دعا قبول کیوں نہیں ہوتی؟

اظہار احمد ازہری

حد سے تجاوز کرنے والے اللہ کو پسند نہیں اور جواللہ کوپسند نہیں اُس کی دعائیں اللہ کیوں کر قبول کرےگا؟

ہم سبھی لوگوں کے ذہن میں یہ سوال باربار دستک دیتا رہتاہے کہ ہماری دعائیں قبول کیوں نہیں ہوتیں اوروہ قبول ہونے سے کیوں محروم رہتی ہیں ؟

 جب کہ پروردگار عالم خود ہی ارشادفرماتاہے:

 وَإِذَا سَئَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (بقرہ۱۸۶)

ترجمہ:اے نبی!جب میرے بندےآپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو آپ فرمادیں کہ میں ان کے قریب ہوں اور پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہوں ۔

لیکن اس کے باوجود ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں آخر اِس کی وجہ کیاہے ؟ اور دعائیں قبول نہ ہونے کے پیچھے کون ساراز پوشیدہ ہے ؟

اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئےاللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:

ادْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًاوَّ خُفْيَةً إِنَّهٗ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ (اعراف۵۵)

ترجمہ:چھپ کر گریہ وزاری کرتے ہوئے اپنے رب کی بارگاہ میں دعاکیا کرو، کیوںکہ اللہ تعالیٰ حدسے تجاوز کرنے والے کو پسند نہیں فرماتا ۔

 اس آیت کریمہ میں یہ فرمایاگیا ہے کہ اللہ تعالیٰ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا اوریہ ظاہر سی بات ہےکہ جنھیں اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا تو وہ اُن کی دعائیں کیوں کر قبول کرےگا؟اس لیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں تو سب سے پہلے ہمیں حد میں رہناہوگا،یعنی احکام الٰہی اورشریعت کے مطابق زندگی بسرکرنی ہوگی۔

 اب سوال یہ پیداہوتاہے کہ حدسے تجاوز کرنے والے کون لوگ ہیں ؟

 اس تعلق سےامام قرطبی رحمہ اللہ علیہ (متوفی:۷۱ھ) بیان فرماتے ہیں:

كُلُّ مُصِرٍّ عَلٰى كَبِيْرَةٍ عَالِمًا بِهَا أوْ جَاهِلًا فَهُوَ مُعْتَدٌ۔

 ترجمہ:جان بوجھ کریاانجانے میں باربار گناہ کبیرہ کرنے والا حدسے تجاوز کرنے والاکہلاتاہے ۔

 یعنی گناہ کبیرہ کرناحدسے بڑھنےکی نشانی ہے،اور اسی وجہ سے ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں،اس لیےاب ہمیں اپنا محاسبہ کرنا ہے کہ کہیں ہم گناہ کبیرہ میں توملوث نہیں،اگر ایسا ہے تو گناہوں سے ہر حال میں بچیں اورحد سے آگے بڑھنے والوں میں سے نہ ہوں۔

 مزید اس کی وضاحت اس حدیث پاک سے بھی ہوتی ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا :

اَلرَّجُلُ يُطِيْلَ السَّفَرَ،أَشْعَثَ أَغْبَرَ، يَمُدُّ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ يَا رَبِّ!وَمَطْعَمُهٗ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهٗ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهٗ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنّٰى يُسْتَجَابُ لِذٰلِكَ ۔

 ترجمہ : لمبے سفر کی وجہ سے انسان غبار آلود ہوکر اپنے ہاتھ اوپر اٹھاکر یارب یارب کا ورد لگاتاہے ، اس کی حالت یہ ہوتی ہے کہ اس کا کھانا، پینا اور لباس سب حرام کا ہوتاہے، پھر اُس کی دعا کیسے قبول ہوسکتی ہے ؟

 یعنی حرام کھانے پینے اور حرام لباس کی وجہ سے ہماری دعائیں قبول نہیں ہوتیں،اس لیے ہم پر لازم ہے کہ ہم ہر حال میں حلال کمائیں،حلال کھائیں اور حلال لباس پہنیں۔

