خرافات کیسے جنم لیتی ہیں؟

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر خرافات کے حوالے سے

میری والدہ محترمہ مرحومہ اللہ تعالی ان کی قبر پر کروڑوں رحمتوں کا نزول فرمائے… والدہ صاحبہ اپنے علاقائی شادی بیاہ کے رسم و رواج کے حوالے سے داستان سنایا کرتی تھیں کہ جب کسی کی بیٹی کی شادی کا موقع آتا تو دن مقرر کرتے ہی پورے محلے والے خبردار ہو جاتے پورے محلے اور برادری کے لوگ اپنی اپنی بساط کے مطابق کلو دو کلو چار کلو ہاتھ کی بنی ہوئی سویاں اپنے گھروں میں تیار کرتے اور گڑ یا شکر ساتھ دیسی گھی ،، مہندی،، والے دن لڑکی والوں کے گھر میں ہر کوئی اپنی اپنی بساط کے مطابق چیزیں لے کر آ جاتا ان دنوں ابھی،، مہندی،، نہیں ہوتی تھی،، تیل،، ہوتا تھا.. اس طرح محلے والوں کے تعاون سے بیٹی والے گھر میں،، بارات،، کو سنبھالنے کے حوالے سے کوئی مشکل نہ ہوتی آسانی سے تمام معاملات سمیٹ لیے جاتے اور بیٹی پیا گھر سدھار جاتی..

اس زمانے تک بغیر لکھت پڑھت کے،، نیندرا ،، تھا…

پھر،، نیندرا،، لکھا جانے لگا اور اکثر جگہوں پر ڈبل کا مطالبہ بھی سامنے آنے لگا

آج وہی تمام باتیں خرافات کی حد تک بگڑ چکی ہیں،، تیل،، مہندی میں بدل گیا،، مہندی،، ناچ گانا میں بدل گئی شادی بیاہ میں احساس کم اور کمرشلزم زیادہ نظر آنے لگا…

کیا شادی بیاہ بند کر دو گے، نکاح کرنا بند کر دو گے یا صرف خرافات مٹاؤ گے؟

کچھ زمانہ پیچھے چلے جائیں جب جمہوریت نہیں تھی تو لوگوں کو اپنے مطالبات منوانے کے لیے. اپنی طاقت دکھانے کے لئے. کسی شخصیت کا پرچار کرنے کے لئے روڈوں پر آنے کی یا تو طاقت نہیں تھی یا ضرورت نہیں تھی..

پھر جمہوریت کا بول بالا ہوا تو جمہوریت میں وہی بات اس قابل سمجھی جاتی ہے.

جدھر ووٹ زیادہ ہوں.

جدھر تعداد زیادہ ہو.

سیاستدانوں نے اپنی بات بنوانے کے لئے اپنی طاقت دکھائی..

کسی نے اپنا مطالبہ منوانے کے لئے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا..

تو پھر اہل محبت نے یہ سوچا کہ کیوں نہ ہم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تعارف اور پہچان کروانے کے لئے اپنی تعداد اور اپنی اہمیت ظاہر کرنے کے لئے اسی جمہوری رستے کو منتخب کریں .

اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا تعلق لوگوں کو بتانے. اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت کا اظہار کرنے کے لئے جلوس میلاد کا انتظام کیا…

دوستو ایک بار جمہوری انداز سے دیکھو تو سہی کہ جیتتا وہی ہے جس کے پاس ایک ووٹ بھی زیادہ ہو….

مگر نہ جانے کیا ہوا کہ جلوس میلاد میں ایک گندا ووٹ آجانے سے باقی سب کی پاکیزہ محنت کو ضائع تصور کرتے ہو…

اگر زمانہ کی تبدیلی کی بات کی جائے تو سینکڑوں سال پہلے اور آج کی آرائش شدہ مساجد، طواف، وقوف، عرفہ و منی، ذرائع مواصلات و اتصالات سب کے سب روز بروز تبدیلی اور جدت کی جانب گامزن ہیں کہاں کہاں صحابہ کرام کے ادوار کی مماثلت تلاش کرو گے؟

تمہیں پاکیزہ جسم نظر نہیں آتا لیکن جسم پر بیٹھی ہوئی ایک گندی مکھی نظر آجاتی ہے اس کی وجہ سے پورے جسم کو گندا تصور کرتے ہو…

آپ اپنے گھر سے ایک صاف شفاف گاڑی لے کر نکلتے ہو راستہ میں گلی کیچڑ زدہ ھے آپکی گاڑی آپ کے نہ چاھتے ھوئے بھی کیچڑ آلود ہو جاتی ہے گاڑی بند کر دو گے یا کیچڑ صاف کرو گے..

آپ کسی مقام پر بیٹھے ہیں کوئی پرندہ آپ پر غلاظت گرا جاتا ہے کیا اس کی وجہ سے اپنے آپ سے نفرت کرو گے یا اس غلاظت کو صاف کرو گے..

ھم غلط بات غلط امور کا ھرگز ھرگز دفاع نہیں کریں گے جو بات غلط ہے وہ غلط ہے.. تم بھی آؤ ہمارے ساتھ ان غلطیوں کو مٹانے میں ہماری معاونت کرو……..

مگر اس کی آڑ میں یہ اجازت ہم کسی کو نہیں دے سکتے کہ کوئی ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کے اظہار کا حق چھینے یا اس کی بات بھی کرے..

لیکن کسی کی غلطیوں اور کسی جاہل کے ذاتی افعال کو اکثریت کے ساتھ منسوب کرنا تعصب اور بغض نہیں تو اور کیا ہے؟

تحریر :- محمد یعقوب نقشبندی اٹلی