حدیث نمبر :199

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگ سونے چاندی کی کانوں کی طرح مختلف کانیں ہیں ۱؎ جو کفر میں اعلٰی تھے وہ اسلام میں بھی اعلٰی ہیں جب کہ عالم بن جائیں ۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی صورت میں تمام انسان یکساں مگر سیرت،اخلاق اور صفات میں مختلف جیسے ظاہری زمین یکساں اس میں کانیں مختلف،نیک سے نیکی ظاہر ہوگی اور بد سے بدی۔

۲؎ یعنی جو زمانہ کفر میں عمدہ اخلاق،بہترین صفات کی وجہ سے اپنے قبیلوں کے سردار تھے جب وہ مسلمان ہو کر علم سیکھ لیں تو مسلمانوں میں سردار ہی رہیں گے،اسلام سے عزت بڑھتی ہے گھٹتی نہیں۔وہ لوگ اسلام سے پہلے کیچڑ میں لتھڑے ہوئے لعل تھے۔مسلمان ہو کر عالم بنے،دھل کر صاف ہوگئے۔اس سے معلوم ہوا کہ نومسلموں کو حقیر جاننا بہت برا ہے۔اورکفار کا سردارمسلمان ہوکرمسلمانوں کا سردار ہی رہے گا اسے گرایا نہ جائے گا۔