صالحین کی قبروں سے تبرک :احادیث کی روشنی میں

ضیاء الرحمان علیمی

اگرقبر پر چہرہ رکھ کر برکت حاصل کرنا شرک ہوتا تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کبھی بھی ایسا عمل نہ کرتے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بزرگوں کے آثار میں جس طرح ان کے کپڑے شامل ہیں اسی طرح وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن سے ان کا کسی بھی طرح تعلق ہو، اور قبروں کا بھی قبروالوں سے تعلق ہوتا ہے،اس لیے ان کی قبریں بھی ان کے آثار میں شامل ہیں ،اس کی دووجہیں ہیں:

ایک یہ ہے کہ آثار کے معنی نشانی کے ہوتے ہیں اور یہ قبریں صاحب قبر کی نشانیاں ہیں،ان کے ذریعے ہم قبر والوں کو پہچانتے ہیں اورہم کہتے ہیں کہ یہ فلاں کی قبر ہے۔

دوسری یہ ہے کہ یہ قبریں ان کے مقدس جسموں کو اپنے اندرسمیٹے ہوئےہیں،اس لیےمعلوم ہواکہ قبریں بھی آثار میں سے اور بالعموم آثار سے برکت حاصل کرنے کے جوازپر ہم دلائل ذکرکرچکے ہیں،لہٰذااِنہی دلائل سے قبروں سے برکت حاصل کرنے کا جواز بھی ثابت ہوجاتا ہے۔

لیکن آئندہ سطورمیں ہم بالخصوص قبروں سے تبرک کے جواز پرمعتبر احادیث سےدلائل ذکرکریں گے تاکہ مسئلہ بالکل واضح ہوجائے ۔

جو شخص قبروں سے برکت حاصل کرتاہے وہ کبھی کبھی غلبۂ حال میں قبروں سے لپٹ جاتا ہے اور وہاں لوٹنے لگتاہے، اس لیے پہلےہم یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اضطراب وپریشانی کی حالت میں قبروں سے لپٹ جائے تو کیا یہ شرکیہ عمل ہے؟

اس سلسلے میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاہے:

وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهٖ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتّٰى يَمُرَّ الرَّجُلُ عَلَى الْقَبْرِ فَيَتَمَرَّغُ عَلَيْهِ، وَيَقُولُ: يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَكَانَ صَاحِبِ هٰذَا الْقَبْرِ۔ (مسلم،باب لاتقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر)

 ترجمہ:اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! دنیا اس وقت تک ختم نہیں ہوگی جب تک کہ یہ نہیں ہوگا کہ انسان قبر کے پاس سے گزرے گا،اور وہ قبر سے لپٹ کر اور خاک آلود ہوکر یہ کہے گا کہ کاش! میں اس قبر والے کی جگہ ہوتا۔

اس حدیث کو اَلبانی نے بھی صحیح قراردیاہے ۔ (صحیح ابن ماجہ:۵۷۸)

اس حدیث پاک سے معلوم ہوتاہے کہ قبرسے لپٹنا،اس کی خاک میں اپنےآپ کو آلودہ کرنا ،یہ کوئی شرکیہ عمل نہیں ورنہ فتنوں کے ظہور کے وقت اپنے دین کی فکر جو پسندیدہ عمل ہے اس کے ضمن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس عمل کاتذکرہ نہ فرماتےتھے۔

اب صحابہ کرام کےعمل سے قبروں سے برکت کے جوازپر دلائل پیش کیے جاتے ہیں:

۱۔حضرت عمررضی اللہ عنہ کے خزانچی حضرت مالک الدار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمررضی اللہ عنہ کےز مانے میں قحط پڑا تو ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور پر حاضر ہوااور عرض کیا:

یَارَسُوْ لَ اللہِ!اِسْتَسْقِ لِأمَّتِکَ، فَإنَّہُمْ قَدْ ہَلَکُوْا، فَأُتِیَ الرَّجُلُ فِی الْمَنَامِ،فَقِیْلَ اِئْتِ عُمَرَ،فَاقْرَئْہُ السَّلَامَ وَأخْبِرْہُ إنَّکُمْ مُسْقُوْنَ۔ (مصنف بن ابی شیبہ،باب:ماذکر فی فضل عمربن خطاب)

ترجمہ:یارسول اللہ!اپنی امت کو سیراب فرمائیں، کیوںکہ وہ ہلاکت کے دہانے پر ہے،چنانچہ اس شخص کو نیند آگئی اوراُسے خواب میں کہاگیا کہ تم عمر کے پاس جاؤ،ان کو میرا سلام پیش کرو اور ان کو خبر کردوکہ بارش ہوگی۔

اس حدیث کی سند کو حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں صحیح قرار دیاہے۔ (کتاب الاستسقاء،باب سوال الناس الامام الاستسقاء اذا قحطوا)

اس حدیث میں اس بات کا ذکرہے کہ بارش کی دعاکے لیے ایک شخص قبر انور پر حاضر ہوا ،پھراس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوندادی۔حاضر ہونے والے شخص حضرت بلال بن حارث مزنی صحابی تھے۔اس حدیث سے جہاں استغاثے کے جواز کا ثبوت ملا وہیں قبروں سے برکت حاصل کرنے کے جواز کا بھی،وہ اس طرح کہ استغاثے کے لیے قبرانورپر حاضری ضروری نہیں تھی لیکن آنے والے شخص نے قبر انور پر حاضر ہوکر پہلے گویا قبرسے تبرک کیا،اس محترم قبرکے وسیلے سے رب تعالیٰ کے خیرکثیر کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے استغاثہ کیا۔

