کیا اسلام بزور شمشیر پھیلا؟

ابن داؤد محمد گل فراز رضوی

یہودونصاریٰ نے ہمیشہ مسلمانوں پر یہ الزام لگایا کہ دین اسلام پیغمبر اسلام اور صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے تلوار کے ذریعے پھیلایا ہے حالانکہ یہ الزام غلط ہے اور اسلام کے بارے میں غیر جانبدارانہ مطالعہ پر مشتمل ہے۔ تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ غیر مسلموں نے اسلامی تہذیب و تمدن سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا۔ تاتاریوں نے جب اسلامی دارالخلافہ بغدادکی اینٹ سے اینٹ بجادی اور لاکھوں مسلمانوں کا بے دریغ قتل کیا۔ اسلام اور اہل اسلام کو ختم کرنے کی ممکنہ حد تک کوشش کی لیکن وہ ناکام رہے اور دیکھنے والوں نے یہ دیکھا کہ جو تاتاری اسلام کو ختم کرنے کے لئے آئے تھے‘ انہوں نے خود اسلامی تہذیب و تمدن سے متاثر ہوکر اسلام قبول کیا اور اسلامی تعلیمات کوپھیلایا۔ افریقہ میں بربر قوم کثیر رقبے تک پھیلی ہوئی تھی لیکن جب افریقہ میں اسلام کی کرنیں پھیلیں تو بربر قوم اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر کثیر تعداد میں حلقہ بگوش اسلام ہونے لگے۔ مورخین اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ عرب کے تاجروں نے شمع اسلام کو روشن کرنے کے لئے تجارت کے سلسلے میں دور دراز علاقوں تک اسلام کے پیغام کو پہنچایا۔ ان تاجروں نے تجارت کے ساتھ اسلامی مبلغین کا کردار بھی ادا کیا۔ لوگ ان کے حسن معاشرت‘ حسن اخلاق اور دیانت داری سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرنے لگے لیکن مستشرقین اور استعماری قوتیں مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لئے غیر مسلم اقوام میں اس بات کو پھیلانے لگے کہ اسلام بزور شمشیر پھیلا ہے۔ اس حقیقت کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق امریکہ کی سپریم کورٹ میں حضور سرور عالمﷺ کی خیالی تصویر کا انکشاف ہوا ہے جوکسی پتھر پر بنائی گئی ہے۔ اس تصویر کو انتہائی مہارت کے ساتھ مشہورو معروف آرٹسٹ کراس گلبرٹ اور ایڈلف ایوین مین نے 1933ء میں بنایا اور اسے 6 فروری 1933ء میں امریکہ کی سپریم کورٹ میں آویزاں کردیا۔ لاس اینجلس سے شائع ہونے والے اخبار ’’پاکستان لنک‘‘ کے مطابق تصویر کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں تلوار دکھائی گئی ہے۔ اس تصویر کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلایا گیا ہے (پاکستان لنک لاس اینجلس امریکہ بحوالہ روزنامہ جرات 22 فروری 1997ئ)

