أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيۡنَ يَدَىَّ مِنَ التَّوۡرٰٮةِ وَلِاُحِلَّ لَـكُمۡ بَعۡضَ الَّذِىۡ حُرِّمَ عَلَيۡكُمۡ‌وَجِئۡتُكُمۡ بِاٰيَةٍ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ فَاتَّقُوۡا اللّٰهَ وَاَطِيۡعُوۡنِ

ترجمہ:

اور میرے سامنے جو تورات ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں ‘ تاکہ تمہارے لئے کچھ ایسی چیزیں حلال کر دوں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور میرے سامنے جو تورات ہے میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں تاکہ تمہارے لئے بعض ایسی چیزیں حلال کروں جو تم پر حرام کردی گئی تھیں ‘ اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ (آل عمران : ٥٠)

ہر نبی پر واجب ہے کہ وہ اپنے سے پہلے انبیاء کی تصدیق کرے کیونکہ تمام نبیوں کی تصدیق کا ذریعہ معجزہ ہے اور جب ہر نبی نے اپنی نبوت کے ثبوت میں معجزہ پیش کیا ہے تو پھر ہر نبی کی تصدیق کرنا واجب ہے ‘ اور ہوسکتا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت سے یہ غرض ہو کہ وہ تورات کو مقرر اور ثابت رکھیں۔ منکرین کے شبہات کا ازالہ کریں اور غالی یہودیوں نے دین میں جو تحریف کردی ہے اس تحریف کو زائل کریں۔

امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

وہب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ‘ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر تھے۔ وہ ہفتہ کے دن کی تعظیم کرتے تھے اور نماز میں بیت المقدس کی طرف منہ کرتے تھے۔ انہوں نے بنو اسرائیل سے کہا کہ میں تم کو تورات کی کسی بات کی مخالفت کی دعوت نہیں دیتا ‘ البتہ بعض چیزیں جو تورات میں حرام کردیں گئیں میں ان کو حلال کرتا ہوں اور بعض مشکل احکام کو منسوخ کرتا ہوں۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ١٩٦۔ ١٩٥ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

علامہ ابو الحیان عبداللہ بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں :

ابن جریج نے بیان کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کے لئے اونٹ کا گوشت اور چربی کو حلال کردیا اور کئی قسم کی مچھلیاں حلال کردیں اور جس پرندے پر نشانات نہ ہوں ان کو حلال کردیا۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ١٦٨۔ ١٦٧ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

اس جگہ یہ سوال ہے کہ جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو رات کے مصدق تھے تو انہوں نے تورات کی بعض حرام کردہ چیزوں کو حلال کیسے فرمایا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تورات کے آسمانی کتاب ہونے کے مصدق تھے اور اس کے کہ تورات کے زمانہ میں تورات کے احکام برحق تھے ‘ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنے زمانہ میں تورات کی حرام کردہ بعض چیزیں حلال کرنا اور تورات کے بعض احکام کو منسوخ کرنا اس کے منافی نہیں ہے کیونکہ جزوی احکام میں ہر رسول کی شریعت دوسرے رسول سے مختلف ہوتی ہے۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں سو تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے پہلے دلائل اور معجزات سے اپنی نبوت کو ثابت فرمایا۔ پھر انہوں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا یعنی میں تم کو جن کاموں کے کرنے کا حکم دوں ان پر عمل کرنے میں اور جن کاموں سے روکوں ان سے اجتناب کرنے میں اللہ کے خوف سے میری اطاعت کرو۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 50