ہم کہیں تو آپ برا مان جائیں

, ابن دائود محمد گل فراز رضوی

اہل مغرب جو اسلام اور مسلمانوں کی مخالفت میں صدیوں سے مصروف عمل ہیں‘ وہ تین منظم تنظیموں میں منقسم ہیں۔ ایک وہ ہیں جنہوں نے عیسائیت کی تبلیغ و اشاعت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا رکھا ہے۔ یہ لوگ دیگر ادیان کے مقابلے میں بالعموم اور اسلام کے مقابلے میں بالخصوص عیسائیت کی فوقیت ثابت کرنے کے لئے کوششیں کرتے ہیں۔ دوسرے وہ ہیں جوکہ مغربی سیاستدان‘ سفارت کار اور فوجیوں کے روپ میں مشرقی ممالک پر استعماری غلبے کی کوششیں کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کو مستعمرین اور ان کی تحریک کو تحریک استشراق کہا جاتا ہے۔ تیسرے وہ ہیں جوکہ استشراق کا لبادہ اوڑھ کر اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف بے بنیاد اورغیر جانبدارانہ تحقیق پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ عموماً یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ تینوں تنظیمیں ایک دوسرے سے بالکل علیحدہ ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک بہت بڑا دھوکہ ہے۔ یہ تینوں تنظیمیں دراصل ایک ہیں اور ان کے کام میں بھی زبردست ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ استشراق‘ مشرق  اور بالخصوص اسلام کے تفصیلی مطالعہ کا نام ہے اور جن لوگوں نے اس کام کا آغاز کیا‘ ان میں اکثریت راہبوں اور پادریوں کی تھی۔ مغربی یونیورسٹیوں میں عربی کی تدریس کا فیصلہ سب سے پہلے کلیساکی کانفرنس میں ہوا۔ راہبوں اور پادریوں نے اسلام کے خلاف وہ حربے استعمال کئے ایک طرف تو انہوں نے عیسائیت کی تبلیغ کا سہرا اپنے ہاتھ لیا تو دوسری طرف اسلام کے خلاف غلط خیالات پھیلانے کی کوشش کی۔ موجودہ صدی میں ان دو حربوں کو عیسائی مشنری کھل کر استعمال کررہی ہے۔ اس کی ایک جھلک اس وقت سامنے آئی جب پوپ بینڈیکٹ  نے جرمن یونیورسٹی میں ایک تقریر کے دوران اسلام اور پیغمبر اسلامﷺ کے خلاف نازیبا اور تاریخی حوالے کے خلاف حقائق باتیں کیں۔ اس تقریر میں پوپ نے اسلام کو تلوار کے ذریعے پھیلنے والا دین کہا۔ اس تقریر کا جواب دیتے ہوئے ایک اسرائیلی دانشور Uri Avneryنے اپنے ایک مکتوب (محمدﷺ کی تلوار) میں پوپ کا رد کرتے ہوئے لکھا ’’تلوار کے ذریعے دین پھیلانے کی کہانی ایک گڑھی ہوئی بدترین روایت ہے‘ ایک ایسا غیر حقیقی قصہ جو یورپ میں مسلمانوں کے خلاف بڑی جنگوں‘ عیسائیوں کی اسپین کی بازیابی‘ صلیبی مہموں اور ترکوں کی جو تقریبا ویانا کو فتح کرچکے تھے‘ پسپائی کے دور وضع کیا گیا۔ ہر وہ یہودی جو اپنی قوم کی تاریخ سے واقف ہے‘ اسلام کے لئے نہایت گہرے احسان مند کے جذبات رکھے بغیر نہیں رہ سکتا کہ جس نے یہودیوں کی پچاس نسلوں کی حفاظت کی ہے‘ جبکہ عیسائی دنیا نے ایذائیں دیں اور متعدد بار تلوار کے ذریعے سے ان کا عقیدہ چھڑوانے کی کوشش کی ہے‘‘ مستشرقین اور مستعمرین کے آپس کی ہم آہنگی کو دیکھا جائے تو مستشرقین‘ مستعمرین کے فکری راہنما دکھائی دیتے ہیں ان کے مقاصد بھی ایک ہیں اور ان مقاصد کی تکمیل کے لئے ان کی مسائی میں بھی ہم آہنگی موجود ہے۔ استعماری طاقتوں نے مستشرقین کے علم کو اپنے استنبدای مقاصد کے لئے دل کھول کر استعمال کیا۔ ایک جرمن مستشرق ’’اولرچ ہارمان‘’ کہتا ہے ’’1919ء سے پہلے اسلام کے متعلق جرمنوں کا مطالعہ حسن نیت پر مبنی نہیں تھا ’’کارل ہینرج‘‘ جو بہت بڑا مستشرق ہے وہ سیاسی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ اس نے 1914ء میں برطانیہ کے مقابلے میں اسلام کو سیاسی ڈھال پر استعمال کرنے میں زبردست سرگرمی دکھائی ‘‘ (الاستشراق والخلیفۃ الفکریہ ص ۶۵)

