أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰمَرۡيَمُ اقۡنُتِىۡ لِرَبِّكِ وَاسۡجُدِىۡ وَارۡكَعِىۡ مَعَ الرّٰكِعِيۡنَ

ترجمہ:

اے مریم اپنے رب کی فرمانبرداری کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے مریم اپنے رب کی فرمانبرداری کرو اور سجدہ کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ (آل عمران : ٤٣)

زیر بحث آیت میں سجدہ کے ذکر کو رکوع کے ذکر پر مقدم کرنے کی توجیہات : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم پر اپنے مخصوص انعامات کا ذکر فرمایا تھا۔ اس آیت میں ان انعامات پر شکر ادا کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ عبادت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس آیت میں یہ سوال وارد ہوتا ہے کہ نماز میں پہلے رکوع ہے اور پھر سجدہ ہے اس لئے بہ ظاہر پہلے رکوع اور پھر سجدہ کا ذکر کرنا چاہیے تھا جبکہ اس آیت میں اس کے برعکس پہلے سجدہ اور پھر رکوع کا ذکر ہے اس کی کیا توجیہہ ہے ‘ علماء اسلام نے اس کی متعدد توجیہات بیان کی ہیں بعض ازاں یہ ہیں :

(١) نماز سے مقصود اللہ کے سامنے عاجزی پیش کرنا اور ذلت کا اظہار کرنا ہے اور سجدہ میں انتہائی عاجزی اور ذلت کا اظہار ہے کیونکہ سجدہ میں انسان اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ دیتا ہے اور اپنے جسم کے مکرم اور مشرف عضو کو اس جگہ رکھ دیتا ہے جو لوگوں کے پیروں تلے آتی ہے اور چونکہ نماز کا اہم مقصود سجدہ سے ادا ہوتا ہے اس لئے اس آیت میں پہلے سجدہ کا اور پھر رکوع کا ذکر فرمایا ہے۔

(٢) بندے کو اللہ تعالیٰ کا زیادہ قرب سجدہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” واسجدو واقترب “۔ (العلق : ١٩)

ترجمہ : سجدہ کرو اور (اللہ سے مزید) قریب ہوجاؤ۔

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ بندہ کو اللہ کا سب سے زیادہ قرب اس وقت حاصل ہوتا ہے جب وہ سجدہ کر رہا ہو۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٩١‘ مطبوعہ کراچی)

معدان بن ابی طلحہ بیان کرتے ہیں کہ میری ملاقات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام حضرت ثوبان سے ہوئی ‘ میں نے کہا مجھے ایسا عمل بتلائیے۔ آپ خاموش ہوگئے میں نے سوال کیا آپ پھر خاموش ہوگئے میں نے تیسری بار سوال کیا تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال کیا تھا آپ نے فرمایا تم اللہ کے لئے بکثرت سجدے کرو ‘ کیونکہ جب تم اللہ کے لئے ایک سجدہ کرتے ہو تو اللہ اس سے تمہارے ایک درجہ کو بلند کرتا ہے اور تمہارے ایک گناہ کو مٹا دیتا ہے۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٩٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)

اس آیت اور ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سجدہ وہ عمل ہے جو بندہ کو خدا کے قریب کرتا ہے اور یہ اللہ کے نزدیک محبوب عمل ہے اس لئے اس آیت میں سجدہ کو رکوع پر مقدم کیا گیا ہے۔

(٣) احادیث میں نماز کو سجدہ سے بھی تعبیر کیا گیا ہے۔

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عائشہ (رض) نے عروہ بن الزبیر سے فرمایا کہ اے میرے بھانجے ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی میرے پاس عصر کے بعد دوسجدوں (دو رکعت نماز) کو ترک نہیں کیا (صحیح بخاری ج ١ ص ٨٣‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ظہر سے پہلے دو سجدے (دو رکعت نماز) کئے اور ظہر کے بعد دو سجدے اور مغرب کے بعد دو سجدے اور عشاء کے بعد دو سجدے اور جمعہ کے بعد دو سجدے۔ رہی مغرب اور عشاء تو وہ آپ نے گھر میں پڑھی۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ١٥٧۔ ١٥٦ مطبوعہ کراچی) یعنی مغرب اور عشاء کے نفل۔

اور کسی چیز کو اس کے اعلی اور اشرف جز کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے اور نماز کو سجدہ سے تعبیر کرنا اس بات کی علامت ہے کہ سجدہ نماز کے اجزا اور ارکان میں اعلی اور اشرف رکن ہے اس لئے یہاں سجدہ کو رکوع پر مقدم کیا گیا ہے۔

(٤) علاوہ ازیں وادمطلقا ‘ جمع کے لئے آتی ہے اس کا تقاضا ترتیب نہیں ہے اس لئے آیت میں سجدہ کا پہلے مذکور ہونا اس کو مستلزم نہیں ہے کہ نماز میں بھی پہلے سجدہ ہو اور پھر رکوع ہو اور یہاں مقدم ذکر کرنے کی وہ وجوہ ہیں جو ہم نے ذکر کیا ہیں اور جن آیات میں پہلے رکوع کا اور پھر سجدہ کا ذکر ہے وہ اصل کے مطابق ہے اور توجیہ اس کی کی جاتی ہے جو خلاف ظاہر ہو۔

(٥) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت زکریا کی شریعت میں سجدہ رکوع سے پہلے ہو۔

(٦) اور یہ بھی احتمال ہے کہ سجدہ کرو سے مراد یہ ہو کہ تنہا نماز پڑھو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو اس سے مراد یہ ہو کہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھو ‘ اور انہیں یہ حکم دیا گیا ہو کہ بیت المقدس کے مجاورین کے ساتھ مل کر جماعت کے ساتھ نماز پڑھیں اور ان میں مختلط نہ ہوں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سجدہ کے حکم سے مراد نماز پڑھنا ہو اور رکوع کے حکم سے مراد خضوع وخشوع ہو۔

