصل ہوگی ،نہ ملکی وملی ترقی ہوگی اورنہ ہی انسانیت کا تحفظ ممکن ہوپائےگا،جب کہ یہی اصل مقصود ہے۔