مذکورہ بالا رپورٹ سے اس حقیقت کا ثبوت مل جاتا ہے کہ یہود ونصاریٰ کا نظریہ یہی ہے کہ اسلام کو رسول پاکﷺ نے تلوار کے ذریعے پھیلایاہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دنیا سے شرک و کفر کے خاتمے‘ وحشی اور خونخوار قوم کو موحد اور باعزت قوم بنانے کے لئے نسلوں کی عداوتیں اور دشمنیاں مٹاکر اخوت و بھائی چارہ قائم کرنے کے لئے اور ساری دنیا کو امن و سلامتی کا گہوارہ بنانے کے لئے حضور اکرمﷺ نے مختلف غزوات میں حصہ لیا۔ ایسے کل غزوات کی تعداد امام بخاری نے19 بیان کی ہیں جبکہ سریہ کی تعداد 55 کے قریب ہے۔ ان غزوات اور سریہ میں 259 مسلمان شہید ہوئے جبکہ 759 کافر مارے گئے۔ اسی طرح کفر و اسلام کی اس جنگ میں دونوں طرف سے کل ایک ہزار اٹھارہ 1018 افراد کا جانی نقصان ہوا۔ اب ذرا دنیا کے نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار یہودی اور عیسائی قوم پر نظر ڈالتے ہیں کہ انہوں نے بنی نوع انسان کو کتنا نقصان پہنچایا۔ محمد نجم مصطفائی اپنی کتاب ’’منزل کی تلاش‘‘ میں’’اعجاز التنزل‘‘ ص ۴۷۴ کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’14 اگست 1914ء کو جنگ عظیم کا آغاز ہوا‘ جو مسلسل چار سال تک دنیا کے بڑے بڑے ملکوں میں جاری رہی۔ یورپ و امریکہ نے اپنے ناجائز مطالبات دنیا سے منوانے کے لئے لاکھوں انسانی جانوں اور اربوں‘ کھربوں ڈالر تک خاک و خون کی نذر کردیا۔ سینکڑوں بحری جہاز سمندر میں غرق کردیئے گئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس جنگ عظیم میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد حسب ذیل ہے۔ روس میں 17 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ جرمنی میں 16 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ فرانس میں 13 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اٹلی میں 4 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ آسٹریلیا میں 8 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ برطانیہ میں 7 لاکھ افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح ترکی میں 2 لاکھ 50 ہزار‘ بیلجیم میں ایک لاکھ 2 ہزار‘ بلغاریہ‘ رومانیہ سرویا و مانٹی میں ایک‘ ایک لاکھ اور امریکہ میں 50 ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ زخمی ہونے والوں کی تعداد شامل نہیں۔ صرف ان لڑائیوں پر غور کیا جائے جو مذہبی حوالے سے لڑی گئیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یورپ کی مذہبی انجمنوں نے جس قدر انسانوں کو ہلاک کیا ان کی تعداد بھی لاکھوں سے تجاوز کرگئی ہے۔ انگلینڈ میں مذہبی عدالتوں کے احکامات پر ایک کروڑ 20 لاکھ افراد کو ہلاک کیاگیا‘‘

اسلام تلوارکے ذریعے نہیں پھیلا‘ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے اور کئی مستشرقین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں۔ تھامسن کارلائل اسلام پر لگائے جانے والے الزام کی کہ دین اسلام بزور شمشیر پھیلا ہے‘ تردید کرتے ہوئے لکھتا ہے:

’’اس بات کو بہت ہوا دی گئی کہ محمدﷺ نے اپنے دین کو تلوار کے ذریعے پھیلایا ہے۔ اگر دین تلوار کے ذریعے پھیلا تھا تو یہ دیکھنا ہے کہ وہ تلوار آئی کہاں سے تھی۔ ہر نئی رائے آغاز میں صرف ایک اکیلے شخص کے ذہن میں جنم لیتی ہے۔ ابتداء میں صرف ایک شخص اس رائے پر یقین رکھتا ہے۔ ایک آدمی ایک طرف ہوتا ہے اور ساری انسانیت دوسری طرف۔ ان حالات میں وہ اکیلا شخص تلوار لے کر کھڑا ہوجائے اور اپنی رائے کی تبلیغ تلوار کے زور سے شروع کردے تو وہ کچھ بھی نہیں کرسکے گا۔ پہلے تلوار حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ ابتداء میں ہر چیز اپنی استطاعت کے مطابق اپنا پرچار خود کرتی ہے۔ عیسائی مذہب کے متعلق بھی تاریخ ہمیں یہ نہیں بتاتی کہ جب تلوار اس کے ہاتھ میں آگئی تو اس کے بعد بھی ہمیشہ اس نے اس کے استعمال سے پرہیز کیا۔ شارلمان نے سیکس قبائل کو تبلیغ کے ذریعے عیسائی نہیں بنایا تھا (آن ہیروز اینڈ ہیروورشپ‘ ص 396-395)

