کیاتائب کے لیے قضائے عمری ضروری ہے؟

غلام مصطفی اظہری

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جونماز ادا کرنا بھول جائےتو جب اسے یاد آئے اسی وقت نماز ادا کرے

(۲)عمداً تارک صلاۃ کافر نہیں ہے ،سخت ترین فاسق و فاجر ہے ، اس کو کوڑا مارا جائے گا ، جیل کی سزا دی جائے گی اور اگر پھر بھی ترک پر اِصرار کرے تو قتل کردیا جائے گا، اور اگر اس نے توبہ کرلی تو اُس پر ضروری ہےکہ وہ تمام قضا نمازوں کا اعادہ کرے اور اللہ رب العزت کی رحمت و مغفرت سے بخشش کی اُمید رکھے۔یہ مذہب امام شافعی و امام مالک رحمہمااللہ کا ہے اور ایک روایت امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی مروی ہے ،یہی مذہب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا ہے لیکن امام ابو حنیفہ کسی بھی صورت میں قتل کو جائز نہیں سمجھتے ۔

 تارک صلاۃ کافر نہیں 

۱۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :

إِنَّ اللهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَيَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ(نسا۴۸)

 یعنی اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ ہر گناہ کو بخش دےگا۔

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًا(۶۸) یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗ(۶۹) اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓىِٕكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا (فرقان ۷۰)

ترجمہ:وہ جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پوجتے اور ناحق کسی ایسی جان کو نہیں مارتے جس کی اللہ نے حرمت رکھی اور بدکاری نہیں کرتے اور جو بھی ایسا کام کرے اس پر قیامت کے دن سخت سے سخت عذاب ہوگااور ہمیشہ اس میں ذلت سے رہے گا مگر جو توبہ کرے اور ایمان لائےاور نیک عمل کرےتو ایسوں کے گناہوں کو اللہ نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔

۲۔قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِهِمْ لَاتَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ (زمر۵۳)

ترجمہ:تم فرماؤ ،اے میرے وہ بندو جنھوں نے اپنی جانوں پر گناہ کرکے زیادتی کی اللہ کی رحمت سے نااُمید نہ ہو، بےشک اللہ تعالیٰ ہر طرح کے گناہ بخش دیتا ہے، وہی بخشنے والا مہربان ہے ۔

جہاں تک احادیث کریمہ میں تارک صلاۃ کو کفر کی طرف منسوب کرنے کا مسئلہ ہےتو فقہا و شارحین حدیث نے اس کی مختلف تاویلیں کی ہیں ،جیسے ترک صلاۃ کفر سے قریب کرنے والا ہے ،یااس کفر سے مراد کفرانِ نعمت ہے ۔ یہ لفظ زجر و توبیخ کے طور پراستعمال کیا گیا ہے،یاپھر استخفافاً ترکِ صلاۃ کرنے والے کو کافر کہا گیا ہے وغیرہ وغیرہ۔

توبہ کے بعد قضا نمازوں کا ادا کرناضروری ہے 

۱۔حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

 فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُّقْضٰی۔(بخاري ،کتاب الصیام ، باب من مات وعليه صوم۔ صحيح مسلم، کتاب الصیام ، باب قضاء الصيام عن الميت)

ترجمہ:اللہ کے حقوق ادا کرو ، کیوں کہ اللہ وفا کا زیادہ حق دار ہے۔

۲۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مبارک ہے:

 اگر کوئی شخص کوئى نماز پڑھنا بھول جائے تو یاد آتے ہی اُسے پڑھ لے،قضا سے ہٹ کر اُس کا اور کوئی کفارہ نہیں ہے۔(صحیح بخاری،باب من نسي صلاة فليصل اذا ذكر۔ صحیح مسلم،باب قضاء الصلاة الفائتة)

جب بھولنے والے پر نماز کی قضا واجب ہے حالاں کہ بھولنے پر نہ کوئی گناہ ہے اور نہ ہى کوئى مواخذه تو اَعلی سے ادنی پر تنبيہ كے قاعدے کى رعايت كرتے ہوئے جان بوجھ کر چھوڑنے والے پر قضا بدرجۂ اولیٰ واجب ہونى چاہيے۔

