حدیث نمبر :202

روایت ہے انہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جوکسی مسلمان کو دنیاوی تکلیف سے رہائی دے تو اﷲ اس سے روزقیامت کی مصیبت دورکرے گا ۱؎ اور جوکسی تنگی والے پر آسانی کرے اﷲ دین و دنیا میں اس پر آسانی فرمائے گا۲؎ اور جومسلمانوں کی پردہ پوشی کرے اﷲ دین و دنیا میں اس کی پردہ پوشی کرے گا ۳؎ اﷲ بندہ کی مدد پر رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد پر رہے۴؎ جو تلاش علم میں کوئی راستہ طے کرے تو اس کی برکت سے اﷲ اس پر جنت کا راستہ آسان کردے گا۵؎ اور کوئی قوم اﷲ کے گھروں میں سےکسی گھر میں قرآن پڑھنے اور آپس میں قرآن سیکھنے سکھانے کے لیے نہیں جمع ہوئی ۶؎ مگر ان پر دل کا چین اترتا ہے اور انہیں رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے گھیر لیتے ہیں۷؎ اور اﷲ اسے اس جماعت میں یاد کرتا ہے جو اس کے پاس ہے ۸؎ جسےعمل پیچھے کردے اسے نسب نہیں بڑھاسکتا۹؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی تم کسی کی فانی مصیبت دفع کرو اﷲ تم سے باقی مصیبت دفع فرمائے گا،تم مؤمن کو فانی دنیوی آرام پہنچاؤ اﷲ تمہیں باقی آخروی آرام دے گا،کیونکہ بدلہ احسان کا احسان ہے۔یہ حدیث بہت جامع ہے کسی مسلمان کے پاؤں سے کانٹا نکالنا بھی ضائع نہیں جاتا،حدیث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف قیامت ہی میں بدلہ ملے گا بلکہ قیامت میں بدلہ ضرور ملے گا اگرچہ کبھی دنیا میں بھی مل جائے۔

۲؎ یعنی جو مقروض کو معافی یا مہلت دے،غریب کی غربت دورکرے تو ان شاءاﷲ دین و دنیا میں اس کی مشکلیں آسان ہوں گی۔مرقاۃ میں فرمایا کہ اس حکم میں مؤمن کافر سب شامل ہیں۔کافرمصیبت زدہ کی مصیبت دورکرنے پربھی ثواب مل جاتا ہے بلکہ حدیث شریف میں ہے کہ ایک رنڈی نے پیاسے کتے کو پانی پلا کر جان بچائی اﷲ نے اسے اسی پر بخش دیا۔

۳؎ یا تو اس طرح کہ ننگے کو کپڑے پہنائے یا ایسے کہ اس کے چھپے ہوئے عیب ظاہر نہ کرے بشرطیکہ اس ظاہر نہ کرنے سے دین یا قوم کا نقصان نہ ہو ورنہ ضرور ظاہرکردے،کفار کے جاسوسوں کو پکڑوائے،خفیہ سازش کرنے والوں کے رازکو طشت ازبام کرے،ظلمًا قتل کی تدبیرکرنے کی مظلوم کو خبر دے دے،اخلاق اورہیں معاملات اورسیاسیات کچھ اور۔

۴؎ یہ الفاظ بہت جامع ہیں جس میں دین ودنیا کی ساری امدادیں شامل ہیں۔امداد بدن سے ہویاعلم یا مال وغیرہ سے۔

۵؎ یعنی جو علم دین سیکھنے یا دینی فتویٰ حاصل کرنے کے لیئے عالم کے گھر جائے۔سفرکر کے یا چند قدم تو اس کی برکت سے اﷲ دنیا میں اس پر جنت کے کام آسان کرے گا،مرتے وقت ایمان نصیب کرے گا،قبرو حشر کے حساب میں کامیابی اور پل صراط پر آسانی عطا فرمائے گا۔جنت کے راستے میں سب چیزیں داخل ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ علم کے لئے سفر کرنا بہت ثواب ہے۔موسیٰ علیہ السلام طلب علم کے لئے خضر علیہ السلام کے پاس سفر کرکے گئے،حضرت جابر ایک حدیث کے لیئے ایک ماہ کا سفر طے کرکے عبداﷲ ابن قیس کے پاس پہنچے۔(مرقاۃ)

