أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ مَثَلَ عِيۡسٰى عِنۡدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ‌ؕ خَلَقَهٗ مِنۡ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنۡ فَيَكُوۡنُ

ترجمہ:

بیشک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے اس کو مٹی سے بنایا پھر اس سے فرمایا ہوجا سو وہ ہوگیا

تفسیر:

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابن اللہ ہونے کی دلیل کا رد : 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی نیشا پوری متوفی ٤٥٨ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں

حسن بیان کرتے ہیں کہ نجران کے دو راہب (سید اور عاقب) : الدرالمنثور ج ٢ ص ٣٧) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ان پر اسلام پیش کیا۔ ان میں سے ایک نے کہا ہم اس سے پہلے اسلام قبول کرچکے ہیں آپ نے فرمایا تم جھوٹ بولتے ہو۔ اسلام قبول کرنے سے تمہیں تین چیزیں مانع ہیں۔ تم صلیب کی عبادت کرتے ہو۔ تم خنزیر کھاتے ہو اور تم یہ کہتے ہو کہ اللہ کا بیٹا ہے۔ ان دونوں نے کہا پھر عیسیٰ کا باپ کون ہے ؟ تو یہ آیت نازل ہوئی : بیشک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال اللہ کے نزدیک آدم کی طرح ہے۔ (الوسیط ج ١ ص ٤٤٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

اس آیت میں قیاس سے استدلال کرنے کا جواز ہے۔ عیسائی ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا اس لئے کہتے تھے کہ وہ عام عادت اور معمول کے خلاف باپ کے بغیر پیدا ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حضرت آدم کی پیدائش اس سے بھی غیر معمولی طریقہ سے ہوئی ہے کیونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تو صرف باپ کے بغیر پیدا ہوئے ‘ اور حضرت آدم باپ اور ماں دونوں کے بغیر پیدا ہوئے ‘ اور دونوں میں وجہ مشترک یہ ہے کہ دونوں اللہ کے کلمہ ” کن “ سے پیدا ہوئے اور جب حضرت آدم (علیہ السلام) بھی کلمہ ” کن “ سے پیدا ہونے کے باوجود ابن اللہ نہیں ہیں تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہونے کی وجہ سے ابن اللہ کیسے ہوسکتے ہیں۔ بعض علماء کا روم کے عیسائیوں سے مباحثہ ہوا ان سے پوچھا تم عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کیوں کرتے ہو ؟ انہوں نے کہا کیونکہ ان کا باپ نہیں تھا۔ علماء نے کہا تو پھر حضرت آدم عبادت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ ان کے باپ اور ماں دونوں نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مردوں کو زندہ کرتے تھے علماء نے کہا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے چار مردے زندہ کئے ہیں اور حضرت حزقیل نے آٹھ ہزار مردے زندہ کئے تھے۔ انہوں نے کہا وہ مادر زاد اندھوں اور برص کے مریضوں کو شفادیتے تھے علماء نے کہا پھر جرجیس عبادت کے زیادہ مستحق ہیں کیونکہ وہ آگ میں جل جانے کے باوجود صحیح وسالم نکل آئے اور ہمارے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت قتادہ کی نکلی ہوئی آنکھ دوبارہ لگا دی اور آپ کے دعا سے ایک نابینا ‘ بینا ہوگیا۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ١٨٦۔ ١٨٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اس کو مٹی سے بنایا پھر اس سے فرمایا ہوجا سو وہ ہوگیا۔

انسان کو مٹی سے پیدا کرنے کی حکمتیں : 

حضرت آدم کو مٹی سے بنانے کی ایک حکمت یہ ہے کہ ان کی اصل فطرت میں تواضع اور انکسار ہو کیونکہ عناصر اربعہ میں سے مٹی سب سے نیچے ہوتی ہے ‘ دوسری حکمت یہ ہے کہ مٹی دوسری چیزوں کو چھپا لیتی ہے اس سے انسان کی اصل فطرت میں ستر (لوگوں کے عیوب پر پردہ رکھنے) کی صفت آئے گی۔ تیسری حکمت یہ ہے کہ حضرت آدم کو زمین کا خلیفہ بنانا تھا اس لئے ان کو مٹی کا بنایا گیا تاکہ ان کی مٹی کے ساتھ قومی مناسبت ہو۔ چوتھی حکمت یہ ہے کہ انسان کو مٹی سے بنایا تاکہ وہ اس مٹی سے شہوت حرص اور غضب کی آگ کو بجھا سکے۔ پانچویں حکمت یہ ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہے کیونکہ عناصر اربعہ میں سب سے روشن آگ ہے اللہ تعالیٰ نے آگ سے شیاطین کو پیدا کیا اور انہیں گمراہی کے اندھیروں میں مبتلا کردیا اور سب سے لطیف ہوا ہے۔ (ایک قول کے مطابق) فرشتوں کو ہوا سے پیدا کیا اور ان کو انتہائی شدت اور قوت عطا فرمائی اور پانی جو بہت رقیق ہے اس سے آسمانوں کو پیدا کیا اور ان کو فضاء میں معلق کردیا اور مٹی جو عناصر اربعہ میں سب سب کثیف “ تاریک اور نچلے درجہ میں تھی اس سے انسان کو پیدا کیا اور اس کو اپنی معرفت ‘ ہدایت ‘ نورانیت اور محبت عطا فرمائی اور اس کو سب پر فائق اور سر بلند کردیا اور تمام مخلوقات میں انسان کو سرخرو اور بلند کیا۔