 (۳)متواتر عمداً تارک صلاۃ کافر نہیں، سخت ترین فاسق ہے ، صرف سچی توبہ ہی اس کے نجات کا واحد راستہ ہے، توبہ کے بعد اس پرترک شدہ نمازوںکی قضا واجب نہیں ۔ بعض صوفیائے کرام اورمحققین کایہی مذہب ہے۔

اس مذہب اور اس سے پہلے مذکور مذہب کے درمیان صرف ایک بنیادی فرق ہے کہ اس مذہب کے قائلین یہ کہتے ہیں کہ متواتر عمداً نماز ترک کرنے والے پر توبہ کے بعد قضا نہیں ہے جب کہ اس سے پہلے مذہب کے قائلین کا ماننا ہے کہ اگر اُس نے ۶۰ ؍ سال کی عمر میں بھی توبہ کی تو اُس پر ضروری ہے کہ وہ مرنے سے پہلے پہلے ۴۵ ؍سال کی قضا نمازوں کو ادا کرے۔

کاہلی اور سستی عام ہوجانے کی وجہ سے ائمہ مجتہدین نے صحابۂ کرام کے متفقہ مذہب سے عدول کیا، یعنی عمداً تارک صلاۃ کو کافر کہنے سے گریز کیا تو اِس دور اخیرمیں جہاں دین بیزاری عام بات ہے ،ایمان ہی کے لالے پڑے ہیں ،عمل کو کون پوچھتاہے، جس قوم کے علما و مفکرین، مشائخ دین اور طالبان علوم قرآن و سنت ہی دین کے اہم رکن نماز کو عام طور پر ترک کردیتے ہوں،ان کے وقتوں پر ادا نہیں کرتے وہاں ۳۰، ۳۰ ؍سال بلکہ اس سے بھی زیادہ قضا نمازوںکی ادا ئیگی کی باتیں کرنا گنبد پر اخروٹ رکھنے اور گدھے کے سر میں سینگ تلاش کرنے کے مثل ہے، ذرااس مذہب کی دلیلوں پر طائرانہ نظر ڈالتے ہیں۔

 ۱۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

 أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ (توبہ۱۰۴)

ترجمہ:کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔

۲۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

 التَّائِبُ مِنَ الذَّنْبِ،كَمَنْ لَا ذَنْبَ لَهٗ۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الزہد، باب ذكر التوبة)

ترجمہ:گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہی ہے جیسے اس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔

۳۔ حدیث قدسی ہے:

أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهٗ إِذَا ذَكَرَنِي، فَإِنْ ذَكَرَنِي فِي نَفْسِهٖ ذَكَرْتُهٗ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَكَرَنِي فِي مَلَإٍ ذَكَرْتُهٗ فِي مَلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا، وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا، وَإِنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهٗ هَرْوَلَةً۔ (بخاري ،کتاب التوحید، باب قول الله تعالى: {ويحذركم الله نفسه})

 ترجمہ:میں اپنے بندےکے ساتھ وہی کرتا ہوں جس کا بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے ، میں اس کے پاس ہوتا ہوں جب وہ میرا ذکر کرتا ہے ، اگر وہ مجھے دل ہی دل میں یاد کرے تو میں بھی اسی طرح اس کا ذکر کرتا ہوں ،اگر وہ مجلس میں یاد کرے تو میں اس سے بہتر مجلس میں یاد کرتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہےتو میں اس سے ایک گز قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے بھی زیادہ اس سے قریب ہوتا ہوں ، اگر وہ میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کے پاس دوڑ کر آتا ہوں ۔

یہی اس مذہب کی بنیادی دلیل ہے کہ توبہ تمام گناہوں کا کفارہ ہے ، توبہ کے بعد کفر و شرک کرنے والوں سے فوت شدہ ارکان اسلام کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا،تو ایک مسلم سے جو اب تک کفر معنوی میں مبتلا تھا توبۂ نصوح کے بعد اتنی نمازوں کی ادائیگی کا مطالبہ کیا جانا تکلیف ما لا یطاق نہیں؟

