أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلۡحَـقُّ مِنۡ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنۡ مِّنَ الۡمُمۡتَرِيۡنَ

ترجمہ:

یہ تمہارے رب کی طرف سے حق (کابیان) ہے سو (اے مخاطب) تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ تمہارے رب کی طرف سے حق (کا بیان) ہے سو تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا۔ (آل عمران : ٦٠)

اس آیت سے بہ ظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم قرآن مجید میں شک کرتے تھے سو اللہ تعالیٰ نے آپ سے فرمایا تم شک کرنے والوں میں سے نہ ہوجانا ‘ اس کے دو جواب ہیں ایک یہ کہ اس آیت میں بہ ظاہر آپ کو خطاب ہے لیکن دراصل یہ آپ کی امت کے افراد سے خطاب ہے ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ قرآن مجید میں شک نہ کریں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ قرآن مجید پر یقین رکھنے اور شک نہ کرنے کی صفت پر دائم اور مستمر رہیں۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 60