دعاکی قبولیت کی شرطیں 

 دعاکی قبولیت کے لیے علمائے کرام نے جوشرطیں بیان کی ہیں، ان کی دوصورتیں ہیں:

۱۔اس کا تعلق دعاکرنے والےسے ہے۔ امام قرطبی رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :

 فَمِنْ شَرْطِ الدَّاعِي أنْ يَّكُوْنَ عَالِمًا بِأنْ لَاقَادِرَ عَلٰى حَاجَتِهٖ إلَّااللهُ، وَأنَّ الْوَسَائِطَ فِي قَبْضَتِهٖ وَمُسَخَّرَةٌ بِتَسْخِيْرِهٖ،وَأنْ يَّدْعُوْ بِنِيَّةٍ صَادِقَةٍ وَحُضُوْرِقَلْبٍ،فَإنَّ اللهَ لَايَسْتَجِيْبُ دُعَاءً مِّنْ قَلْبِ غَافِلٍ لَاهٍ، وَأنْ يَّكُوْنَ مُجْتَنِبًا لِأكَلِ الْحَرَامِ، وَألَّا يَمَلَّ مِنَ الدُّعَاءِ۔

 ترجمہ : دعاکرنے والوں کے لیے یہ شرط ہے کہ وہ اس بات کو جانتاہو کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی اس کی ضرورتوں کو پوری کرسکتاہے ، اسی طرح یہ بھی جانتاہوکہ وسائل سب اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہیں،اور یہ وسائل ہمارے تابع اس لیےہیں کہ اس نے اُنھیں ہمارے تابع بنایا ہے، سچی نیت اور حضورِ قلب کے ساتھ دعاکررہا ہو، کیوں کہ غافل اور لاپرواہ کی دعا اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا،اسی طرح دعاکرنے والا رزق ِحرام سے پرہیز کرتا ہو، اوردعاکرتے وقت اس کے اندر اُکتاہٹ پیدا نہ ہوتی ہو۔

 ۲۔ اس کا تعلق اس چیز سےہے جس کےبارے میں دعاکی جارہی ہے۔ اما م قرطبی یوں بیان فرماتے ہیں:

وَمِنْ شَرْطِ الْمَدْعُوْ فِیْہِ أنْ يَّكُوْنَ مِنَ الْأمُوْرِ الْجَائِزَةِ الطَّلَبِ وَالْفِعْلِ شَرْعًا۔

 ترجمہ:جس چیز کے بارے میں دعاکی جارہی ہے اس کی شرط یہ ہے کہ وہ جائز اور شرعی امورمیں سےہو۔

 مشائخ کرام نے دعا کی قبولیت کے لیےسات شرطیں بیان کی ہے ،چنانچہ حضرت سہل بن عبداللہ تستری رحمہ اللہ علیہ (متوفی : ۲۸۳ ھ) فرماتے ہیں:

 شُرُوْطُ الدُّعَاءِ سَبْعَةٌ:أوَّلُهَاالتَّضَرُّعُ وَالْخَوْفُ وَالرَّجَاءُ وَالْمُدَاوَمَةُ وَالْخُشُوْعُ وَالْعُمُوْمُ وَاَكَلُ الْحَلَالِ۔

 ترجمہ:دعاکی قبولیت کے لیےسات شرطیں ہیں : تضرع ، خوف ، رجا ، مداومت، خشوع، عموم ، اور حلال رزق۔

ایک قول یہ بھی ہےکہ دعاکے لیے چارشرطیں ہیں :

أوَّلُهَا حِفْظُ الْقَلْبِ عِنْدَ الْوَحْدَة، وَحِفْظُ الِّلسَانِ مَعَ الْخَلْقِ، وَحِفْظُ الْعَيْنِ عَنِ النَّظْرِ إلٰى مَا لَا يَحِلُّ، وَحِفْظُ الْبَطْنِ مِنَ الْحَرَامِ۔

 ترجمہ:ایک تنہائی میں دل کی حفاظت،دوم لوگوں کے درمیان زبان پر قابو ،سوم حرام چیزوںسے نظر کی حفاظت، اورچہارم حرام رزق سے پرہیز ۔