 ۴۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

أَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ النَّاسُ بِهٖ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ أَعْمَالِهِمْ:الصَّلَاةُ، يَقُولُ رَبُّنَاتَبَارَكَ وَتَعَالٰى لِلْمَلَائِكَةِ وَهُوَ أَعْلَمُ:اُنْظُرُوْا فِي صَلَاةِ عَبْدِي أَتَمَّهَا أَمْ نَقَصَهَا؟ فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً كُتِبَتْ لَهٗ تَامَّةٌ وَإِنْ كَانَ انْتَقَصَ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ: اُنْظُرُوْا هَلْ لِعَبْدِي مِنْ تَطَوُّعٍ؟ فَإِنْ كَانَ لَهٗ تَطَوُّعٌ قَالَ:أَتِمُّوا لِعَبْدِي فَرِيضَتَهٗ مِنْ تَطَوُّعِهٖ، ثُمَّ تُؤْخَذُ الْأَعْمَالُ عَلٰى ذٰلِكُمْ۔(مسند احمد،ابوہریرہ، ح: ۹۴۹۰۔ سنن ابی داود،أبواب تفريع استفتاح الصلاة)

ترجمہ:قیامت کے دن لوگوں سےان کے اعمال میں سب سے پہلےنماز کے بارے میں پوچھا جائے گا، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائےگا:اے فرشتو !(حالاں کہ وہ سب کچھ جانتاہے) میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو، وہ پوری ہیں یا کم ؟اگر پوری ہوں گی پوری لکھ دی جائیں گی اور اگر کچھ کم ہوئیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا:کیا میرے بندے کے پاس کچھ نفل نمازیں بھی ہیں ؟ اگر ہوں گی تو اللہ فرمائے گا: فرض کی کمی کو نفل سے پورا کردو،پھر یہی حکم دوسرے فرائض کے متعلق بھی ہوگا۔

اس سے یہ معلوم ہوتاہےکہ جب نوافل بھی فرائض کے قائم مقام ہوں گے تو توبہ کے بعد اُن قضا نمازوں کی جگہ نفل کا کثرت سے ادا کرنا بھی کافی ہوگا۔

وضاحت

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ فرض کے بغیر نفل قابل قبول نہیں ،یہ بات اپنی جگہ درست ہے۔ لیکن اس مذہب کے مطابق توبہ کے بعد قضاہوئےفرائض ساقط ہوگئے تواَب ایسی صورت میں نفل نمازیں کیوں قابل قبول نہ ہوں گی؟

دوسری بات یہ ہے کہ اس حدیث صحیح کے مقابل کوئی قول یا ضعیف حدیث قابل قبول نہیں،یاپھران احادیث و اقوال کو بطور زجر و توبیخ مانیں گے جو اِس صریح حدیث کے مقابل میں آئیں گے۔

۵۔عمداً قضاکی گئی نمازوں کی ادائیگی کاحکم نہ قرآن میں ہے نہ سنت میں۔ بعض فقہا نے نیند اور نسیان کی وجہ سے ترک شدہ نماز کی قضا والی احادیث پر قیاس کرکے عمداً ترک شدہ نمازپر بھی قضا کا حکم لگا دیا ہے۔ یہ قیاس مع الفارق ہے، کیوں کہ نیند اور نسیان سے قضا ہونے والی نماز کا وقت ختم نہیں ہوتا ہے۔

اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

 مَنْ نَسِيَ صَلَاةً فَوَقْتُهَا إِذَا ذَكَرَهَا۔(سنن دار قطنی ، کتاب الصلاۃ،باب وقت الصلاة المنسية، یہ روایت ضعیف ہے)

ترجمہ:جو شخص نماز بھول جائے تو اُس کا وقت وہی ہے جب اُسے یاد آئے۔

 صحیحین میں بھی اسی طرح کی ایک روایت ہے:

 مَنْ نَسِيَ صَلاَةً فَلْيُصَلِّ إِذَا ذَكَرَهَا۔

ترجمہ:جو شخص نماز ادا کرنا بھول جائےتو جب اسے یاد آئے اسی وقت نماز ادا کرے۔

اس حدیث میں لفظ إذا ظرف زمان ہے جو وقت کو بتاتا ہے، یعنی یاد آنے والا وقت ہی اس قضا نماز کا وقت ہے، جب کہ عمداً قضا کی ہوئی نماز کا تو وقت جاتا رہا ۔

اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا(نسا۱۰۳)

ترجمہ:مومنین پر نماز وقت وقت پر فرض کی گئی ہے ۔

 نماز اپنے وقت میں ادا کرنے ہی سےادا ہوگی ،جب تک کہ شارع کی جانب سے اس پر کوئی واضح حکم نہ ہوکہ فلاں حالت میں نماز کا وقت فلاں ہے ۔