۶؎ یہاں اﷲ کے گھر سے مراد مسجدیں،دینی مدرسے اورصوفیاء کی خانقاہیں ہیں،جو اﷲ کے ذکر کے لئے وقف ہیں۔یہود ونصاریٰ کے عبادت خانے اس سے خارج ہیں کہ وہاں تو مسلمان کو بلاضرورت جانا ہی منع ہے۔درس قرآن سے مراد قرآن شریف کی تلاوت۔تجوید احکام سیکھنا ہیں لہذا اس میں صرف،نحو،فقہ حدیث،تفسیر وغیرہ کے درس شامل ہیں۔جیساکہ مرقاۃ وغیرہ میں ہے،اسی لیئے تلاوت کے بعد درس کا علیحدہ ذکر فرمایا۔

۷؎ سکینہ اﷲ کی ایک مخلوق ہے جس کے اترنے سے دلوں کوچین نصیب ہوتا ہے،کبھی ابرکی شکل میں نمودار ہوتی ہے اور دیکھی بھی جاتی ہے،اس کی برکت سے دل سےغیر خدا کا خوف جاتارہتا ہے۔رحمت سے خالص رحمت مراد ہے جو بوقت ذکر ذاکر کو ہرطرف سےگھیرتی ہے۔فرشتوں سے سیّاحین فرشتے مراد ہیں جو ذکر کی مجلسیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں ورنہ اعمال لکھنے والے اورحفاظت کرنے والے فرشتے ہر وقت انسان کے ساتھ رہتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ جہاں مجمع کے ساتھ ذکر اﷲ ہورہا ہو وہاں یہ تین رحمتیں اترتی ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ تنہا ذکر سے جماعت کامل کر ذکر کرنا افضل ہے،جماعت کی نماز کا درجہ زیادہ کہ اگر ایک کی قبول سب کی قبول۔

۸؎ یعنی فرشتوں کی جماعت۔اس کی شرح و ہ حدیث ہے کہ فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو رب کو اکیلے یاد کرے رب بھی اسے ایسے ہی یاد کرتا ہے،جو جماعت میں یاد کرے رب اسے فرشتوں میں یاد کرتا ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے:”فَاذْکُرُوۡنِیۡۤ اَذْکُرْکُمْ”اس رب کی یاد کا اثر یہ پڑتا ہے کہ مخلوق اس بندے کو یاد کرنے لگتی ہے،بزرگوں کے مزارات پر زائرین کا ہجوم وہاں ذکر اﷲ کی دھوم اسی یاد کا نتیجہ ہے۔

۹؎ یعنی نسب کی شرافت عمل کی کمی کو پورا نہ کرے گی۔شعر

بندۂ عشق شدی ترک نسب کن جامی کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست

کیا تمہیں خبر نہیں کہ نوح علیہ السلام کی کشتی میں کتے بلّوں کو جگہ تھی مگر ان کے کافر بیٹے کنعان کے لئے جگہ نہ تھی۔مقصد یہ کہ شریف النسب اعمال سے لاپروا نہ ہوجائیں،یہ منشاء نہیں کہ شرافتِ نسب کوئی چیز نہیں اس کی تحقیق ہمارے رسالہ”الکلام القبول فی طہارت نسب الرسول”میں دیکھو مؤمن کو نسب الرسول ضرور فائدہ دے گا۔تمام دنیا کی عورتیں حضرت فاطمہ زہرا کے قدم پاک کو نہیں پہنچ سکتیں،رب نے بنی اسرائیل سے فرمایا:”اَنِّیۡ فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعٰلَمِیۡنَ”بنی اسرائیل کے تمام عالم پر افضل ہونے کی یہی وجہ تھی کہ وہ اولاد انبیاءہیں لہذا یہ حدیث کسی آیت کے خلاف نہیں۔