حکایت نمبر95: اخلاص فروش مسلمان

حضرت سیدنا مبارک بن فُضالہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت سیدنا حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے ہیں: ”کسی علاقے میں ایک بہت بڑا درخت تھا ،لوگ اس کی پوجا کیا کرتے تھے اور اس طرح اس علاقے میں کفر و شرک کی وبا بہت تیزی سے پھیل رہی تھی۔ایک مسلمان شخص کا وہاں سے گزر ہوا تو اسے یہ دیکھ کر بہت غُصّہ آیا کہ یہاں غیر اللہ کی عبادت کی جارہی ہے ۔چنانچہ وہ جذبہ توحید سے معمور بڑی غضبناک حالت میں کلہاڑا لے کر اس درخت کو کاٹنے چلا،اس کے ایمان نے یہ گوارا نہ کیا کہ اللہ عزوجل کے سوا کسی اور کی عبادت کی جائے ۔اسی جذبہ کے تحت وہ درخت کاٹنے جا رہا تھا کہ شیطان مردود اس کے سامنے اِنسانی شکل میں آیا اور کہنے لگا :”تُو اتنی غضبناک حالت میں کہا ں جا رہا ہے ؟”اس مسلمان نے جواب دیا : ”میں اس درخت کو کاٹنے جا رہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں ۔”یہ سُن کر شیطان مردود نے کہا :” جب تُو اس درخت کی عبادت نہیں کرتا تو دوسروں کا اس درخت کی عبادت کرنا تجھے کیا نقصان دیتاہے ؟تُو اپنے اس ارادے سے باز رہ اور واپس چلا جا ۔”اس مسلمان نے کہا : ”میں ہرگز واپس نہیں جاؤں گا۔” معاملہ بڑھا اور شیطان نے کہا :” میں تجھے وہ درخت نہیں کاٹنے دوں گا ۔”

چنانچہ دونو ں میں کُشتی ہو گئی اور اس مسلمان نے شیطان کو پچھاڑ دیا،پھر شیطان نے اسے لالچ دیتے ہو ئے کہا : ”اگر تُو اس درخت کو کاٹ بھی دے گا تو تجھے اس سے کیا فائدہ حاصل ہوگا۔میرا مشورہ ہے کہ تو اس درخت کو نہ کاٹ، اگر تُوایسا کریگا تو روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینار ملا کریں گے ۔”وہ شخص کہنے لگا:” کون میرے لئے دو دینار رکھا کریگا ۔”شیطان نے کہا :” میں تجھ سے وعدہ کرتا ہوں کہ روزانہ تجھے اپنے تکیے کے نیچے سے دو دینارملاکریں گے ۔”وہ شخص شیطان کی اِن لالچ بھری باتوں میں آگیااور دودینار کی لالچ میں اس نے درخت کاٹنے کاارادہ ترک کیا اور واپس گھر لوٹ آیا۔ پھر جب صبح بیدارہوا تو اس نے دیکھا کہ تکیے کے نیچے دو دینار موجود تھے۔پھر دوسری صبح جب اس نے تکیہ اٹھایاتو وہاں دینار موجود نہ تھے،اسے بڑا غُصّہ آیا اور کلہاڑ ااٹھا کر پھر درخت کاٹنے چلا۔شیطان پھرانسان کی شکل میں اس کے پاس آیا اور کہا:”کہاں کا ارادہ ہے؟”وہ کہنے لگا : ”مَیں اس درخت کو کاٹنے جارہا ہوں جس کی لوگ عبادت کرتے ہیں، میں یہ برداشت نہیں کرسکتا کہ لوگ غیر خداکی عبادت کریں ،لہٰذامیں اس درخت کو کاٹ کر ہی دم لوں گا۔”شیطان نے کہا: ”تُو جھوٹ بول رہاہے،اب تُوکبھی بھی اس درخت کو نہیں کاٹ سکتا ۔”چنانچہ شیطان اور اس شخص کے درمیان پھر سے کُشتی شروع ہوگئی۔ اِس مرتبہ شیطان نے اس شخص کو بری طرح پچھاڑدیا اور اس کا گلا دبا نے لگا قریب تھا کہ اس شخص کی موت واقع ہو جاتی۔اس نے شیطان سے پوچھا: ”یہ تو بتا کہ تُو ہے کون؟” شیطان نے کہا: ”میں ابلیس ہوں اور جب تُوپہلی مرتبہ درخت کاٹنے چلاتھاتواس وقت بھی میں نے ہی تجھے روکا تھا لیکن اس وقت تُو نے مجھے گرا دیا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تیرا غصہ اللہ عزوجل کے لئے تھا لیکن اس مرتبہ میں تجھ پر غالب آگیا ہو ں کیونکہ اب تیراغُصّہ اللہ تعالیٰ کے لئے نہیں بلکہ دیناروں کے نہ ملنے کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا اب تو کبھی بھی میرا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔’‘(اے ہمارے پیارے اللہ عزوجل ! ہمیں ہر عمل میں اخلاص عطا فرمااور ریاکاری کی مذموم بیماری سے ہماری حفاظت فرما کر ہمیں ہر عمل صرف اپنی رضا کی خاطر کرنے کی توفیق عطا فرما اورہمیں اپنے مخلص بندو ں میں شامل فرما۔آمین بجاہ النبی الامین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم )؎ میرا ہر عمل بس ترے واسطے ہو کر اِخلاص ایسا عطا یا الٰہی عزوجل