۶۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

مَنْ كَانَتْ لَهٗ مَظْلَمَةٌ لِأَخِيْهِ مِنْ عِرْضِهٖ أَوْ شَيْءٍ، فَلْيَتَحَلَّلْهٗ مِنْهُ اليَوْمَ، قَبْلَ أَنْ لا يَكُوْنَ دِينَارٌ وَلَا دِرْهَمٌ، إِنْ كَانَ لَهٗ عَمَلٌ صَالِحٌ أُخِذَ مِنْهُ بِقَدْرِ مَظْلَمَتِهٖ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهٗ حَسَنَاتٌ أُخِذَ مِنْ سَيِّئَاتِ صَاحِبِهٖ فَحُمِلَ عَلَيْهِ۔(صحیح بخاری ، كتاب المظالم والغصب)

ترجمہ:جو شخص اپنے بھائی پر کسی بھی طرح کا ظلم کرے، اُسے چاہیے کہ آج ہی اس سے معافی تلافی کرلے،اس دن سے پہلے جس دن نہ کوئی دینار اور نہ کوئی درہم ہوگا،اگراُس کے پاس کوئی نیکی ہوگی تو ظلم کے حساب سے اس سے بدلہ لیا جائے گا اور اگر اُس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوئی تو مظلوم کے گناہ اس ظالم شخص پر ڈال دیے جائیں گے۔

حق العباد جو توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتا،فقہانے حق اللہ یعنی نماز و روزہ کو بھی اسی پر قیاس کرلیا ہے اور یہ کہا کہ

فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى۔

(اللہ کا حق وفا کا زیادہ حق دار ہے۔)

یہ قیاس بھی ناقابل فہم ہے،کیوں کہ حق دار کو اپنا حق معاف کرنے کا پورا اِختیار ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے معافی کا عام اعلان کردیا ہے کہ جو بھی توبہ کرے گا میں اس کی مغفرت کروں گا، میری رحمت وسیع ہے اور اللہ اپنا وعدہ پورا کرے گا،یہی اہل سنت کا عقیدہ ہے۔ جہاں تک حقوق العباد کا سوال رہا تو اللہ نے اس کا اختیار بندوں کو دے رکھا ہے، اسی لیے ان کے معاف کیے بغیر اللہ معاف نہیں فرمائےگا۔

۷۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

إِنَّ الدِّينَ يُسْرٌ، وَلَنْ يُشَادَّ الدِّينَ أَحَدٌ إِلَّا غَلَبَهٗ، فَسَدِّدُوْا وَقَارِبُوْا، وَأَبْشِرُوْا۔ (صحیح بخاری، کتاب الایمان، باب: الدین یسر)

ترجمہ:بے شک دین آسان ہے اور ہرگز کوئی شخص دین میں سختی نہ کرے گا مگر وہ اس پر غالب آجائے گا (یعنی اس کو اعتدال اور آسانی کی طرف لے آئےگا)پس آسان اور برحق دین اختیار کرو،یا کم سےکم اس کے قریب ہی رہواور لوگوں کو خوش خبری دو۔

 اوردرحقیقت آسانی اسی میں ہے کہ عمداً لگاتارترک کی ہوئی نمازوں کو ادا نہ کروایا جائے،کیوں کہ جو مذہب عورتوں سے ان کے مخصوص ایام کی نمازوں کی قضا کا تقاضا نہیں کرتا، کسی شخص پر پانچ وقت متواتر جنون طاری رہے اس سے بھی اسلام ان وقتوں کی قضا کا مطالبہ نہیں کرتا۔ آخر وہ دین ایسے شخص سے کیسے اتنی نمازوں کا مطالبہ کرے گا جو اسلام میں پورے طور پر ابھی کفر معنوی سے توبہ کرکے داخل ہوا ہے، جس نے اس ناپاک دنیا کی غلاظتوںسے ابھی ابھی طہارت معنوی حاصل کی ہے،اورایک لمبی مدت کے بعد خواہشات کے جنون سےباہر آنے کی کوشش کی ہے،بھلا ایسے شخص سے بھی اسلام اتنی طویل مدتی نماز کا مطالبہ کرے گا؟ ہرگز نہیں ۔

