أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ذٰ لِكَ مِنۡ اَنۡۢـبَآءِ الۡغَيۡبِ نُوۡحِيۡهِ اِلَيۡكَ‌ؕ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يُلۡقُوۡنَ اَقۡلَامَهُمۡ اَيُّهُمۡ يَكۡفُلُ مَرۡيَمَ ۖ وَمَا كُنۡتَ لَدَيۡهِمۡ اِذۡ يَخۡتَصِمُوۡنَ

ترجمہ:

یہ غیب کی بعض خبریں ہیں جن کی ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں اور آپ (اس وقت) ان کے پاس نہ تھے جب وہ (قرعہ اندازی) کے لئے اپنے قلموں کو ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے گا اور آپ ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ غیب کی بعض خبریں ہیں جن کی ہم آپ کی طرف وحی فرماتے ہیں اور آپ (اس وقت) ان کے پاس نہ تھے جب وہ (قرعہ اندازی) کے لئے اپنے قلموں کو ڈال رہے تھے اور آپ ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑ رہے تھے۔۔ (آل عمران : ٤٤)

سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلیل :

ان آیات میں حضرت زکریا ‘ حضرت یحییٰ (علیہما السلام) اور حضرت (رض) کے گذشتہ واقعات کی خبر دی گئی ہے اور یہ غیب کی وہ خبریں ہیں جن پر آپ از خود مطلع تھے نہ آپ کی قوم کا کوئی اور فرد مطلع تھا ‘ نہ آپ نے مکتب میں جا کر کسی سے ان کے متعلق کچھ سنا تھا نہ کسی کتاب میں پڑھا تھا اور نہ ہی آپ ان کے زمانہ میں موجود تھے کہ آپ نے ان واقعات کا مشاہدہ کرلیا ہو۔ خلاصہ یہ ہے کہ کسی چیز کا علم کا ذریعہ اس چیز کا مشاہدہ کرنا ہے یا اس چیز کے متعلق پڑھنا ہے یا اس کے متعلق کسی سے کچھ سننا ہے اور یہ تینوں ذرائع منتفی تھے تو ثابت ہوگیا کہ آپ نے ان گذشتہ واقعات کی جو صحیح صحیح خبریں بیان کی ہیں انکے علم کا ذریعہ صرف اللہ تعالیٰ کی نازل کی ہوئی وحی تھی ‘ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل کے ذریعہ وحی نازل کر کے آپ کو ان واقعات سے باخبر کیا اور آپ پر وحی نازل کرنے کا ثبوت آپ کی نبوت کا ثبوت ہے۔ سو مشرکین اور اہل کتاب دونوں کے نزدیک آپ کی نبوت ثابت ہوگی کیونکہ آپ کے بیان کردہ واقعات ان کی کتابوں میں لکھے ہوئے واقعات کے مطابق تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعات اور حالات سے بھی آپکو وحی سے مطلع فرمایا اور یہ تمام واقعات اہل کتاب کی کتابوں میں مذکور تھے اور سیدنا حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امی تھے آپ نے کسی انسان سے پڑھے یا سنے بغیر یہ تمام واقعات بیان فرمائے یہ بھی آپ پر وحی نازل ہونے اور آپ کی نبوت کا ثبوت ہے ‘ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان واقعات کو بیان کرکے فرمایا :

(آیت) ” تلک من انبآء الغیب نوحیھا الیک ماکنت تعلمھا انت ولا قومک من قبل ھذا (ھود : ٤٩)

ترجمہ : یہ غیب کی بعض خبریں ہیں جن کی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں نہ آپ (از خود) انہیں جانتے تھے اور نہ اس سے پہلے آپ کی قوم کے لوگ۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات سے آپ کو مطلع فرمایا اور اس کے بعد فرمایا :

(آیت) ” وما کنت بجانب الغربی اذ قضینا الی موسیٰ الامر وما کنت من الشہدین “۔ (القصص : ٤٤)

ترجمہ : اور آپ طور کی جانب غربی میں موجود نہ تھے جب ہم نے موسیٰ کو رسالت کا حکم بھیجا اور اس وقت آپ حاضرین میں سے نہ تھے۔

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علم غیب کا بیان :

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبیوں کے احوال سے آپ کو مطلع فرمایا اور یہ اطلاع صرف وحی کے ذریعہ حاصل ہوئی اور وہی کا ثبوت آپ کی نبوت کا ثبوت ہے نیز ان آیات میں یہ بھی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو علم غیب عطا فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ آپ کو علم عطا فرمایا ہے۔ ہم نے (آیت) ” یؤمنون بالغیب “ کی تفسیر میں علم غیب پر تفصیل سے بحث کی ہے خلاصہ یہ ہے کہ یہ عقیدہ رکھنا اور یہ کہنا صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے غیوب میں سے بعض کا علم عطا فرمایا ہے لیکن آپ کو عالم الغیب کہنا صحیح نہیں ہے۔ اسی طرح مطلقا ‘ یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ آپ کو غیب کا علم ہے ‘ امام احمد رضا قادری نے میر سید شریف سے نقل کیا ہے کہ جب علم غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے متبادر ذاتی ہوتا ہے۔ (الملفوظ ج ٣ ص ٤٧‘ مطبوعہ نوری کتب خانہ لاہور) ہاں یہ کہنا درست ہے کہ آپ کو غیب کا علم دیا گیا ہے یا آپ غیب پر مطلع کئے گئے ہیں ‘ قرآن مجید کی جن آیات میں آپ سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے ان کا معنی یہ ہے کہ اللہ کے بتلائے بغیر یا اس کی وحی کے بغیر آپ از خود غیب کو نہیں جانتے اور اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کی تعلیم سے ہر چیز آپ پر منکشف ہوگئی اور آپ نے اس کو جان لیا ‘ امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت معاذ بن جبل (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا دست قدرت رکھا میں نے اس کی انگلیوں کی پوروں کی ٹھنڈک اپنے سینہ میں محسوس کی پھر ہر چیز مجھ پر منکشف ہوگئی اور میں نے اس کو جان لیا ‘ امام ترمذی کہتے ہیں میں نے امام بخاری سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا انہوں نے کہا یہ حدیث صحیح ہے۔ (جامع ترمذی ج ٢ ص ‘ ٤٦٦‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

مذکور الصدر حدیث کو طابع نور محمد نے جامع ترمذی کے حاشیہ پر لکھ دیا ہے اور فاروقی کتب خانہ ملتان کے مطبوعہ نسخہ میں یہ حدیث اصل کے مطابق کتاب کے متن میں موجود ہے۔ (جامع ترمذی ج ٢ ص ‘ ١٥٦۔ ١٥٥‘ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

اسی طرح محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی کے مطبوعہ نسخہ میں بھی یہ حدیث مذکور ہے۔ (جامع ترمذی ج ٢ ص ‘ ١٧٨‘ مطبوعہ محمد سعید اینڈ سنز قرآن محل کراچی)

اور تحفۃ الاحوذی شرح ترمذی کے متن میں بھی یہ حدیث مذکور ہے۔ (تحفۃ الاحوذی شرح ترمذی ج ٤ ص ١٧٥‘ ١٧٣‘ مطبوعہ نشر السنہ ملتان)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 44