گرفتاری کیوں ؟۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر : محمد اسمٰعیل بدایونی

گرفتاری تو ہوگی….. کیوں نہیں ہوگی؟

لیکن ہوا یہ کہ۔۔۔بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے ۔….

سوشیل میڈیا پر ایک سوال بڑی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے یہ ڈالر گرل کیوں آزاد ہے ؟ ۔۔۔۔ماضی کے دھرنے بازوں پر کوئی گرفت نہیں ؟ ۔۔۔۔سول نا فرمانی کی تحریک پر کوئی اعتراض کیوں نہیں ؟۔۔۔۔۔جلاؤ گھیراؤ بدمعاشی تو انہوں نے ایسی کی کہ مت پوچھیے جناب پھر یہ لاڈلےاور ہم سوتیلے کیوں ؟۔۔۔۔۔محل کے سرے سے لے کر سرے محل تک کی تفتیش کہاں تک پہنچی ؟۔۔۔۔۔لوٹی ہوئی رقم اور نامزد کردہ ڈاکو ؤں کے ساتھ ہم نوالہ و ہم پیالہ ہونےکا مطلب کیا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ

بچے سوالات پوچھتے رہے ۔۔۔۔سوچا بچوں کی تربیت بہت ضروری ہے آؤ ! بچو! تمہیں ایک کہانی سُنا تا ہوں

ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک سر سبز جنگل میں ایک بھیڑیا حکومت کیا کرتا تھا ۔۔۔۔ اپنے تئیں اخلاقیات ، دیانت داری ، مساوات وغیرہ کا اس نے معیار بھی مقرر کیا ہوا تھا ۔۔۔۔وہ کیس مکمل سنتا اور پھر اپنے قانون کے تحت اس کا فیصلہ سُنا دیتا تھا ۔۔۔۔۔جنگل کے تمام لگڑ بھگے اس کے انصاف و اوصاف کے گن گاتے تھے ۔۔۔۔۔

ایک دن ایسا ہوا کہ موسم بہت حسین تھا بھیڑیا چہل قدمی کرتے ہوئے ندی کے کنارے پہنچا اور پانی پینے لگا ۔۔۔۔باقی جانوروں نے جب بھیڑئیے کو دیکھا تو سب نو دو گیارہ ہو گئے لیکن ایک بھیڑ کا بچہ اپنے ارد گرد سے بے خبر پانی پیتا رہا ۔۔۔۔۔اسے خبر ہی نہیں کہ اب اس پرامن وادی میں وہ اور بھیڑیا ہی رہ گئے ہیں ۔۔۔۔

بھیڑئیے نے جب اس قدر لذیذ شکار دیکھا تو اس کے منہ میں پانی آگیا لیکن مقدمہ چلائے بغیر بھیڑ کے بچے کو ہڑپ کر جانا جنگل اور خود بھیڑئیے کے اصول کے خلاف تھا اور مقدمہ چلائے بغیر ظلم کا روادار نہیں تھا ۔۔۔۔۔

بھیڑئیے نے میمنے سے کہا :بر خوردار ! آج تم نے ہماری شان میں بڑی بے ادبی کا مظاہرہ کیا ہے ۔۔۔۔ہماری توہین کی ہے ۔

میمنے نے پوچھا بادشاہ سلامت ! کیسی تو ہین ؟کیسی بے ادبی ؟

بھیڑئیے نے غراتے ہوئے کہا : تمہاری جرات کیسے ہوئی کہ میری جانب آنے والے پانی کو گدلا کرو شاہی ندی سے پانی پینے کی اجازت ہر کس و ناکس کو نہیں ہے ۔

میمنے نے کانپتے ہوئے کہا: بادشاہ سلامت ! بھلا میں آپ کے پانی کو کیسے گدلا کر سکتا ہوں پانی تو نشیب کی طرف بہتا ہے آپ بلندی پر تھے میں نیچے تھا پانی بہہ کر نیچے آرہا ہے ۔

