أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّىۡ وَرَبُّكُمۡ فَاعۡبُدُوۡهُ‌ ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسۡتَقِيۡمٌ

ترجمہ:

بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو ‘ یہ سیدھا راستہ ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک اللہ میرا اور تمہارا رب ہے سو تم اس کی عبادت کرو یہ سیدھا راستہ ہے۔ (آل عمران : ٥١)

صراط مستقیم سے مراد ہے اعتقاد حق اور اعمال صالحہ ‘ اور یہ جو فرمایا ہے کہ اللہ میرا اور تمہارا رب ہے سو تم اسی کی عبادت کرو یہی وہ پیغام ہے جس کی دعوت تمام انبیاء (علیہم السلام) نے دی ہے اور اسی کو دین سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ سو تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے اور ان کے زمانہ کے مخصوص حالات کے اعتبار سے عبادات اور معاملات کے طریقے الگ الگ ہیں اور اس کو شریعت سے تعبیر کرتے ہیں :

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 51