متقدمین فقہا و مجتہدین کا دور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تھا ،ہمارے زمانے سے اُن کا زمانہ غنیمت تھا ، اس وقت سبھی لوگ نماز ضرور ادا کرتے تھے ، اگرچہ گنتی کے چند لوگ پابند نہیںہوتے ،کبھی کبھی چھوڑ دیتےتھے ، اس لیے ان کے اقوال اور اُن کے فتاوے اس عہد کے مناسب تھے کہ لوگوں کی نمازیں قضا کم ہوتیں تھیں ، ادا کرنا آسان تھا ، اب توحال یہ ہے کہ مساجدمیں عوام تو عوام اکثر علما و طلبا بھی نہیں پہنچ پاتے ہیں، بعض تو وہ بھی ہیں جن کی پیشانیاں سجدوں کے انتظارمیں عمریں گزار دیتیں ہیں، اللہ کی پناہ، ایسے ہی عہد کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ مَنْ تَرَكَ مِنْكُمْ عُشْرَ مَا أُمِرَ بِهٖ هَلَكَ،ثُمَّ يَأْتِي زَمَانٌ مَنْ عَمِلَ مِنْهُمْ بِعُشْرِ مَا أُمِرَ بِهٖ نَجَا۔ (سنن ترمذی ،کتاب الفتن، باب: ۷۹،ح:۲۲۷۴ )

 ترجمہ:تم ایسے زمانے میں ہوکہ تم میں سے جس نے ان اعمال کا دسواں حصہ بھی چھوڑ دیا جن کا اُسے حکم دیا گیا تو وہ ہلاک ہوجائے گا ،پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جو اُن اعمال میں سے دسویں حصے پر بھی عمل کرلے گا جن کا اُسے حکم دیا گیا ہے تووہ نجات پاجائے گا۔

بھلا اس پُر فتن عہد میں اس سے زیادہ کی کیا اُمید کی جاسکتی ہے کہ توبہ پر استقامت ہوجائے، اب سے ہی فرائض و واجبات ادا کرتا رہے اور حرام سے بچتا رہے۔ اگر اس نے اسی پر ہمیشگی برت لی تو اللہ تبارک وتعالیٰ اُسےضرور بخشش دے گا،کیوں کہ وہ غفار الذنوب، ستار العیوب ،اور ارحم الرحمین ہے۔

 ۸۔ فرض سے سبکدوشی اور ہے ، اورنماز کا حق ادا کرنا اور ، اس نا گفتہ بہ عہد میں جو لوگ نماز ادا کرتے ہیں وہ بھی صرف ارکان نماز کی ادائیگی ہی کرتے پاتے ہیں،حالاں کہ نماز تو ذکر کے لیے قائم ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ارشادفرماتا ہے:

 وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ لِذِكْرِيْ (طہ۱۴)

ترجمہ: نماز میرے ذکر کے لیے قائم کرو۔

 فَاذْکُرُونِیْ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِیْ وَلَا تَکْفُرُونِ (بقرہ۱۵۲)

ترجمہ:تم مجھے یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا شکر ادا کرو اور میری نافرمانی نہ کرو ۔

اور ذکر کا تقاضہ یہ ہے کہ دل حاضر رہے ، صرف زبان سے ذکر ، ذکر نہیں ہے ، اصل ذکر تو حضوری ٔقلب کے ساتھ ہوتا ہے، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَجْتَمِعُونَ فِي الْمَسَاجِدِ لَيْسَ فِيهِمْ مُؤْمِنٌ ۔(المستدرك على الصحيحين ،كتاب الفتن والملاحم)

ترجمہ:لوگوں پر ایک زمانہ ایسا بھی آئے گا کہ وہ مساجد میں جمع ہوں گے لیکن ان میں کوئی کامل ایمان والا نہیں ہوگا۔

حاکم نے اس حدیث کو بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے ، ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے ۔

 انہی سب دلائل کی بنیاد پراس مذہب کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ایسے اشخاص جنھوں نے توبہ کرکےنماز ادا کرنا شروع کیا ہے،ان سے قضائے عمری ادا کرنے کا مطالبہ مناسب نہیں ہے،بلکہ ان کو اس بات کی تلقین کرنا بہتر ہے کہ تم اب کبھی نماز نہیں چھوڑنا، زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرنا اور جہاں تک ہوسکے فقرا و مساکین پر صدقات کرنا۔اللہ تمہاری توبہ قبول کرے اور استقامت عطا فرمائے ۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان سچے تائبین اور مشائخ عظام کے طفیل حقیقت نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)