ایک اور حدیث میں داؤد بن ابوصالح سے مروی ہے کہ ایک دن مروان نے دیکھاکہ ایک شخص اپنا چہرہ قبرانورپر رکھے ہوئے ہے،یہ دیکھ کراُس نے کہا کہ تم کو معلوم ہے کہ تم کیا کررہے ہو؟جب وہ شخص مروان کی طرف متوجہ ہواتو معلوم ہواکہ وہ حضرت ابویوب انصاری رضی اللہ عنہ ہیں۔ چنانچہ مروان کی یہ بات سن کر اُنھوں نے فرمایا:

نَعْمْ جِئْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ وَ لَمْ آتِ الْحَجَرَ۔(مستدرک للحاکم،کتاب الفتن والملاحم)

ترجمہ:ہاں! مجھے معلوم ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا ہوں،کسی پتھر کے پاس نہیں۔

امام حاکم نے اس حدیث کو ’’ مستدرک‘‘میں صحیح قرار دیا ہے اور ذہبی نے ان کی تصحیح کو باقی رکھاہے اور کوئی جرح نہیں کی ہے۔(المستدرک مع تعلیقات الذہبی فی التلخیص،کتاب الفتن والملاحم)

اس حدیث میں جلیل القدر صحابی کے عمل سے اس بات کا واضح ثبوت ملتا ہے کہ صالحین کی قبروں سے برکت حاصل کرنا اور اِس نیت سے قبر پر چہرہ رکھنا جائزہے،اگریہ عمل شرک ہوتا تو حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کبھی بھی ایسا عمل نہ کرتے۔

ایک اور حدیث پاک ہے جس میں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بیان کرتے ہیں:

رَأیْتُ اُسَامَۃَ یُصَلِّی عِنْدَ قَبْرِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ فَخَرَجَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ فَقَالَ:تُصَلِّی إلٰی قَبْرِہٖ؟قَالَ:إنِّی أحِبُّہٗ۔ (صحیح ابن حبان،باب ذکر بغض اللہ الفاحش والمتفحش )

ترجمہ: میں نےحضرت اسامہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانورکے پاس نمازپڑھتے ہوئےدیکھا،اتنے میں مروان نکلا اور اُس نے کہا کہ تم قبرنبوی کے پاس نماز پڑھ رہے ہو؟ حضرت اسامہ نے جواب دیا کہ مجھے ان سے محبت ہے۔

اس حدیث پاک میں حضرت اُسامہ بن زید مشہور صحابی رسول کے عمل سے ثابت ہواکہ انھوں نے قبرنبوی کے پاس نماز ادا فرمائی اور اُن کا یہ نمازپڑھنا تبرک کے طورپر تھا۔ اس پر دلیل ان کا آخری جملہ إنِّی أحِبُّہٗ ہے(یعنی مجھے ان سے محبت ہے) ۔

ایک اور حدیث ہے جس میں حضرت سیدنا علی بن حسین اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں:

أنَّ فَاطِمَۃَ بِنْتَ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ سَلَّمَ کَانَتْ تَزُوْرُ قَبْرَ عَمِّہَا حَمْزَۃَ کُلَّ جُمُعَۃٍفَتُصَلِّی وَتَبْکِی عِنْدَہٗ۔ (مستدرک للحاکم،کتاب الجنائز)

ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شہزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ہر جمعہ کو اپنے چچاحضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کی قبر پرحاضر ہوتیں ، قبرکے پاس نماز پڑھتیں اورروتیں ۔

اس حدیث کے بارے میں امام حاکم نے فرمایاہے کہ اس کے رجال آخر سے ثقہ ہیں۔

ایک اور حدیث ہے جس میں حضرت اوس بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ اہل مدینہ پر سخت قحط پڑا،لوگوں نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے پاس قحط کا شکوہ کیا،یہ سن کراُنھوں نے فرمایا:

انْظُرُوْا قَبْرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَليْهِ وَسَلَّمَ، فَاجْعَلُوْا مِنْهُ كُوًى إِلَى السَّمَاءِ حَتّٰى لَا يَكُوْنَ بَيْنَهٗ وَبَيْنَ السَّمَاءِ سَقْفٌ۔ ( دارمی،باب مااکرم اللہ نبیّہ بعد موتہ)

 ترجمہ:نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرانور کو دیکھو اور اُس میں آسمان کی جانب سوراخ اس طرح کردوکہ قبر نبوی اور آسمان کے درمیان چھت حائل نہ رہے۔

اس حدیث کے راوی بیان کرتے ہیں کہ لوگو ں نے ویسا ہی کیا جس طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا تھا، چنانچہ اتنی بارش ہوئی کہ سبزے اور گھاس اُگ آئےاور اونٹ فربہ ہوگئے۔

اس حدیث کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔

اس حدیث سے واضح طورپریہ ثابت ہوگیاکہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے قبر نبوی سے ایک سوراخ آسمان کی جانب کرنے کا حکم دے کر بارش کے لیے قبرنبوی سے برکت حاصل کرنے کی تعلیم دی۔

مذکورہ بالا احادیث کریمہ کی روشنی میں صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عمل سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ صالحین کی قبروںسے برکت حاصل کرنا بلاشبہ جائز ہےاور اِس میں شرک کا کوئی شائبہ نہیں،کیوں کہ صحابۂ کرام شرک کو مٹانے والوں کے سردار محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی درسگاہ کے تربیت یافتہ تھے، ان سے یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتاکہ وہ کوئی ایسا عمل کریں گے جوشرک یا شرک کی طرف لے جانے والا ہوگا۔