أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَاَمَّا الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا فَاُعَذِّبُهُمۡ عَذَابًا شَدِيۡدًا فِى الدُّنۡيَا وَالۡاٰخِرَةِ وَمَا لَهُمۡ مِّنۡ نّٰصِرِيۡنَ

ترجمہ:

سو جن لوگوں نے کفر کیا ان کو میں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو جن لوگوں نے کفر کیا ان کو دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا اور ان کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔ (آل عمران : ٥٦)

دنیا کا عذاب یہ ہے کہ کافر مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل کئے جائیں گے ‘ گرفتار ہوں گے اور ان کو جزیہ دینا ہوگا ‘ نیز ان کے حق میں مصائب اور آلام بھی دنیاوی عذاب ہیں ‘ اس وعید کے بعد مسلمانوں کو بشارت دی : اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کو اللہ پورا پورا اجر دے گا اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو پسند نہیں کرتا (آل عمران : ٥٧) پھر یہ وہ آیات اور حکمت والی نصیحت ہے جس کو ہم آپ پر تلاوت کرتے ہیں (آل عمران : ٥٨) اس آیت میں حضرت زکریا حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کے ان حالات کی طرف اشارہ ہے جن کا گذشتہ آیات میں تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 56