سوال: آج کل ہمارے نوجوانوں میں یہ بیماری پھیلتی جارہی ہے خصوصا وہ نوجوان جو پینٹ شرٹ میں ملبوس ہوتے ہیں‘ وہ مسجد میں داخل ہوتے ہی اپنی پینٹ کے پائنچوں کوموڑ لیتے ہیں اور بہت زیادہ موڑتے ہیں اور بعض لوگ شلوار کو نیفے کی طرف سے گھرستے ہیں یا موڑتے ہیں‘ اس کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب: جب ہم نماز کا ارادہ کرتے ہیں تو گویا ہم اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے ہیں جو سارے حاکموں کا حاکم ہے۔ اس کی بارگاہ سے بڑھ کر کوئی بارگاہ نہیں لہذا اس کی بارگاہ میں انتہائی ادب کے ساتھ حاضر ہونا چاہئے۔ نہایت ہی سلیقے کے ساتھ‘ اچھا لباس پہن کر حاضر ہوں۔ اس مثال کو یوں سمجھ لیجئے کہ آپ ہم کسی دنیاوی افسر کی خدمت میں جاتے ہیں تو پہلے اپنا حلیہ اچھا کرتے ہیں پھر اپنا لباس درست کرتے ہیں‘ آستین چڑھی ہوئی ہوتی ہے تو اسے سیدھی کرلیتے ہیں‘ شلوار کا پائنچا اگر اوپر نیچے ہو تو اسے درست کرتے ہیں تو جب دنیاوی دربار کا اس قدر احترام ہے تو جو بارگاہ تمام بارگاہوں سے افضل و اعلیٰ ہے اس بارگاہ کا احترام کس قدر ہونا چاہئے‘ اب شلوار کو نیفے کی طرف سے یا پینٹ کے پائنچے کو نیچے سے موڑنے کی مذمت میں احادیث مبارکہ ملاحظہ فرمائیں۔

حدیث شریف

حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ سرکار اعظمﷺ فرماتے ہیں کہ: مجھے حکم ہوا کہ سات ہڈیوں پر سجدہ کروں (منہ اور دونوں گھٹنے اور دونوں پنجے) اور یہ حکم ہوا کہ کپڑے اور بال نہ موڑوں (بخاری شریف جلد اول ص ۱۱۳‘ مسلم شریف جلد اول ص ۱۹۳‘ ترمذی شریف جلد اول ص ۶۶)

شارح بخاری علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں لیکن اصطلاح شرعی میں کپڑے کا موڑنا اور سجدہ میں جاتے وقت اپنے کپڑے کو اوپر کی طرف کھینچنا ہے‘ یہ فعل کپڑں کا ٹخنوں کے نیچے بغیر تکبر کی نیت سے ہونے سے زیادہ قبیح و نقصان دہ ہے کہ پہلی صورت میں یعنی کپڑا بغیر تکبر کی نیت سے نیچی رہنے میں نماز مکروہ تنزیہی ہے یا خلاف اولیٰ ہوگی اور کف ثوب کی صورت میں خواہ نیفے یا پائنچے کی طرف سے موڑے اور اسی طرح آدھی کلائی سے زیادہ آستین موڑنے یا دامن سمیٹ کر نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ (نماز کو دوبارہ لوٹانا) ہے (شارح بخاری ‘ عینی جلد ص ۹۰)

درمختار میں ہے اور اس کے تحت علامہ عابدین شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ کف ثوب مکروہ ہے یعنی کپڑے کا اٹھانا اگرچہ کپڑا مٹی سے بچانے کے لئے ہو جیسے آستین دامن موڑنا اگر ایسی حالت میں نماز میں داخل ہوا کہ اس کی آستین یا اس کا دامن موڑا ہوا تھا‘ جب بھی مکروہ ہے اور اس قول سے اس بات کی طرف سے اشارہ کرنا مقصود ہے کہ یہ موڑنا حالت نماز کے ساتھ ہی مخصوص نہیں‘ خواہ نماز شروع کرنے سے پہلے یا دوران نماز ہو سب صورتوں میں مکروہ ہے (جلد اول ص ۵۹۸)

