حدیث نمبر :200

روایت ہے حضرت ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو کے سوا کسی میں رشک جائز نہیں ۱؎ ایک شخص جسے اﷲ مال دے تو اسے اچھی جگہ خرچ پر لگادے دوسرا وہ شخص جسے اﷲ علم دے تو وہ اس سے فیصلے کرے اور لوگوں کو سکھائے۲؎(بخاری،مسلم)

شرح

۱؎ کسی نعمت والے پرجلنا اور اس کی نعمت کا زوال،اپنے لیئے حصول چاہنا حسد ہے،جوبہت بڑاعیب ہے جس سے شیطان مارا گیا مگر دوسروں کی سی نعمت اپنے لیئے بھی چاہنا غبطہ(رشک)ہےحسد مطلقًا حرام ہے،غبطہ دو جگہ جائز ہے یہاں حسدبمعنی غبطہ ہے۔

۲؎ یعنی مالدارسخی جسے خدا اچھے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق دے ایسے ہی بافیض عالم دین جس کے علم سے لوگ فائدہ اٹھائیں قابل رشک ہے۔سبحان ا ﷲ !بعض علماء کے علم اوربعض سخیوں کے مال سے لوگ تاقیامت فائدہ اٹھاتے ہیں۔اﷲ تعالٰی فقیر کی اس کتاب سے مسلمانوں کو فائدہ پہنچائے۔(آمین)

خیال رہے کہ نیکی کی تمنا کرنے والا ان شاءاﷲ تعالٰی قیامت میں نیکوں کے ساتھ ہی ہوگا۔