حقوق کب ملیں گے؟

حافظ محمد ایاز اقبال ممتازی رحمانی

آج ہمارے معاشرے میں ہر طرف ’’حقوق‘‘ حاصل کرنے کی صدائیں گونج رہی ہیں اور اسی مقصد کے تحت بے شمار ادارے‘ انجمنیں اور جماعتیں قائم ہیں اور ہر شخص اپنے حقوق کے نام پر زیادہ سے زیادہ مفادات حاصل کرنے کی فکر میں منہمک ہے۔ لیکن اس پہلو کی طرف توجہ بہت کم لوگوں کو ہوتی ہے کہ حقوق ہمیشہ فرائض سے وابستہ ہوتے ہیں بلکہ درحقیقت انہی سے پیدا ہوتے ہیں اور جو شخص اپنے فرائض کماحقہ ادا نہ کرے‘اس کے لئے اپنے متعلقہ حقوق کے مطالبہ کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اسلامی تعلیمات کا مزاج یہ ہے کہ وہ نہ صرف ہر فرد کو اپنے فرائض کی ادائیگی کی طرف متوجہ کرتی ہیں بلکہ اصل فکر یہی پیدا کرتی ہیں کہ کہیں مجھ سے اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی تو نہیں ہورہی؟ اس لئے کہ ہوسکتا ہے کہ میں اپنی ترکیبوں سے اس کوتاہی کو دنیا میں چھپالوں اور اس کے دنیاوی نتائج سے محفوظ ہوجائوں۔ لیکن ظاہر ہے کہ کوئی کوتاہی خواہ وہ کتنی معمولی ہی کیوں نہ ہو‘ اﷲ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتا۔ جب یہ فکر کسی شخص میں پیدا ہوجاتی ہے تو اس کا اصل مسئلہ حقوق کے حصول کے بجائے فرائض کی ادائیگی بن جاتا ہے۔ پھر وہ اپنے جائز حقوق بھی پھونک پھونک کر وصول کرتا ہے کہ کہیں وصول شدہ حق کا وزن ادا کردہ فریضہ سے زیادہ نہ ہوجائے۔

اگر یہ فکر معاشرے میں عام ہوجائے تو سب کے حقوق خود بخود ادا ہونے شروع ہوجائیں اور حق تلفیوں کی شرح گھٹتی چلی جائے۔ اس لئے کہ ایک شخص کا فریضہ دوسرے کا حق ہے اور جب پہلا شخص اپنا فرض ادا کرے گا تو دوسرے کا حق خود بخود ادا ہوجائے گا۔ شوہر اپنے فرائض ادا کرے تو بیوی کے حقوق ادا ہوں گے۔ افسر اپنے فرائض بجالائے تو ماتحت کو اس کے حقوق ملیں گے اور ماتحت اپنے فرائض بجالائے تو افسر کو اس کے حقوق ملیں گے۔ غرض دو طرفہ تعلقات کی خوشگواری کا اصل راز یہی ہے کہ ہر فریق اپنی ذمہ داری محسوس کرکے اس سے ٹھیک ٹھیک عہدہ براں ہو تو دونوں میں سے کسی کو حق تلفی کی کوئی شکایت پیدا نہیں ہوسکتی۔

لیکن یہ فکر معاشرے میں اس وقت تک عام نہیں ہوسکتی جب تک اس میں فکر آخرت کی آبیاری نہ کی جائے۔ آج ہم عقیدہ آخرت پر ایمان رکھنے کا زبان سے خواہ کتنا ہی اعلان کرتے ہوں لیکن ہماری عملی زندگی میں اس عقیدے کا کوئی پرتو عموما نظر نہیں آتا۔ ہماری ساری دوڑ دھوپ کا محور یہ ہے کہ روپے پیسے اور مال و اسباب کی گنتی میں اضافہ کس طرح ہو؟ یہی بات زندگی کا اصل مقصد بن چکی ہے اور یہی ہماری ساری معاشرتی سرگرمیوں کا آخری مطمع نظر ہے۔ چنانچہ اگر ہم کہیں ملازمت کررہے ہیں تو ہماری سوچ کا بنیادی نقطہ یہ ہے کہ اپنی تنخواہ اور اپنے گریڈ میں اضافہ کس طرح کیا جائے اور ملازم کو حاصل ہونے والی دوسری سہولتیں زیادہ سے زیادہ کس طرح حاصل کی جاسکتی ہیں؟ اس کے لئے ہم انفرادی درخواستوں سے لے کر اجتماعی سودا کاری تک اور چاپلوسی سے لے کر دھونس دھاندلی تک ہر حربہ استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ لیکن ہم میں یہ فکر رکھنے والے کم ہیں (گو بحمدﷲ نایاب نہیں) جو کچھ مل رہا ہے۔ وہ ہماری کارکردگی کے لحاظ سے حلال بھی ہے کہ نہیں؟ جب اپنے لئے کچھ وصول کرنے کا وقت آئے تو ہمیں یہ حدیث نبویﷺ خوب یاد ہوتی ہے کہ ’’مزدور کی مزدوری اس کاپسینہ خشک ہونے سے پہلے ادا کرو‘‘ لیکن یہ دیکھنے کی ضرورت ہم میں سے بہت کم لوگ محسوس کریں گے کہ پسینہ واقعی نکلا بھی ہے کہ نہیں؟