کچھ عرصے قبل پوپ بینی ڈکٹ نے جرمن یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران اسلام اور پیغمبر اسلام علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بارے میں تاریخی اعتبار سے خلاف حقائق باتیں کی تھیں۔ ان باتوں میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ اسلام بزور شمشیر پھیلایا گیاہے۔ اس کا رد کرتے ہوئے ایک اسرائیلی دانشور Un Arenry اپنے ایک مکتوب Mohammads Sword میں پوپ کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتا ہے ’’تلوار کے ذریعے دین پھیلانے کی کہانی ایک گھڑی ہوئی بدترین روایت ہے‘ ایک ایسا غیر حقیقی قصہ جو یورپ میں مسلمانوں کے خلاف بڑی جنگوں‘ عیسائیوں کی اسپین کی بازیابی‘ صلیبی اور ترکوں کی جو تقریبا ویارا کو فتح کرچکے تھے‘ پسپائی کے دوران وضع کیاگیا۔ مجھے شبہ ہے کہ جرمن یورپ بھی ایمانداری سے ان احسانوں پر یقین کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کیتھولک دنیا کا سرکردہ جو اپنے ذاتی استحقاق بھی عیسائی مذہب کا عالم ہے‘ اس نے دیگر مذاہب کی تاریخ کا مطالعہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہر سچا یہودی جو اپنی قوم کی تاریخ سے واقف ہے‘ اسلام کے لئے نہایت گہرے احسان مندی کے جذبات رکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس نے یہودیوں کی پچاس نسلوں کی حفاظت کی ہے‘ جبکہ عیسائی دنیا نے ایذائیں دیں اور متعدد بار تلوار کے ذریعے ان کا عقیدہ چھڑوانے کی کوشش کی۔ 1099ء میں صلیبیوں نے یروشلم فتح کیا اور مسلمانوں اوریہودیوں کا بلاتفریق بڑے پیمانے پر قتل عام کیا۔ جبکہ فلسطین چار سو سال تک مسلمانوں کے قبضے میں رہا پھر بھی عیسائی ملک میں اکثریت میں رہے‘ اس پورے عرصے میں ان پر اسلام قبول کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ مسلم حکمرانی کے دوران اسپین کے یہودیوں نے بڑی عیش کی جس کی مثال یہودیوں نے آج تقریبا ہمارے دور تک کہیں بھی ایسے مزے نہیں اڑائے۔ مسلم اسپین میں یہودی وزیر‘ شاعر اور سائنسدان تھے۔یہودی اور مسلمان دانشوروں نے باہمی اشتراک سے قدیم یونانی فلسفے اور سائنسی مسودات کے ترجمے کئے۔ جب کیتھولک مذہب کے پیروکاروں نے مسلمانوں سے دوبارہ اسپین واپس لیا تو انہوں نے دہشت گردی کا بازار گرم کیا۔ یہودیوں اور مسلمانوں کو ایک نہایت ظالمانہ انتخاب پیش کیا گیا کہ عیسائیت قبول کرلو‘ قتل عام کے لئے تیار ہوجائو یا پھر بھاگ جائو‘‘

ان مذکورہ بالا حقائق سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دین اسلام تلوار کے ذریعے نہیں پھیلا ۔ مسلمان جب کبھی اپنے دشمن کے سامنے صف آراء ہوئے تو ان کے سامنے تین چیزیں رکھیں۔

1۔ اسلام قبول کرلیں

2۔ جزیہ دیں

3۔ یا پھر لڑنے کے لئے تیار ہوجائیں۔

ان چیزوں کو دیکھ کر کوئی بھی ذی انصاف شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ اسلام بذریعہ تلوار پھیلا ہے۔