نوجوان طلبا کے لیے چند مشورے

از: افتخار الحسن رضوی

بر صغیر ہند و پاک کی تاریخ شاہد ہے کہ یہ علاقے اغیار کے تسلط میں رہے ہیں، کبھی براہ راست حکمرانی تو کبھی فکری غلامی کی صورت میں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے طلبا و طالبات کی تعلیمی سمت ہی درست نہیں۔ ہمارے نوجوان تعلیم برائے عمل نہیں بلکہ تعلیم برائے نوکری حاصل کرتے ہیں۔ جب کہ دینی تعلیم تو اللہ عزوجل کی رضا کے لیے حاصل کی جانی چاہیے اور پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرتے وقت اہداف بڑے رکھے جانے چاہئیں۔ ہمارے نوجوان ڈگری کو نوکری کی ضمانت سمجھتے ہیں جبکہ ہمارے اکابر یعنی عرب لوگوں کا طریقہ تھا کہ وہ تجارت کیا کرتے تھے، نوکری پسند نہیں کرتے تھے۔ ہمیں چاہئیے کہ ہم پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کریں اور پھر اس تعلیم کی روشنی میں کوئی کاروبار شروع کریں۔ اس کے لیے یہ بھی ضروری نہیں کہ ہمارا کاروبار وسیع پیمانے پر ہو، چھوٹے پیمانے پر بطور Entrepreneur کام شروع کریں، مناسب مارکیٹ میں مناسب اور درست کاروبار شروع کریں، محنت کریں اور نتائج کا معاملہ اللہ عزوجل پر چھوڑ دیں۔

بطور ملازم آپ پوری زندگی نوکر رہیں گے اور بطور کاروباری انسان آپ دیگر کئی لوگوں کو اپنے ساتھ روزگار فراہم کر سکیں گے۔

ہمارے نوجوانوں کی دوسری بڑی غلطی یہ ہے کہ بعض ایسے طلبا جو میٹرک یا انٹر میں اچھے نمبر حاصل نہ کر پائیں وہ بے اے اور ایم اے میں صرف ڈگری کے حصول کے لیے کوئی آسان مضمون رکھ لیتے ہیں تاکہ ڈگری حاصل کے کے اپنی عزت بچا سکیں۔ اس مقصد کے لیے پاکستان میں MA سطح پر اکنامکس، سوشیالوجی، سوکس ، پنجابی، اردو اور اسلامیات کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ ایسی ڈگری کے حاملین کو فضول اور فارغ سجھتا ہے اور ان ڈگریوں کے حاملین خود بھی احساس کمتری کا شکار رہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی زیادہ سے زیادہ امید کسی سرکاری محکمے مین ٌاٹکناٌ ہوتا ہے۔

قارئین کرام!

مذکورہ ڈگریوں کے حاملین اپنی خفیہ صلاحیات کو سامنے لا کر کسی بھی سائینسی ڈگری والے کے برابر لا سکتے ہیں، متعلقہ مضامین میں تحقیق کیجیے، تراجم و تشریحات پر کام کیجیے، ذرائع ابلاغ خصوصا الیکٹرانک میڈیا تک اپنی پروفائل پہنچائیے، اور انہیں بتائیے کہ آپ اپنے Communication Skills کے ساتھ کسی بھی ادارے کے لیے کس قدر معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

Blogging ایک بہترین ذریعہ معاش بھی ہے اور ذریعہ تعلیم و آگہی بھی ۔ اس پر کام کیجیے اور اپنے اپنے منتخب و پسندیدہ مضامین میں کالمز، مضامین، مقالہ جات ترتیب دے کر ان کی اشاعت کیجیے۔

تدریس کا شعبہ آپ کے لیے بہترین ہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو اردو کے علاوہ انگریزی پر مکمل عبور ہو اور آپ اچھے سکولز و کالجز میں بطور لیکچرر کام کر سکتے ہیں۔ اپنی Personality میں تبدیلیاں لائیے، آپ Ph.D کر لیں، اگر آپ کی Personality متاثر کن نہیں تو آپ کو پیشہ وارانہ زندگی میں ناکامیوں کا سامنا رہے گا۔

عالمی سطح پر مندرجہ ذیل آرٹس مضامین کے ڈگری ہولڈرز بالخصوص پی ایچ ڈی حاملین کی بہت مانگ ہے۔

جغرافیہ، سوشیالوجی، بین الاقوامی معاشرتی علوم، عربی، فارسی، فرنچ، انگریزی، اکنامکس، شماریات وغیرہ۔

آخر میں ایک اہم بات کہ، آج کل ہمارے نوجوان دھڑا دھڑ ایم فل کر رہے ہیں، کسی بھی کورس میں داخلہ لیتے وقت تین باتیں یاد رکھیں؛

کیا آپ اس کورس میں مکمل دلچسپی کے ساتھ ساتھ اسے Enjoy کرتے ہوئے مکمل کر لیں گے، یعنی مکمل شوق سے پڑھیں گے؟

کیا یہ ڈگری آپ کو دنیا کا نوکر بنانے کی بجائے اللہ کی رضا اور رزق حلال حاصل کرنے میں معاون رہےگی؟

کیا یہ ڈگری اتنی اہمیت رکھتی ہے کہ اس کے حصول کے بعد میں علاقائی یا بین الاقوامی مارکیٹ میں اس کی تحقیقات پیش کر سکوں گا/گی؟