ضعف ایمان کی نشانی

اظہار احمد اظہری

خوش اخلاقی گناہ کو ایسے ہی پگھلادیتی ہے جیسے سورج چمڑے کو اور بداخلاقی عمل کو ایسےہی فاسد کردیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بعثت کا مقصدہی اخلاق کریمانہ کی تکمیل کو بتایاہے۔

ارشادِ نبوی ہے :

 إِنَّمَا بُعِثْتُ لِأُتَمِّمَ مَكَارِمَ الْأَخْلَاقِ۔ ( سنن الکبری للبیہقی ، باب بیان مکارم الاخلاق ومعالیہا )

ترجمہ : اخلاق کریمانہ کی تکمیل کے لیے میں دنیا میں بھیجا گیا ہوں ۔

 لہٰذا بندہ کمالِ ایمان کو اُس وقت تک نہیں پہنچ سکتاجب تک کہ وہ اخلاقی اعتبارسے خود کو آراستہ وپیراستہ نہ کرلے، اسی لیے کہا جاتاہے کہ اخلاقی کمزوری ضعفِ ایمان کی نشانی ہے ۔

بدخلق و بے حیا انسان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :

إِنَّ الْحَيَاءَ وَالْإِيمَانَ قُرِنَا جَمِيعًا فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الْآخَرُ ۔ ( الادب المفرد للامام البخاری،باب الحیاء )

ترجمہ: حیا اور ایمان کے درمیان گہرارشتہ ہے ،بے حیا مومن نہیں ہوسکتا اور مومن بے حیا نہیں ہو سکتا۔

حضرت ابوہریرہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :

اَلْحَيَاءُ شُعَبَةٌ مِّنَ الْإيْمَانِ ۔ ( سنن نسائی ، ذکر شعب الایمان )

ترجمہ: حیا ایمان کا حصہ ہے ۔

پڑوسی پر ظلم و زیادتی کرنے اور ترش روئی سے پیش آنے والے شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :

 وَاللهِ لاَ يُؤْمِنُ، وَاللهِ لاَ يُؤْمِنُ، وَاللهِ لاَ يُؤْمِنُ، قِيلَ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ:الَّذِي لاَ يَأْمَنُ جَارُهٗ بَوَايِقَهٗ۔ (بخاری، ، کتاب الادب،باب اثم من لا یامن جارہ)

 ترجمہ :واللہ وہ مومن نہیںہوسکتا،واللہ وہ مومن نہیں ہوسکتا،واللہ وہ مومن نہیں ہوسکتا۔ صحابۂ کرام نے عرض کیا: یارسول اللہ! کون مومن نہیں ہوسکتا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ جس کے ظلم کی وجہ سے اس کاپڑوسی چین وسکون سے نہ رہے۔

 اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کو بیہودہ باتوں سے بچنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشادفرماتے ہیں:

وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَاليَوْمِ الآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ۔ ( صحیح بخاری ، باب من کان یو من باللہ…)

ترجمہ: جو شخص اللہ تعالیٰ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اُسےچاہیے کہ جب بولے تو اچھی بات بولے،ورنہ خاموش رہے ۔

بسااوقات ایک انسان نماز وروزے کا پابند ہوتا ہے، وظائف بھی کثرت سے کرتاہے،اور صدقات و عطیات بھی دیتاہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ مخلوق کوتکلیف دیتاہے ، اور پڑوسیوں پر ظلم بھی کرتاہے۔ایسےشخص کا انجام کیسا ہوگا؟

اس تعلق سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک روایت بیان کرتے ہیں :

 قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ فُلَانَةَ تُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا، وَصِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيْرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: هِيَ فِي النَّارِ،قَالَ:يَا رَسُولَ اللهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ تُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، وَصَلَاتِهَا، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ وَلَا تُؤْذِي جِيْرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: هِيَ فِي الْجَنَّةِ۔ ( مسند امام احمد بن حنبل ،مسندابوہریرہ)

ترجمہ : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ! ایک عورت ہے جس کے بارے میں یہ کہاجاتاہے کہ وہ بہت ہی زیادہ نمازوروزے کی پابند ہے اور کثرت کے ساتھ صدقہ بھی کرتی ہے لیکن اس میں یہ عیب بھی ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کو اپنی زبان سے تکلیف پہنچاتی ہے ،اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عورت جہنمی ہے ۔ پھر اس نے کہا کہ یارسول اللہ! ایک عورت ایسی ہے جس کے بارے میں کہاجاتاہے کہ وہ بہت زیادہ نمازو روزے کی پابند نہیں ہے لیکن اس کے اندر یہ خوبی ہے کہ وہ پنیر کا کچھ ٹکڑا صدقہ کرتی ہے اور اپنے پڑوسی کو تنگ نہیں کرتی ۔ یہ سن کرآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ وہ عورت جنتی ہے ۔

اس حدیث پاک سے پتہ چلتاہے کہ بلندو بالا اخلاق کی کیا قدرو قیمت ہے اور اُس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ صدقات و عطیات کرناایسی عبادت ہے جو معاشرے سے تعلق رکھتی ہے اور اُن کا فائدہ دوسروں کو پہنچتاہے جب کہ نماز، روزے کا تعلق شخص سے ہوتاہے اور اُن کا فائدہ بھی اسی میں منحصر ہوتاہے جو اُن پر عمل پیرا ہوتےہیں ۔

اسی طرح اس حدیث پاک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف اس بات کو بیان نہیں کیا کہ حقیقت ایمان اور عبادت صحیحہ کا تعلق مخلوق کے ساتھ اخلاق کریمانہ سے ہے بلکہ حسن خلق کو دنیا میں نیکی اور آخرت میں فلاح و بہبود کی بنیا د بھی قراردیا ۔

 حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام سے پوچھا :

أَتَدْرُوْنَ مَا الْمُفْلِسُ؟قَالُوا:الْمُفْلِسُ فِيْنَا مَنْ لَادِرْهَمَ لَهٗ وَلَا مَتَاعَ، فَقَالَ:إِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ أُمَّتِي يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِصَلَاةٍ، وَصِيَامٍ، وَزَكَاةٍ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هٰذَا، وَقَذَفَ هٰذَا، وَأَكَلَ مَالَ هٰذَا، وَسَفَكَ دَمَ هٰذَا، وَضَرَبَ هٰذَا، فَيُعْطَى هٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ، وَهٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ، فَإِنْ فَنِيَتْ حَسَنَاتُهٗ قَبْلَ أَنْ يُّقْضَى مَا عَلَيْهِ أُخِذَ مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ۔ ( صحیح مسلم ، باب تحریم الظلم )

ترجمہ : کیا تم جانتے ہوکہ مفلس کون ہے ؟ صحابۂ کرام نے عرض کیاکہ جس کے پاس مال و دولت نہیں وہ مفلس ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں!بلکہ مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن ایسی حالت میں اٹھے گا کہ اس کے پاس نماز،روزہ اورزکاۃ جیسی عظیم عبادتیں ہوں گی لیکن اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر زناکی تہمت لگائی ہوگی، کسی کا مال ہڑپ لیا ہوگا، کسی کاقاتل ہوگا، کسی کوبلاوجہ زدوکوب کیا ہوگا،جس کی وجہ سے اس کی عبادتیں ان مظلوموں میں تقسیم کردی جائیں گی ،اوراگر سب کا حق ملنے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو جو اپنا حق پانے سے محروم رہ جائےگا، اس کی خطائیں اس کے سر تھوپ دی جائیں گی اور اِس طرح اُسے جہنم میں پھینک دیاجائے گا ۔

 ایسے عابد کی مثال اس تاجر کی طرح ہے جس کے پاس ایک ہزار کاسامان ہو لیکن وہ دوہزارکا قرض داربھی ہو، ایسا تاجر مالدار نہیں،بلکہ مفلس ہی کہا جائے گا،چنانچہ کوئی انسان اپنی بداخلاقیوں سے کسی کو تکلیف پہنچاکرصرف عبادتوں کے ذریعےمتقی وپرہیزگارنہیں ہوسکتا۔

 ایسے ہی شخص کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مثل بیان کی ہے :

حُسْنُ الْخُلُقِ يُذِيْبُ الْخَطَايَاكَمَا تُذِيبُ الشَّمْسُ الْجَلِيْدَ وَإِنَّ الْخُلُقَ السَّيِّءَ يُفْسِدَ الْعَمَلَ،كَمَا يُفْسِدُ الْخَلُّ الْعَسَلَ۔( شعب الایمان ، باب حسن الخلق)

ترجمہ : خوش اخلاقی گناہوں کو ایسے ہی پگھلاکرختم کردیتی ہے جیسے کہ سورج چمڑے کو پگھلاکر ختم کردتیاہے اور بداخلاقی عمل کو ایسے ہی فاسد کردیتی جیسے کہ سرکہ شہد کو فاسد کردیتاہے ۔

لہٰذا جب نفسانی برائیاں زیادہ ہوجائیں،بداخلاقیاں بڑھ جائیں تو انسان دین سے ایسے ہی الگ ہوجاتاہے جیسے ننگاشخص کپڑے سے الگ تھلگ ہوجاتاہے ،اس لیے اگر کوئی بدخلق ہوتے ہوئے بھی کمالِ ایمان کا دعوی کرے تو وہ اپنے دعوے میں جھوٹا ہے ، اس سے پتہ چلا کہ اچھےاخلاق کے بغیر دین کی کوئی قیمت نہیں رہ جاتی ۔

اخلاق حسنہ کے ساتھ ایمان کا کتنا گہراتعلق ہے ،اس کو سمجھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہ فرمان کافی ہے :

ثَلَاثٌ مَنْ كُنَّ فِيْهِ فَهُوَ مُنَافِقٌ، وَإِنْ صَامَ وَصَلَّى وَزَعَمَ أَنَّهٗ مُسْلِمٌ: مَنْ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ ۔ ( مسند احمد،مسندابوہریرہ )

ترجمہ: جس نمازی ،روزہ داراورمسلمان کےاندریہ تین باتیں پالی جائیںوہ منافق ہے ، جب وہ بات کرے توجھوٹ بولے ، وعدہ کرے تووعدہ خلافی کرے ،اور اس کےپاس امانت رکھی جائے تواس میں خیانت کرے ۔

 امام بخاری علیہ الرحمہ نےاس پرایک چوتھی بات کا اضافہ کیاہے : إذَاخَاصَمَ فَجَرَ۔یعنی جب جھگڑے کی صورت پیدا ہوجائے تو گالی دینے لگے ۔

 جن چار چیزوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے،ان کے ہوتے ہوئے لاکھ انسان اپنے آپ کو مسلمان کہے، اورنماز و روزے کی پابندی بھی کرے،لیکن پھر بھی بزبان نبی وہ منافق ہی ہوگا اوریہ تمام اخلاقی برائیاں آج ہمارے معاشرے میں واضح طورپر پائی جارہی ہیں اور بداخلاقی کی اعلی ترین مثال سمجھی جاتی ہیں۔

اس لیے ہم سب کو اخلاقی پہلو پرغوروفکر کرنےاور اچھے اخلاق سے خود کو مزین کرنے کی ضرورت ہے۔