نفع ونقصان کی بنیاد

نفع ونقصان کی بنیاد

اشتیاق عالم مصباحی

ایک پُر اَمن معاشرے کا وجودتبھی ممکن ہے ، جب ہر شخص صرف اللہ کو مالک و متصرف مانے ،اور اسی کے حکم پر عمل کرے

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:

وَ الْعَصْرِ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ(۲)اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ(سورۂ عصر ۳)

ترجمہ:زمانے کی قسم!ایمان والے،نیک عمل کرنے والے،حق کی وصیت کرنے والے اور صبر کی تلقین کرنے والوں کے سوا تمام انسان گھاٹے میں ہیں۔

اس سورہ میں خاص طورپر جن باتوں کا ذکر ہے وہ درج ذیل ہیں:

۱۔عصر

 یعنی وقت اورزمانہ،حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں یہی معنی مراد ہے ۔

حضرت ابو مسلم رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ عصر سے مراد، دن کے دونوں حصے،یعنی صبح اورشام ہیں ۔

 حضرت حسن رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عصر سے مراد زوال(سورج ڈھلنے)سے لے کر غروب(سورج ڈوبنے) تک کا وقت ہے، اور حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عصر سے دن کا آخری حصہ مراد ہے۔

چنانچہ اللہ رب العزت دن کے اس حصے کی قسم کا ذکر فرماکر بندے کو تنبیہ فرمارہاہے کہ اب بازار کا وقت ختم ہونے والا ہے، کمانے کا وقت نہیں رہا،ابھی بھی خاموش بیٹھے رہے اور کچھ کمائے بغیر گھر لوٹے تو بچے اپنا حق مانگیں گے اور تمھیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایسے ہی دنیا کا وقت قیامت سے بہت قریب ہے،تم نے ابھی تک اس گھر کے لیے تیاری نہیں کی ہے، حالاں کہ تمھیں خوب معلوم ہے کہ قیامت میں اُن تمام نعمتوں کے بارے میں تجھ سے سوال ہوگا جودنیا میں تمھیں دی گئیں۔اسی طرح بندوں کے ساتھ تمہارے معاملات کے بارے میں بھی تم سے پوچھا جائے گا،غرض کہ ہر مظلوم کو اس کا حق دلایاجائے گا اس وقت تم خسارے اور گھاٹے میں ہوگے ۔

۲۔ انسان 

انسان سے مراد جنس انسان ہے جس میں مومن اور مشرک سب برابر کےشریک ہیں،یا پھر انسان سے مراد خاص انسان یعنی کافرمرادہے۔اگر جنس انسان مرادہو توایسی صورت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھا نے والا وہ کافر ہوگا جو اللہ رب العزت کی عبادت میں کسی کو شریک ٹھہرائے اور کم نقصان والا وہ مومن ہوگا جو عمل صالح کے ساتھ برائی کی بھی آمیزش کرے ۔

 ۳۔ خسر

 اس لفظ کا معنی ہے اصل مال کا ختم ہونا یا اس میں نقصان ہوجانا۔ لفظ خُسْرٍمیں تنوین تعظیم کے لیے ہے ،جس کا معنی ایسا نقصان ہے جس کی حقیقت صر ف اللہ تعالیٰ کو معلوم ہو۔

علامہ فخر الدین رازی اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں : ہرشخص گھاٹے اور نقصان میں مبتلا ہے ،کیوں کہ انسان کی اصل پونجی اوردولت اس کی زندگی ہے جو تیزی کے ساتھ گزر رہی ہے۔

 اگر انسان معصیت اور گناہ میں مصروف ہے تو یہ اس کے نقصان کا باعث ہے اور اگر جائز کام میں زندگی گزاررہا ہے تو بھی خسارے میں ہے، کیوں کہ بندہ ایسے کام پر قادر تھا جس سے فائدہ حاصل ہو، قدرت کے باوجود بے فائدہ کام میں لگے رہنا نقصان دہ ہے۔

البتہ! اگرطاعت وعبادت میں بندہ زندگی گزارے تو عبادت کی کیفیات مختلف ہوتی ہیں جس کی کوئی حد نہیں ہے، اوراگر اعلیٰ و عمدہ کیفیت کے ساتھ عبادت کرسکتا تھا مگر اُس کے باوجود اِس طریقے کو چھوڑ دیا تو یہ بھی ایک قسم کا نقصان ہے ۔

۴۔ مومنین( اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا) 