معلوم ہوا کہ کوشش کی جائے کہ شلوار‘ پینٹ یا ازار ٹخنوں سے تھوڑی سی اوپر سلائی جائے۔ اگر بالفرض پینٹ یا شلوار ٹخنوں سے بڑی ہے تو اس کو اوپر یا نیچے سے فولڈ یعنی موڑا نہ جائے‘ کیونکہ ایسا فعل مکروہ تحریمی ہے یعنی اگر کسی شخص نے ایسی حالت میں نماز پڑھی تو شلوار یا پینٹ درست کرکے نماز دوبارہ لوٹانا واجب ہوگی۔

کپڑے ٹخنے سے اوپر رکھنے کا حکم

حدیث شریف: حضرت ابن عمر رضی اﷲ عنہما فرماتے ہیں کہ سرکار اعظمﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا کپڑا تکبر سے نیچے کرے گا‘ اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف رحمت نہیں فرمائے گا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اﷲ عنہ نے اس فرمان کو سنتے ہی عرض کیا یارسول اﷲﷺ میرا تہبند تو نیچے لٹک جاتا ہے مگر اس وقت کہ جب میں اس کا خاص خیال رکھوں (اس کے شکم پر تہبند رکتا نہیں تھا سرک جاتا تھا) سرکار اعظمﷺ نے فرمایا تم ان میں سے نہیں جو تکبر کے طور پر ازار بند لٹکائے ہیں یعنی یہ وعید ان لوگوں کے لئے ہے جو قصدا (جان بوجھ کر) تکبر کی نیت سے تہبند و شلوار وغیرہ نیچی رکھتے ہیں ۔ (بحوالہ بخاری شریف جلد دوم ص ۸۶۰)

اس حدیث سے یہ واضح ہوگیا کہ کپڑے ٹخنے سے نیچے لٹکانے کی دو صورتیں ہیں۔

۱۔ بطور تکبر    ۲۔ بغیر تکبر

پہلی صورت حرام ہے اس میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوتی ہے اور دوسری صورت میں بغیر تکبر کی نیت سے ازار یا شلوار کو ٹخنوں سے نیچے رکھنا مکروہ تنزیہی بلکہ خلاف اولیٰ ہے۔ صدیق اکبر رضی اﷲ عنہ کا یہ فعل ازراہ تکبر نہ تھا کیونکہ ان کے شکم مبارک کی وجہ سے ازار نیچے سرک جاتا تھا اسی وجہ سے سرکار اعظمﷺ نے فرمایا یعنی اے ابوبکر رضی اﷲ عنہ! تم تکبراً کپڑا نیچے کرنے والے نہیں ہو۔

الغرض کہ پائنچوں کا ٹخنے کے نیچے ہونا اگر تکبر کی نیت سے ہو تو حرام ہے اور وہ حصہ بدن جہنم کی آگ سے نہ بچ سکے گا اور اس میں نماز مکروہ تحریمی بھی ہوگی اور اگر تکبر کی نیت سے نہیں تو مستحق عذاب و عتاب نہیں اور نماز مکروہ تنزیہی بلکہ خلاف اولیٰ ہے۔

لہذا کوشش کی جائے کہ شلوار یا ازار لمبی سلوائی ہی نہ جائے کہ ٹخنے سے نیچے رہے کیونکہ یہ صرف نماز کی حالت میں خرابی نہیںبلکہ عام حالت میں بھی اتنی ہی خرابی ہے جتنی نماز کی حالت میں ہے۔ احادیث میں ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ اتنی چھوٹی ہو کہ دیکھنے والوں کو معیوب لگے‘ لوگ سمجھیں کہ چھوٹے بھائی کی شلوار پہن لی ہے۔