 یوں تو ہم نے علما وعرفا کے بیان کردہ شروط کو ملاحظہ کیا اور شرفِ قبولیت تک پہنچانے والے اسباب کو جان لیا ، لیکن دعاکی عدمِ اجابت کے کچھ اوربھی اسباب ہیں جنھیں حضرت ابراہیم ابن ادہم رحمہ اللہ علیہ نے اس وقت بیان فرمایا جب بصرہ کے لوگوں نے آپ سے پوچھا تھا کہ ہم دعائیں کرتے ہیں لیکن ہماری دعائیں مقبول نہیں ہوتیں،آخر اس کے اسباب کیاہیں ؟اس پر آپ نے جواباًیہ ارشادفرمایاکہ دس چیزوں نے تمہارے دلوں کومر دہ کردیاہے جس کی وجہ سے تمہاری دعائیں قبول نہیں ہوتیں :

۱۔ عَرَفْتُمُ اللهَ وَلَمْ تُؤَدُّوْاحَقَّهٗ۔

ترجمہ:تم لوگوں نے اللہ رب العزت کو جانا لیکن اس کے حق کی ادائیگی نہیں کی ۔

 ۲۔اَدْعِيْتُمْ حُبَّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَرَكْتُمْ سُنَّتَهٗ۔

ترجمہ:نبی کی محبت کادعویٰ کرتےہو،اور سنت نبوی سے منھ موڑتے ہو۔

۳۔ قَرَأتُمْ كِتَابَ اللهِ وَلَمْ تَعْمَلُوْا بِهٖ ۔

ترجمہ:قرآن کریم پڑھتے ہو لیکن اس پر عمل نہیں کرتے ۔

۴۔ أكَلْتُمْ نِعْمَةَ رَبِّكُمْ وَلَمْ تَشْكُرُوْهَا۔

ترجمہ:نعمتِ الٰہی کو کھاتے ہولیکن اس نعمت کاشکریہ ادا نہیں کرتے ۔

۵۔اَدْعِيْتُمْ عَدَاوَةَ الشَّيْطٰنِ وَوَافَقْتُمُوْهُ۔

ترجمہ:اس بات کا اقرار کرتے ہو کہ شیطان تمہارا دشمن ہے پھربھی اس کی موافقت کرتے ہو۔

۶۔ قُلْتُمْ نُحِبُّ الْجنَّةَ وَلَمْ تَعْمَلُوْا لَهَا۔

ترجمہ:یہ کہتے ہوکہ ہم جنت کے خواہاں ہیں لیکن اس کے حصول کے لیے کچھ نہیں کرتے۔

۷۔ قُلْتُمْ نَخَافُ النَّارَ وَرَهَنْتُمْ أنْفُسَكُمْ بِهَا۔

ترجمہ:جہنم سے خوف و ہراس کی بات کرتے ہو پھربھی اسی کے گروی بنے ہوئے ہو۔

۸۔ قُلْتُمْ إنَّ الْمَوْتَ حَقٌّ وَلَمْ تَسْتَعِدُّوْا لَهٗ۔

ترجمہ:اس بات کی تصدیق کرتے ہوکہ موت حق ہے لیکن اس کی تیاری نہیں کرتے ۔

۹۔ اِشْتَغَلْتُمْ بِعُيُوْبِ إخْوَانِكُمْ وَنَبَذْتُمْ عُيُوْبَكُمْ۔

ترجمہ:دوسروں کی عیب جوئی کرتے ہو اور اپنے عیوب سے لاپرواہ ہو۔

۱۰۔ دَفَنْتُمْ مَوْتَاكُمْ وَلَمْ تَعْتَبِرُوْابِهِمْ۔

ترجمہ:اپنے مردوں کو دفن کرتے ہو لیکن ان سے عبرت نہیں حاصل کرتے۔

چنانچہ اگر ہم حضرت ابراہیم بن ادہم رحمۃ اللہ علیہ کی ان باتوں کی روشنی میں اپنا اپنامحاسبہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کی بیان کی ہوئی باتوں میں سے کوئی بات ایسی نہیں جو ہم میں نہ پائی جاتی ہو،لیکن اس کے باوجود ہم شکوہ کرتے ہیں کہ ہماری دعائیں مقبول نہیں ہوتی ۔

 اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق بخشے ۔