أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالَتۡ رَبِّ اَنّٰى يَكُوۡنُ لِىۡ وَلَدٌ وَّلَمۡ يَمۡسَسۡنِىۡ بَشَرٌ ‌ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ‌ ؕ اِذَا قَضٰٓى اَمۡرًا فَاِنَّمَا يَقُوۡلُ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ

ترجمہ:

مریم نے کہا اے میرے رب میرے بچہ کیسے ہوگا ؟ مجھے تو کسی آدمی نے مس تک نہیں کیا ‘ فرمایا اسی طرح (ہوتا ہے) اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے وہ جب کسی چیز کا فیصلہ فرمالیتا ہے تو اسے فرماتا ہے ” ہوجا “ اور وہ فورا ہوجاتی ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مریم نے کہا اے میرے رب میرے بچہ کیسے ہوگا ؟ مجھے تو کسی آدمی نے مس تک نہیں کیا ‘ فرمایا اسی طرح (ہوتا ہے) اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے ‘ وہ جب کسی چیز کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اسے فرماتا ہے ‘ ” ہوجا “ اور وہ فورا ہوجاتی ہے۔۔۔ (آل عمران : ٤٧)

حضرت مریم کے حمل کی کیفیت :

جب حضرت جبریل آدمی کی صورت میں حضرت مریم کے پاس آئے اور ان کو ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی تو حضرت مریم نے اس بچہ کی ولادت کے طریقہ کو جاننا چاہا کہ ان کا کسی سے نکاح ہوا ہے نہ وہ فاحشہ اور بدکار ہیں یعنی بہ ظاہر کوئی حال سبب میسر ہے نہ حرام تو پھر بچہ کیسے پیدا ہوگا ؟ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے فرمایا اسی طرح ہوتا ہے اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے ‘ اور فرمایا یہ آپ کے رب کے لئے آسان ہے ‘ ابن جریج نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ حضرت جبریل نے حضرت مریم کی آستین اور گریبان میں پھونک ماری اور وہ اسی وقت حاملہ ہوگئیں ‘ اور بعض علماء نے یہ کہا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا نفخ جبریل سے پیدا ہونا جائز نہیں ہے ورنہ لازم آئے گا کہ بچہ فرشتہ اور انسان کے اجزاء سے مرکب ہو۔ لیکن اس کا سبب یہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کو پیدا کیا اور ان کی ذریت سے میثاق لیا تو اولاد کے بعض پانی کو ان کے آباء کی پشتوں میں رکھا اور بعض پانی کو ان کے امہات کے ارحام میں رکھا اور جب یہ دونوں پانی جمع ہوجاتے ہیں تو بچہ پیدا ہوجاتا ہے ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے دونوں پانی حضرت مریم میں رکھ دیئے۔ بعض پانی ان کے رحم میں رکھا اور بعض پانی ان کی پشت میں رکھا۔ حضرت جبریل نے جب پھونک ماری تو حضرت مریم کی طبیعت میں ہیجان ہوا اور جو پانی ان کی پشت میں تھا وہ ان کی پشت سے منتقل ہو کر ان کے رحم میں آگیا اور جب یہ دونوں پانی مختلط ہوگئے تو حضرت مریم حاملہ ہوگئیں۔

نیز کہا جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ فرما لیتا ہے ” ہوجا “ اور وہ چیز ہوجاتی ہے ‘ اس پر مفصل بحث تو البقرۃ : ١٧٧ میں ہم کرچکے ہیں ‘ خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کسی کام کو کرنا کسی عمل اور آلہ پر موقوف نہیں ہے وہ جب چاہتا ہے کسی چیز کو آلہ اور مادہ کے بغیر فی الفور پیدا کردیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کلام نفسی اس طرف متوجہ ہوتا ہے کہ فلاں چیز کو فلاں کیفیت سے ہونا ہے سو وہ چیز ہوجاتی ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 47