 یعنی وہ لوگ جواللہ رب العزت کی تصدیق اور اس کی وحدانیت کا اقرار کرتے ہیں۔ نیزنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، اللہ رب العزت کے پاس سے جو کچھ لے کر آئے اُن تمام چیزوں کی اس طرح تصدیق کرتے ہیں کہ اُن میںذرہ برابر بھی کسی شک کی گنجائش نہیں۔

۵۔ صالحین(وَعَمِلُوْا الصّٰلِحٰتِ) 

 مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ رب العزت نے ان کے ذمے لازم کیا ہے اُسے انجام دیتے ہیں اور حرام کا موں سے بچتے ہیں ،یعنی ایسا عمل جس کے اندر کسی طرح کا فساداورخرابی نہ ہو،اُسے کرتے ہیں،کیوں کہ اُنھیں صرف احکام الٰہیہ کی تابعداری کا حکم ہوا ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتاہے:

وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِیَعْبُدُوا اللَّہَ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ حُنَفَاء(بینہ۵)

ترجمہ:بندوں کو یہی حکم دیا گیا ہے کہ تمام چیزوں سے منھ موڑ کراَخلاص کے ساتھ صرف اللہ ہی کی عبادت کریں۔

حق کی وصیت (وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ) 

حق سے مراد ایسا یقینی امرہے جس کا انکار نہ کیا جاسکے ، مثلاً:اللہ ،ایمان، قرآن یا ہر وہ نیک امر جو اعتقاد یا عمل سے تعلق رکھتاہو۔

اوراگر حق سے مراد اللہ رب العزت ہو تو اَب معنی یہ ہو گا کہ بندے کے حال کے مطابق اللہ رب العزت کے غضب کا خوف اور اُس کی رحمت کی امید دلاتے رہے،یااگر حق سے ایمان و قرآن دونوں مراد ہوں تواُس کا معنی یہ ہوگا کہ ایمان کے تقاضوں اور قرآنی احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین اور وصیت کرے۔

صبرکی تلقین(وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ) 

مطلب یہ ہےکہ ایک دوسرے کو طاعت پر جمے رہنے اور گناہوں سے بچنے کی وصیت کرتے ہیں۔

صبر ایک ایسی قوت کا نام ہے جس سے انسان مشقتوں اورمصیبتوں کو برداشت کرنے پر قادر ہو ۔

دیلمی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 صبر کی تین قسمیں ہیں:

۱۔مصیبتوں پر صبر کرنا

 ۲۔طاعت وبندگی پر جمے رہنا

۳۔گناہوں سے الگ رہنا

 جواَپنی تجارت میں نقصان اٹھانے والے نہیں ہیں، اُن کے اندر چار صفتیں موجود ہوتی ہیں :

۱۔ایمان

 ۲۔عمل صالح

 ۳۔حق کی وصیت

۴۔ صبر کی تلقین

 خسارے اور نقصان سے بچنے کے لیے محض ایمان وعمل کافی نہیں ہے،بلکہ ان سب کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کو خیر کی دعوت اور صبر کی تلقین کرنا بھی لازم وضروری ہے۔

اللہ رب العزت نے زمانے کی قسم ذکرفرماکر اِنسانیت کی ہلاکت ونجات اور نفع ونقصان کو اس سو رہ میں بیان فرما یا ہے۔ہلاکت انسان کا مقدر ہے وہ کبھی بھی اس سے نہیں بچ سکتا، کیوں کہ ہر لمحہ انسان پر اللہ رب العزت کی نعمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں، جس کی واضح دلیل سانس کی نعمت ہے، اور یہ ظاہر ہے کہ بندہ ہر سانس کے بدلے شکر ادا کرنے سے مجبور ہے لیکن اس کے باوجود اللہ رب العزت نے محض اپنی رحمت سے انسانوںکویہ درس دیا کہ اگروہ اُن تمام خوبیوںکے حامل ہوجائیں تواُن کی برائیاں،بھلائیوں اور پریشانیاں، آسائشوں میں بدل جائیں گی ۔

اس میں غور کرنے سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ اللہ رب العزت نے زمانے کی قسم ذکرکرکے یہ واضح اشارہ کردیاہے کہ ایک پُر اَمن اور منظّم معاشرے کا وجود اُسی وقت ممکن ہے ، جب ہر شخص صرف اللہ کو حاکم ،مالک اور متصرف مانے ،پھر اسی کے حکم کے مطابق عمل کرے اور عمل کی تلقین کرے تو یقیناًیہ باتیں انسانوں کے لیے دنیا و آخرت دونوں میں امن و امان اور صلح وآشتی کی ضامن ہوں گی ۔

اللہ رب العزت ہم سب کو مومنین، صالحین،داعیان حق اور صابرین کی صف میں شامل کرے۔( آمین )

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.