روسی مستشرق بارتھلڈ جو روس کے مجلۃ الاسلام کا بانی ہے‘ اس نے وسطی ایشیاء میں روسی حکومت کے مفادات کے لئے کام کیا۔ ہالینڈ کا مستشرق ’’سوک ہرگرونجہ‘‘ استعماری اغراض کی تکمیل کے لئے مکہ مکرمہ گیا۔ اس نے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کیا۔ عبدالغفار نام اختیار کیا۔ یہ عربی کا ماہر تھا۔ اس شخص نے مشرق میں ہالینڈ کی نوآبادیاں قائم کرنے کے لئے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ یہ شخص انڈونیشیا میں ہالینڈ کی استعماری حکومت کے اہم عہدوں پر فائز رہا۔ فرائض کے کئی مستشرق فرانس کی نوآبادیوں کے معاملات کے لئے وزارت خارجہ کے مشیر کے عہدے پر فائز رہے مثلا ’’دی ۔ ساس‘‘ جو فرانس کا سب سے بڑا مستشرق ہے۔ وہ مشرق کے متعلق تمام معاملات میں وزارت خارجہ کے مشیر کے طور پر کام کرتا تھا۔ مخصوص حالات میں وہ وزارت دفاع کو بھی مشورے دیتا تھا۔ ایک اور مستشرق ’’ماسینیون‘‘ بڑے عرصے تک فرانس کی استعماری حکومتوں کا‘ اسلام کے متعلق معاملات میں مشیر رہا۔ مشہور فرانسیسی مستشرق ’’ہانوتو‘‘ نے اپنی ایک کتاب میں خود اسی بات کا اعتراف کیا ہے کہ اس نے افریقہ کی اسلامی نو آبادیات میں فرانس کی سیاست کی جڑیں مضبوط کرنے کے لئے فکری مواد اختراع کیا۔ برطانیہ کے لارڈ کرزن نے برطانوی راج کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کے لئے بیسوی صدی عیسوی کے اوائل میں برطانیہ میں علوم شرقیہ کا مدرسہ قائم کرنے کا زور دیا تھا۔ یہی مدرسہ بعد میں لندن یونیورسٹی میں تبدیل ہوا (الاستشراق و الخلیفۃ الفکریہ‘ ص ۵۷)

بیسوی صدی عیسوی کے اوائل ہی سے سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازشیں شروع ہوگئیں۔ مسلمانوں کی قومی یکجتہی ختم کرنے کے لئے سلطنت عثمانیہ کو ریزہ ریزہ کیا گیا۔ محمد نجم مصطفائی اپنی کتاب ’’منزل کی تلاش‘‘ ص ۳۳ پر ایک یہودی مستشرق ٹی ای لارنس کے متعلق لکھتے ہیں ’’برطانوی اور فرانسیسی جاسوس اداروں نے اسے غازی سلطان صلاح الدین ایوبی کی فتوحات اور صلیبی جنگوں میں اپنا بدلہ چکانے کے لئے اور تیل کے ذخیروں پر قبضہ جمانے کے لئے ایک تاجر کے بھیس میں صحرائے عرب بھیجا۔ مصر میں ان دنوں انگریز فوج کی کمان ’’ایلن بی‘‘ کے پاس تھی۔ اس نے لارنس سے کہا ’’عرب میں ترکوں کے خلاف بغاوت کی جو آگ تم نے بھڑکائی ہے‘ اسے سرد نہیں ہونا چاہئے‘‘ جنرل ایلن بی نے لارنس کو یہ بھی یقین دلایا کہ ’’اس کی مدد کے لئے اسلحہ‘ خوراک اور سونا بھیجا جارہا ہے‘‘ لارنس جوکہ آئرلینڈ کے ایک نواب کا ناجائز بیٹا تھا‘ اسے عربی اور فارسی پر غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ وہ عربی لباس پہنتا اور عربی زبان بولتا تھا۔ لارنس نے نہایت عیاری اور چالاکی کے ساتھ صحرائے عرب کی بساط پر نجدی سرداروں کی قبائلی عصبیت کو عثمانی خلافت کے خلاف اپنی پسند کے مہروں کے طور پر استعمال کیا۔ لارنس جو عرب نفسیات کا ماہر ہونے کے علاوہ عربوں کی طرح بولتا تھا‘ وہ بدوئوں کے چھوٹے چھوٹے اجتماعات میں سب سے پہلے یہ حدیث پڑھتا تھا ’’الائمۃ من القریش‘‘ خلفاء قریش سے ہوں گے۔ اس کے بعد سوال کرتا تھا جب رسول خداﷺ نے اس وضاحت سے تخصیص فرمادی ہے تو آپ نے ظالم! اور یتیم وحشی ترکوں کی امامت اور خلافت کیسے تسلیم کی۔ حدیث میں امر خلافت کا اہل قریش کو قرار دیا ہے جبکہ امر سلطنت قریشی اور غیر قریشی دونوں کو حاصل ہے یہی وجہ ہے کہ سلطنت عثمانیہ کے والی اپنے آپکو خلیفہ نہیں سلطان کہا کرتے تھے لیکن لارنس نے قبائل عرب نسلی تعصب پر ابھارتے ہوئے سلطنت عثمانیہ سے بغاوت کرنے کو کہا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلطنت عثمانیہ کو سب سے پہلے صحرائے عرب سے اپنے ہاتھ دھونے پڑے۔ پھر سلطنت عثمانیہ کو ختم کرکے اہل مغرب نے مسلمانوں کی قومی یکجہتی کے شیرازے کو بکھیر دیا۔ اکیسویں صدی داخل ہوچکی ہے لیکن اہل مغرب کی اسلام دشمنی میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ آج پھر مسلم امہ کو کسی صلاح الدین ایوبی کی ضرورت ہے۔