تقوی کیا ہے؟
امان اللہ محمدی مصباحی

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :

یٰاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ (آل عمران۱۰۲)

 ترجمہ:اے ایمان والو!اللہ سے خوف کھاؤ جیساکہ اللہ سے خوف کھانے کا حق ہے۔

اس آیت کریمہ میں ایمان والوں سے فرمایاگیاہے کہ اللہ رب العزت سے اس طرح خوف کھاؤ جیساکہ خوف کھانے کا حق ہے،اور یہ تبھی ممکن ہوگا جب بندےکے اندر ایمان کی حقیقی دولت سما جائے اوراُس کے رگ وپے میں ایمان رچ بس جائے ،ساتھ ہی وہ نیک عمل سے کبھی بھی آسودہ نہ ہو۔

 حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا:

لَا يَشْبَعْ مُؤْمِنٌ سَمِعَ خَيْرًا حَتّٰى يَكُونَ مُنْتَهَاهُ الْجَنَّةَ۔ (شعب الایمان،باب التوکل علی اللہ والتسلیم )

 ترجمہ: مومن جب تک جنت میں نہ پہنچ جائے اس وقت تک نیک عمل سے آسودہ نہیں ہوتا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو سچے مومن ہوتےہیں اور جن کے دلوں میں ایمان وایقان کی نعمت موجودہوتی ہےان کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف ہمیشہ نیک عمل کرتے رہتےہیں بلکہ وہ ہمہ وقت اپنا محاسبہ بھی کرتےرہتے ہیں کہ کہیں ان کا عمل اُنھیں مغرور ومتکبرنہ بنادے اور نتیجے کے طورپروہ جنت حاصل کرنے سے چوک جائے ۔

دنیا میں معمولی عقل رکھنے والابھی اگر کوئی کام کرتا ہے تو اُس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ توتمام عقلوں کاخالق ہے ، چنانچہ وہ اپنے بندے کو اگرکسی عمل کاحکم دے رہا ہے تو یقیناًاس میں اس کی کوئی نہ کوئی حکمت ہوگی اور وہ حکمت یہ ہے کہ اس کابندہ ہر طرح کی برائیوںسے منھ موڑکر صرف اس کی طرف متوجہ ہوجائےاورتقویٰ اختیارکرکے اللہ کے محبوب ومقبول بندوں میں شامل ہوجائے۔

 تقویٰ کا لغوی معنی 

علامہ راغب اصفہانی لکھتے ہیں کہ تقویٰ کا معنی ہے کسی ڈرانے والی چیز سے نفس کو بچانا اور اُس کی حفاظت کرنا ۔

تقوی کا اصطلاحی معنی 

 علامہ میر سید شریف جرجانی نے تقویٰ کی مختلف تعریفیں کی ہیں،مثلاً:

اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرکے نفس کومعصیت و نافرمانی کے عذاب سے بچانا تقویٰ ہے ۔

اللہ کے ما سوا سے خود کو محفوظ کرنا تقویٰ ہے۔

آداب شریعت کی حفاظت کرنا تقویٰ ہے ۔

ہر وہ کام جو اللہ رب العزت سے دور کر دے اس سے خود کو باز رکھنا تقویٰ ہے۔

حظوظ نفسانیہ کو ترک کرنا اور ممنوعات سے دور رہنا تقویٰ ہے۔

اپنے آپ میں اللہ کے سوا کسی کو نہ دیکھناتقویٰ ہے ۔

اپنے آپ کو بہتر گمان نہ کرنا تقوی ہے۔

اللہ کے سوا ہر چیزکو ترک کردینا تقویٰ ہے ۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی قولاً اور فعلاً اقتدا کرنا تقویٰ ہے۔ (تبیان القرآن ج :۱ ،ص:۲۵۳ -۲۵۴ )

 تقویٰ کی ان تمام تعریفوں میں باہم کوئی اختلاف نہیں، بلکہ یہ سب تقویٰ کی الگ الگ صورتیں ہیں اور اِن کا مجموعہ تقویٰ ہے۔

 تقویٰ کا مقام 

 تقویٰ کا مقام بہت عظیم اور بلند ہے ،اہل تقویٰ کو اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔

ارشادباری تعالیٰ ہے :

إِنَّ اللهَ مَعَ الَّذِينَ اتَّقَوْا(نحل۱۲۸)

 ترجمہ: بےشک اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔

ایک دوسرے مقام پر اللہ کاارشادہے :

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ (حجرات۱۳)

