سیکولر ازم کا روپ ہر ملک میں مختلف ہے۔ لیکن پوری دنیا میں اس کے ہاں ایک قدر مشترک ہے۔ یہ ہندوازم، بدھ ازم، عیسائیت وغیرہ کے خلاف نہیں۔ یہ اجتماعی زندگی میں ہولی، دیوالی، کرسمس وغیرہ کو پسند کرتا ہے۔ لیکن اس کی جان جمعے کے خطبے سے نکلتی ہے۔ اسے عید کا اجتماع دیکھ کر موت پڑجاتی ہے۔ دنیا پوری کروڑوں ٹن بیف کا باربی کیو بنالے، آسٹریلیا کی بھیڑوں کے کروڑوں تکا بوٹی بناکر کھائے جائیں اسے جانوروں کے حقوق یاد نہیں آتے لیکن ایک دن عیدالاضحی کی قربانی اسے زہر لگتی ہے۔ اسے کرسمس کی فضول خرچی بری نہیں لگتی لیکن حج پر جانے والوں کے یا میلاد النبی پر خرچے کا حساب کرتا ہے۔

دنیا بھر میں ٹورازم انڈسٹری سے اربوں ڈالر کمانا ترقی کی علامت ہے لیکن اسے عمرے کا ایک سادہ سا سفر برا لگتا ہے۔ ہندو کروڑوں کی تعداد میں ہر دوار‘ بنارس اور کنبھ جائیں تو سیکولر کو کچھ نہیں ہوتا۔ ویٹیکن سٹی میں لوگ لاکھوں کی تعداد میں پوپ کی زیارت کو آئیں تو کسی لبرل کا دل نہیں جلتا۔ چرچ کی راہبائیں حجاب پہنیں‘ یہودی عورتیں شٹل کاک برقعہ پہنیں‘ اس کو برا نہیں لگتا لیکن وہ مسلمان عورت کے حجاب پر تلملا اٹھتا ہے۔ یہ ہے سیکولرازم کا اصل دکھ اور اس کا اصل چہرہ۔ ان کی کتابیں، ان کے رسالے، ان کی ویب سائٹس، ان کے فیس بک پیجز اٹھالیں آپ کو صرف اور صرف اسلام اور شعائر اسلام سے نفرت ملے گی.