بھیڑیا اور زور سے غرایا اور کہا : زبان مت چلاؤ ایک تو پانی گدلا کرتے ہو اوپر سے زبان چلاتے ہو شاہی جنگل کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی ہے تم جیسے بد تمیز ، جاہل ، اجڈ گنوار ، ہمارے روشن خیال ،لبرل اور سیکولر شاہی جنگل کو ساری دنیا میں بد نام کرنے کا باعث بن رہے ہیں ۔۔۔۔۔تم ہی تھے جنہوں نے دس سال قبل اس سے پہلے بھی شاہی جنگل کے خلاف کوشش کی تھی یہ بغاوت کے زمرے میں آتا ہے ۔۔۔۔۔اور شاہی جنگل میں مجرم تو رہ سکتا ہے پر غدار نہیں

میمنے نے ہاتھ جوڑ کر عرض کی : بادشاہ سلامت ! میری تو عمر ہی چار سال ہے ابھی دس سال قبل تو میں تھا ہی نہیں

بھیڑئیے نے کہا : تمہاری بات میں وزن نہیں ہے تم کہنا چاہتے ہو میں جھوٹ بول رہا ہوں ؟ ہو سکتا ہے وہ تمہارا بھائی ہو ۔

میمنے نےعرض کی : بادشاہ سلامت میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد ہوں میرا کوئی بھائی نہیں ہے

بھیڑئیے نے غضب ناک ہوتے ہوئے کہا تمہارے خاندان میں کوئی نہ کوئی تو ہو گا ۔۔۔

بھیڑئیے نے گھور کر میمنے کو دیکھا اور کہا تم مجھے ساتھ والے جنگل کے ایجنٹ لگتے ہو میری اور میرے جنگل کی بدنامی کا باعث بننا چاہتے ہو اس شاہی جنگل کی عظیم انصاف پر مبنی روایات کے خلاف بغاوت کرنا چاہتے ہو میں تمہیں غداری کی سزا سُنا تا ہوں اور پنجہ مار کر میمنے کو گرایا اور دبوچ کر کسی پکنک اسپاٹ کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔۔۔۔۔

پیارے بچو! کہانی ختم

لیکن سوچنا ! اور اپنا اجتماعی وانفرادی احتساب کرتے ہوئے سوچنا ۔۔۔۔۔

تمہاری کثرت وحدت میں تبدیل کیوں نہیں ہو ئی ؟۔۔۔۔۔

تحریک سے تنظیم کا سفر طے کیوں نہ ہو سکا ؟

جذبات بھڑکتے رہے جذبے پروان کیوں نہیں چڑھے ؟

جنونِ ملت، جوشِ جواں اور غضب ِ بازو کی توانائی شعلوں سے نکل کر حرارتِ امت میں تبدیل کیوں نہ ہو سکی ؟

بدنظمی کا کوڑا کیوں بکھرا رہا ؟۔۔۔۔۔تمہارے نوجوان بدا خلاق و بدتمیز کیوں ہیں ؟

تمہاری داخلی و خارجی صفوں میں انتشار کی چنگاریاں کیوں اڑتی رہیں ؟

ہونا تو یہ چاہیے تھا اہلِ محبت کا ایثار آج بھی قرون اولیٰ کے ان مسلمانوں کی طرح ہو تا جنہوں نے جام شہادت تو نوش کر لیا مگر پانی کا پیالہ یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ میرے مسلمان بھائی کو زیادہ ضرورت ہے ۔۔۔۔۔بکری کی سری پوری بستی سے واپس وہیں پہنچ جاتی جہاں سے سفر شروع ہوا تھا ۔۔۔۔ہائے افسوس

امام ِ اہلسنت کی بھولی بھالی بھیڑو! کاش تم مکار بھیڑئیوں کو جان لیتے ۔۔۔۔۔

امام ِ اہلسنت کی دی ہوئی ڈائرکشن پر ہی عمل کر لیا ہوتا ۔۔۔۔۔اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر نگاہ ڈالو اور ان کا ازلہ کرو ۔

ہم سب گرفتار ہیں ۔۔۔۔اپنی اناؤں کے خول میں ۔۔۔۔اپنی نام نہاد عظمتوں کی جیل میں ۔۔۔۔اورنفس کا بھیڑیا ہمارے شکار میں ہے

بس مزید کچھ بھی نہیں کہنا کہ ماضی میں بہت کچھ کہہ چکا ہوں ۔۔۔۔