أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الۡقَصَصُ الۡحَـقُّ ‌‌ۚ وَمَا مِنۡ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ‌ؕ وَاِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡحَكِيۡمُ

ترجمہ:

بیشک یہی بیان حق ہے اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور بیشک اللہ ہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک یہی بیان حق ہے اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور بیشک اللہ ہی غلبہ والا حکمت والا۔ پھر بھی اگر وہ اعراض کریں تو اللہ فساد کرنے والوں کو خوب جاننے والا ہے۔۔ (آل عمران : ٦٣۔ ٦٢)

اس میں ان دلائل کی طرف اشارہ ہے جو بیان کئے جا چکے سو وہ دلائل اور مباہلہ اور جو ذکر ان کے بیان پر مشتمل ہے وہ سب حق ہے اور رشد و ہدایت ہے ‘ پھر ان دلائل سے یہی مطلوب ثابت ہوتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے۔ اس کے بعد فرمایا اللہ ہی غلبہ والا اور حکمت والا ہے۔ اس میں بھی عیسائیوں کا رد ہے کیونکہ چند مردوں کو زندہ کرنے اور چند بیماروں کو شفا دینے کی وجہ سے وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو خدا کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ صرف اتنی قدرت سے کسی کا خدا ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ تم کو خود اعتراف ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) یہودیوں سے چھپتے پھرتے تھے اور یہودیوں نے ان کو قتل کردیا تھا اور خدا کسی سے مغلوب نہیں ہوتا خدا وہ ہے جس کا تمام کائنات پر غلبہ ہے ‘ اور اسی کی قاہر قدرت سے تمام نظام عالم جاری وساری ہے۔ اسی طرح نصاری حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس لئے خدا کہتے تھے کہ انہوں نے چند غیب کی خبریں دیں اللہ تعالیٰ نے اس کا رد کرتے ہوئے فرمایا صرف اتنے علم سے کسی کا خدا ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ خدا وہ ہے جو تمام معلومات اور تمام عواقب امور کا عالم ہو اور کائنات کے ماضی اور مستقبل کی کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہ ہو ‘ اور اگر وہ اس سے اعراض کریں کہ خدا کے لئے تمام مقدورات پر قادر اور غالب ہونا اور تمام معلومات غیر متناہیہ کا عالم ہونا ضروری ہے اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس طرح غالب اور عالم نہ ہونے کے باوجود ان کو خدا مانیں تو پھر آپ ان سے بحث نہ کریں اور ان کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں کیونکہ اللہ ان کے فساد اور ان کے اعراض فاسدہ کو خوب جانتا ہے اور وہی ان کی خبر لے گا۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 62