 ترجمہ: بے شک اللہ کے نزدیک تم میں سب سے مکرم و معززوہ ہے جو تم میں سب سےزیادہ متقی ہے۔

اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے اور ہر معاملے کو آسان فرما دیتا ہے اور اُسے وہاں سے رزق عطا فرما تا ہے جہاں اُس کا گمان بھی نہیں پہنچ سکتا۔

اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَلْ لَهٗ مَخْرَجًا(۲)وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ(۳)(طلاق)

ترجمہ:جو شخص اللہ سے خوف کھاتاہے اللہ اُسے خوشحالی عطا فرمادیتاہے اوراُسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتاہے جس کے بارے میں وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔

نیز متقی جوبھی کام کرتا ہے اللہ رب العزت اس کے اعمال کو قبول کرنے کی ضمانت دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

 إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِيْنَ(مائدہ۲۷)

 ترجمہ:متقیوں کا عمل اللہ یقیناً قبول فرماتاہے۔

پھرجب بندوں کے اعمال قبول فرما لیتا ہے تو گویا اُسے بخشش کا پروانہ مل جاتاہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

وَ یُنَجِّی اللّٰهُ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا(زمر۶۱)

 ترجمہ:اللہ متقیوں کو کامیابی عطا فرماتاہے۔

جب اللہ کسی کو بخشتا ہے تو وہ اُسے اپنا دوست بنا لیتا ہے اوراُسے ولایت کی عظیم نعمت سے سرفراز فرما تا ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ (انفال۳۴)

 ترجمہ:بے شک متقین ہی اللہ کے دوست ہیں۔

تقویٰ اوراحادیث کریمہ

امام احمد بن حنبل روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو نضرہ کابیان ہے:

 جس شخص نے ایام تشریق کے وسط میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے خطبہ سنا،اُس نے یہ حد یث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اے لوگو!یہ جان لو کہ تمہارا رب ایک ہے ،تمہارا باپ ایک ہے ۔نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر فضیلت حاصل ہے، نہ کسی عجمی کوکسی عربی پر فضیلت حاصل ہے۔ نہ گورے کو کالے پر فضیلت حاصل ہے،نہ کسی کالے کو گورے پر فضیلت حاصل ہے مگرہاں! فضیلت صرف تقویٰ کی بنیادپر ہے۔ (تبیان القرآن، ج:۱ص:۲۵۷ )

 نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ ایک دوسرے سے حسد نہ کرو ،تنافس(کسی کو پھنسانے کے لیے زیادہ قیمت لگانا ) نہ کرو ، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو،ایک دوسرے سے روگردانی نہ کرو،کسی کی بیع پر بیع نہ کرو،اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جائو۔ مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے،کوئی اس پر ظلم نہ کرے ،اس کو رسوا نہ کرے ،اس کو حقیر نہ جانے۔پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے تین بار یہ ارشاد فرمایاـکہ تقویٰ یہاںہے ۔کسی شخص کے برا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو برا جانے۔ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر مکمل حرام ہے، اس کا خون،اس کا مال اور اس کی عزت سب حرام ہے۔ (تبیان القرآن، ج:۱،ص،:۲۵۶ )

 اس کے بعدجب متقین دنیا سے انتقال کر جائیں گے تو اُن کا ٹھکانہ جنت ہوگا جس میں ہرطرح کی نعمتیں ہوں گی۔

 اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًا(۳۱) حَدَآىِٕقَ وَ اَعْنَابًا(۳۲) وَّ كَوَاعِبَ اَتْرَابًا(۳۳) وَّ كَاْسًا دِهَاقًا(۳۴) لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا وَّ لَاكِذّٰبًا(۳۵) جَزَآءً مِّنْ رَّبِّكَ عَطَآءً حِسَابًا(نبا۳۶)

یعنی متقین کےلیے کامیابی کی جگہ (جنت)ہے، باغات ہیںاورانگور،دوشیزائی ںہیں اورچھلکتاجام۔اس میں نہ وہ لغوبات سنیں گے اور نہ ایک دوسرے کو جھٹلائیں گے۔ یہ ساری چیزیں انعام کے طورپرآپ کے رب کی طرف سے ہوگی اوربھرپور عطا ہوگی ۔

 ان تمام باتوں سے واضح ہوگیا کہ متقیوں کے لیے نہ صرف قرب الٰہی میں خاص مقام حاصل ہوتا ہے بلکہ انھیں ہر امتحان میں کامیابی کے ساتھ طرح طرح کی نعمتوں سے بھی نوازاجاتا ہے ۔