بچہ کی پرورش کرنیکے حقداروں کا بیان : 

حضرت مریم کی پرورش ان کی خالہ نے کی اس سے معلوم ہوا کہ دور کے رشتہ داروں میں پرورش کرنے کی زیادہ حقدار بچہ کی خالہ نے کی اس سے معلوم ہوا کہ دور کے رشتہ داروں میں پرورش کرنے کی زیادہ حقدار بچہ کی خالہ ہے ‘ امام ترمذی روایت کرتے ہیں :

حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا خالہ بہ منزلہ ماں ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٢٨٣ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

نیز امام بخاری نے حضرت براء بن عازب (رض) سے روایت کیا ہے کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صلح حدیبیہ کے بعد مکہ سے روانہ ہونے لگے تو حضرت حمزہ (رض) کی بیٹی عمارہ بھی اے چچا اے چچا کہتی ہوئی آپ کے ساتھ چل پڑی ‘ حضرت علی (رض) نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور حضرت فاطمہ (رض) سے کہا اپنی چچازاد بہن کو لے لو۔ انہوں نے اس کو اٹھالیا پھر اس کی پرورش کے متعلق حضرت علی (رض) ‘ حضرت زید بن حارثہ اور حضرت جعفر میں نزاع ہوا۔ حضرت علی (رض) نے کہا میں اس کا زیادہ حق دار ہوں یہ میرے چچا کی بیٹی ہے۔ حضرت جعفر نے کہا یہ میرے چچا کی بیٹی ہے اور اس کی خالہ میرے نکاح میں ہے حضرت زید نے کہا یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خالہ کے حق میں فیصلہ کردیا اور فرمایا خالہ (پرورش کرنے میں) بہ منزلہ ماں ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ٣٧٢‘ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع کراچی ١٣٨١ ھ)

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی لکھتے ہیں :

جب خاوند اور بیوی میں تفریق ہوجائے تو ماں پرورش کی زیادہ حقدار ہے کیونکہ امام ابوداؤد نے حضرت عبداللہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے بیٹے کے لئے میرا پیٹ ظرف تھا اور میری گود خیمہ تھی اور میرا پستان ڈول تھا اور اب اس کا باپ اس کو مجھ سے چھیننا چاہتا ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک تم کہیں شادی نہ کرو اس کی پرورش کی تم زیادہ حقدار ہو نیز ماں زیادہ شفیق ہوتی ہے اور پرورش کرنے زیادہ قادر ہوتی ہے اس لئے پرورش کرنے کے لئے وہ زیادہ مناسب ہے اور پرورش کا خرچ باپ پر ہوگا اور ماں کو پرورش کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اگر بچہ کی ماں نہ ہو تو دادی سے نانی اولی ہے اور اگر نانی نہ ہو تو بہنوں سے دادی اولی ہے ‘ اور اگر دادی نہ ہو تو پھوپھی اور خالہ سے بہنیں اولی ہیں ‘ اور ایک قول یہ ہے کہ خالہ اولی ہے کیونکہ امام ابو داؤد نے حضرت علی (رض) سے روایت کی کہ خالہ والدہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ (آیت) ” ورفع ابویہ علی العرش “ (یوسف : ١٠٠) حضرت یوسف نے اپنے ماں باپ کو عرش پر بٹھایا۔ اس کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ وہ ان کی خالہ اور ان کے والد تھے۔ پھر خالہ ‘ پھوپھی سے اولی ہے کیونکہ اس کی ماں کے ساتھ قرابت ہے اور اگر بچہ کی ماں کی طرف سے کوئی رشتہ دار نہ ہو اور مرد پرورش کرنے میں نزاع کریں تو ان میں سے جو باپ کا زیادہ قریب رشتہ دار ہوگا وہ پرورش کرے گا ‘ ماں اور نانی بچہ کی پرورش کی اس وقت زیادہ حقدار ہیں جب تک کہ اگر وہ لڑکا ہو تو خود سے کھانے پینے اور کپڑے پہننے لگ جائے اور خود سے استنجاء کرنے لگے اور اگر لڑکی ہو تو اس کے بالغ ہونے تک ماں اور نانی کو پرورش کرنے کا حق ہے کیونکہ عورتوں کی تربیت وہی کرسکتی ہیں اور اس کے بعد لڑکی کی حفاظت کی ضرورت ہوگی اور اس کی طاقت باپ زیادہ رکھتا ہے ‘ اگر مطلقہ عورت بچہ کو لے کر کسی اور شہر جانا چاہے تو یہ اس کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں باپ کو ضرر ہے ہاں اگر اپنے وطن لے جانا چاہے جس شہر میں اس کی شادی ہوئی تھی تو پھر جائز ہے۔ (ہدایہ اولین ص ٤٣٦۔ ٤٣٤ مطبوعہ مکتبہ شرکت علمیہ ملتان)

اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مریم بہت عبادت کرنے والی اور اللہ سے بہت ڈرنے والی اور اس کی فرمانبردار بندی تھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت مریم کے علاوہ اور کسی عورت کا نام نہیں لیا۔ اس میں ان گمراہ فرقوں کا لطیف رد ہے جو حضرت مریم کو اللہ کی بیوی کہتے تھے ‘ کیونکہ معروف یہ ہے کہ لوگ باقی عورتوں کا نام لیتے ہیں اور اپنی بیوی کا نام نہیں لیتے۔ اس کا کنایتا ذکر کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے تمام عورتوں کا کنایتا نام لیا سوا حضرت مریم کے۔#

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 43