(آیت) ’ ’ ولقد کرمنا بنی آدم وحملنھم فی البر والبحر ورزقنھم من الطیبات وفضلنا علی کثیر ممن خلقنا تفضیلا “۔۔ (بنواسرائیل : ٧٠)

ترجمہ : اور بیشک ہم نے بنو آدم کو بزرگی عطا فرمائی اور ہم نے ان کو خشکی اور سمندر میں سوار کیا اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا ‘ اور ہم نے ان کو اپنی مخلوق میں بہت سی چیزوں پر واضح فضیلت دی۔

حضرت آدم کے پتلے سے ” کن فیکون “ کے خطاب کی وضاحت : 

اس آیت پر یہ سوال ہوتا ہے کہ اس آیت میں مذکور ہے : اس کو مٹی سے بنایا پھر اس سے فرمایا ” کن “ (ہو جا) ” فیکون “ (سو وہ ہوگیا) اس سے معلوم ہوا کہ پہلے حضرت آدم کی تخلیق کی گئی اور اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ” کن “ فرمایا۔ حالانکہ تخلیق ” کن “ سے ہی ہوتی ہے۔ اس سوال کا ایک جواب یہ ہے کہ ” خلقہ من تراب “ کا معنی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم کی مٹی سے تخلیق کا ارادہ کیا۔ پھر فرمایا ” کن “ تو وہ ہوگئے دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مٹی سے ایک پتلا بنایا پھر ” کن “ فرما کر اس میں جان ڈال دی۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے فرمایا (آیت) ” خلقہ من تراب “ آدم کو مٹی سے بنایا پھر اللہ تعالیٰ نے اس کی تفسیر اور وضاحت کی کہ اللہ تعالیٰ نے آدم کو مٹی سے کیسے بنایا تو فرمایا ہم نے اس سے ” کن “ کہا تو وہ ہوگئے خلاصہ یہ ہے کہ لفظ ” ثم “ تاخیر واقع کے لئے نہیں ہے بلکہ تاخیر بیان کے لئے ہے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ ” فیکون ‘ مضارع کا صیغہ ہے اس کا معنی ہے ہوتا ہے یا ہوگا۔ بہ ظاہر فکان فرمانا چاہیے تھا جس کا معنی ہے ہوگیا اس کا جواب یہ ہے کہ تقدیر عبارت اس طرح ہے : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کا رب جس چیز کے لئے ” کن “ فرماتا ہے وہ لامحالہ ہوجاتی ہے۔

تیسرا سوال یہ ہے کہ اس آیت میں مذکور ہے پھر اس سے (آدم سے) فرمایا ” کن “ تو وہ ہوگئے۔ ” کن “ فرمانے سے پہلے تو حضرت آدم وجود میں آئے ہی نہ تھے پھر اللہ تعالیٰ نے کسے فرمایا کہ اس سے کہا ” کن “ اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں جو حضرت آدم کا وجود علمی تھا اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم اب علم تفصیلی اور وجود خارجی میں بھی آجاؤ

حضرت عیسیٰ اور حضرت آدم کے درمیان وجوہ مماثلت :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اللہ کے نزدیک عیسیٰ کی مثال آدم کی طرح ہے۔ یہ مماثلت کئی وجوہ سے ہے۔

(١) یہ دونوں بغیر باپ کے پیدا ہوئے۔

(٢) دونوں کلمہ ” کن “ سے پیدا ہوئے۔

(٣) دونوں نبی ہیں۔

(٤) دونوں اللہ کے بندے ہیں۔

(٥) دونوں کی مخالفت کی گئی حضرت آدم کی ابلیس نے مخالفت کی اور حضرت عیسیٰ کی یہود نے مخالفت کی۔

(٦) اس مخالفت کی وجہ سے حضرت آدم آسمانوں سے زمین کی طرف آئے اور حضرت عیسیٰ زمین سے آسمانوں کی طرف گئے۔

(٧) حضرت آدم پھر کامیاب ہو کر جنت میں جائیں گے اور حضرت عیسیٰ پھر کامیاب ہو کر زمین پر آئیں گے۔

(٨) اللہ تعالیٰ نے دونوں کے علم کا اظہار فرمایا حضرت آدم کے علم کے متعلق فرمایا : (آیت) ” وعلم ادم الاسماء کلھا “۔ (البقرہ : ٣١) اور حضرت عیسیٰ کے علم کے متعلق فرمایا (آیت) ” ویعلمہ الکتاب والحکمۃ “ (آل عمران : ٤٨)

(٩) دونوں میں اپنی پسندیدہ روح پھونکی حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا (آیت) ” ونفخت فیہ من روحی “۔ (الحجر : ٢٩ ) ‘ ص : ٧٢) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا : (آیت) ” نفخنا فیہ من روحنا “۔ (الانبیاء : ٩١‘ التحریم : ١٢)

(١٠) دونوں اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں دونوں کھاتے پیتے تھے اور دونوں کے لئے موت مقدر ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 59