حدیث نمبر :204

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اﷲ علم کھینچ کر نہ اٹھائے گا کہ بندوں سے کھینچ لے بلکہ علماء کی وفات سےعلم اٹھائے گا ۱؎ حتی کہ جب کوئی عالم نہ رہے گا لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے جن سے مسائل پوچھے جائیں گے وہ بغیر علم فتویٰ دیں گے گمراہ ہوں گے گمراہ کریں گے ۲؎(بخاری،مسلم)

شرح

۱؎ یہ حدیث کا تتمّہ ہے جس میں فرمایا گیا کہ قریبِ قیامت علم اُٹھ جائیگا،جہالت پھیل جائے گی،یعنی اس کے اٹھنے کا ذریعہ نہ ہوگا کہ لوگ پڑھا ہوا بھول جائیں گے،بلکہ علماء وفات پاتے رہیں گےاور بعد میں دوسرے علماء پیدا نہ ہوں گے جیساکہ اب ہورہا ہے کہ ایک خلقت انگریزی کے پیچھے پھر رہی ہے،دینِ رسول اللہ یتیم ہو کر رہ گیا۔علم سے علمِ دین مراد ہے۔

۲؎ پیشوا سے مرادقاضی،مفتی،امام اور شیخ ہیں جن کے ذمّے دینی کام ہوتے ہیں۔مقصد یہ ہے کہ دینی عہدے جاہل سنبھال لیں گے اور اپنی جہالت کا اظہار ناپسندکریں گے۔مسئلہ پوچھنے پر یہ نہ کہیں گے کہ ہمیں خبر نہیں بلکہ بغیر علم گھڑکر غلط مسئلے بتائیں گے اس کا انجام ظاہرہے۔بےعلم طبیب مریض کی جان لیتا ہے اور جاہل مفتی اور خطیب ایمان بربادکرتے ہیں۔