عمل

 

علم بغیر عمل کے ایسے ہی ہے جیسے درخت بغیر پھل کے ۔یہ کتنی بڑی منافقت ہوگی کہ ہم کہیں کچھ ـ،اور کریں کچھ ۔خالقِ کائنات جل جلالہ نے ارشاد فرمایا ۔

’’ اَتأمُرُوْنَ النَّاسَ بِالبِرِّوَتَنْسَوْن َاَنْفُسَکُمْ ‘‘(پارہ۱؍ رکوع۵؍آیت ۴۳؍البقرہ) ترجمہ:۔’’کیا لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اور اپنی جانوں کو بھولتے ہو ‘‘(کنزالایمان )

ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم جو دعوت لوگوں کو دیں اس دعوت کا اوّلیں مخاطب اپنی ذات کو بنائیں اپنے وجود کو مکمّل اسلامی وجود میں رنگ ڈالیں ہمارا ایک ایک عمل اسلام کے دائرے میں ہو ۔اگر ہم نے اپنی ذات کو دعوت سے محروم رکھا اور ساری کائنات میں دین کی دعوت پہنچانے میں سر گرداں رہے تویہ اپنی دعوت کا مذاق اڑانا نہیں تو اور کیا ہے ؟اور کھلی ہوئی منافقت نہیں تو اور کیا ہے ؟ اور ایسا کرنے میں دارین میں رُسوائی کے علاوہ اور کیا ہاتھ آئے گا ؟۔

داعی کا کردار قوم کے لئے نمونئہ عمل ہوتا ہے ۔داعی کی بے عملی اور سستی کو دلیل بنا کر اگر کوئی جاہل بے عملی کا شکار ہو گیاتو انجام کتنا خطر ناک ہوگا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے اللہ عزّ وجل ہم سب کو اپنے پیارے حبیب ﷺکے صدقہ وطفیل میں دارین کی رُسوائی سے بچائے ۔آمین ۔