اس صورتحال کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے حقوق کے معاملے میں تو بہت حساس ہیں لیکن فرائض کے معاملے میں حساس نہیں اور جب کسی بھی فریق کو اپنے فرائض کی فکر نہ ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ سب کے حقوق پامال ہوتے ہیں۔ معاشرے میں جھگڑوں‘ تنازعات اور مطالبوں کی چیخ و پکار کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ لوگوں کی زبانیں کھل جاتی ہیں اور کان بند ہوجاتے ہیں اور جب ضمیر کو موت کی نیند سلانے کے بعد کوئی کسی کی نہیں سنتا تو لوگ آخری چارہ کار اسی کو سمجھتے ہیں کہ جس کے جوچیز ہاتھ لگ جائے‘ لے بھاگے۔ چنانچہ نوبت چھینا جھپٹی اور لوٹ کھسوٹ تک پہنچ کر رہتی ہے۔

اپے گردو پیش نظر دوڑا کر دیکھیں تو یہی منظر دکھائی دیتا ہے۔ اس سے پریشان ہر شخص ہے‘ لیکن افراتفری کے اس عالم میں یہ سوچنے سمجھنے کی فرصت بہت کم لوگوں کو ہے کہ یہ صورتحال اس وقت تک تبدیل نہیں ہوگی‘ جب تک ہم میں سے ہر شخص فرائض کے احساس کو مقدم نہ رکھے یا کم از کم فرائض کو اتنی اہمیت تو دے جتنی اپنے حقوق کو دیتا ہے۔

اس سلسلے میں آنحضرتﷺ کا ایک اور ارشاد گرامی ہمارے لئے بہترین رہنمائی فراہم کرتا ہے بشرطیکہ اس پر عمل کے لئے تیار ہوں۔ ارشاد ہے ’’اپنے بھائیوں کے لئے وہی پسند کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو اور اپنے بھائی کے لئے اس بات کو برا سمجھو‘ جو اپنے لئے برا سمجھتے ہو‘‘

اس حدیث شریف میں  ہمیں یہ سنہرا اصول بتادیا ہے کہ جب بھی کسی دوسرے شخص سے کوئی معاملہ کرنے کی نوبت آئے تو پہلے اپنے آپ کو دوسرے شخص کی جگہ کھڑا کرکے دیکھو کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو کس قسم کے معاملے کی توقع کرتا؟ کونسی بات میرے لئے ناگواری کا موجب ہوتی؟ اور کس بات سے مجھے اطمینان ہوتا؟ بس اب دوسرے شخص کے ساتھ وہی برتائو کرو جو اس وقت تمہارے لئے موجب اطمینان ہوسکتا تھا اور ہر اس بات سے پرہیز کرو جو تمہیںناگوار ہوسکتی تھی۔

اگر ایک افسر اپنے ماتحت کے ساتھ اپنا رویہ متعین کرتے وقت یہ معیار اپنا لے کہ اگر میں اس کی جگہ ہوتا تو کس قسم کے رویئے کو انصاف کے مطابق سمجھتا؟ تو اس کے ماتحت کو اس سے کبھی ناجائز شکایت نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح اگر ماتحت اپنے کام کی نوعیت اور مقدار متعین کرتے وقت اس بات کو فیصلہ کن قرار دے کہ اگر میں اپنے افسر کی جگہ ہوتا تو میں انصاف کے ساتھ کتنے اور کیسے کام کی توقع کرتا؟ تو افسر کو اپنے ماتحت سے کوئی شکایت نہیں ہوسکتی۔

یہ اصول صرف ماتحت اور افسر ہی کے ساتھ نہیں بلکہ ہر معاملے میں اتنا ہی مفید اور کارآمد ہے۔ باپ بیٹے‘ میاں بیوی‘ ساس بہو‘ دوست احباب‘ عزیز رشتہ دار‘ تاجر اور خریدار‘ حکومت اور عوام غرض ہر قسم کے باہمی رشتوں مگر خرابی یہاں سے پیدا ہوتی ہے کہ ہم نے زندگی گزارنے کے لئے دہرے معیار اپنائے ہوئے ہیں۔ اپنے لئے ہم کسی اور معیار کی توقع رکھتے ہیں اور اس کی بنیاد پر دوسروں سے مطالبے کرتے ہیں اور دوسروں کے لئے ہم نے کوئی اور معیار بنا رکھا ہے اور ان کے ساتھ معاملہ اسی معیار کے مطابق کرتے ہیں۔ اگر ہمارے لینے اور دینے کے پیمانے الگ الگ نہ ہوں بلکہ دونوں صورتوں میں ہماری سوچ ایک جیسی ہو تو حق تلفیوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

لہذا ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ دلوں میں فرائض کا احساس کس طرح پیدا کیا جائے؟ یہ درست ہے کہ کوئی ایک شخص تن تنہا معاشرے کے مزاج کو ایک دم نہیں بدل سکتا۔ لیکن وہ خود اپنے مزاج کو ضرور تبدیل کرسکتا ہے اور اپنے حلقہ اثر میں اس مزاج کو فروغ دینے کی ممکنہ تدابیر بھی اختیار کرسکتا ہے۔ کم از کم ایک گھرانے کو بھٹکنے سے بچا کر سیدھے راستے پر لانے کا کارنامہ اس کے نامہ اعمال کو جگمگانے کے لئے کافی ہوسکتا ہے۔ پھر تجربہ یہ ہے کہ نیک نیتی سے انجام دیا ہو‘ یہ کارنامہ دوسروں پر بھی اپنے اثرات لازماً چھوڑتا ہے اور اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو اسی طرح رفتہ رفتہ فرد سے گھرانہ‘ گھرانے سے خاندان‘ خاندان سے برادری اور برادری سے پوری قوم تعمیر و ترقی کی راہ پر لگ جاتی ہے۔ قومیں ہمیشہ اسی طرح بنی ہیں اور آج بھی ان کے بننے کا یہی طریقہ ہے۔

میں تو تنہا چلا تھا جانب منزل مگر

لوگ ملتے گئے‘ کارواں بنتا گیا!