أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيُعَلِّمُهُ الۡكِتٰبَ وَالۡحِكۡمَةَ وَالتَّوۡرٰٮةَ وَالۡاِنۡجِيۡلَ‌ۚ

ترجمہ:

اور اللہ اسے لکھنے کا اور شریعت کا اور تورات اور انجیل کا علم عطا فرمائے گا

تفسیر:

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے علوم :

اس آیت میں کتاب کی مختار تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد لکھنا ہے ‘ امام ابن جریر نے ابن جریج سے روایت کیا ہے کہ کتاب سے مراد ہاتھ سے لکھنا ہے اور قتادہ سے روایت کیا ہے کہ حکمت سے مراد سنت ہے ‘ علامہ ابو الحیان اندلسی نے لکھا ہے کہ کتاب سے مراد گذشتہ آسمانی کتابیں ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو گذشتہ تمام آسمانی کتابوں کا علم عطا فرمایا اور خصوصا تورات اور انجیل کا علم عطا فرمایا۔

امام رازی متوفی ٦٠٦ ھ نے لکھا ہے میرے نزدیک کتاب سے مراد لکھنے کی تعلیم دینا ہے اور حکمت سے مراد علوم اور تہذیب الاخلاق کی تعلیم ہے ‘ کیونکہ انسان کا کمال یہ ہے کہ وہ حقیقت کو جانے نیک اعمال کا علم حاصل کرے اور ان دونوں کے مجموعہ کے علم کو حکمت کہتے ہیں اور جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو کتابت اور علوم عقلیہ اور شرعیہ کا علم عطا کردیا تو ان کو تورات کا علم عطا فرمایا اور تورات کے علم کو موخر اس لئے کیا کہ تورات اللہ کی کتاب ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے اسرار عظیمہ ہیں ‘ اور انسان جب تک علوم کثیرحاصل نہ کرے اس کے لئے اللہ کی کتاب میں غور وخوض کرنا ممکن نہیں ہے ‘ پھر جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے انبیاء سابقین (علیہم السلام) پر نازل کی ہوئی کتابوں کے اسرار کو جان لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر انجیل نازل فرمائی۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٥٠ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 48