جو اسلام میں اچھا طریقہ

حدیث نمبر :208

روایت ہے حضرت جریر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ ہم صبح سویرے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر تھے کہ آپ کی خدمت میں ایک قوم آئی جو ننگی اور کمبل پوش تھی تلواریں گلے میں ڈالے تھے۲؎ ان میں عام بلکہ سارے ہی قبیلہ مضر سے تھے ان کا فاقہ دیکھ کر حضور انورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ کا رنگ اڑ گیا ۳؎ لہذا اندرتشریف لے گئے پھر باہر تشریف لائے حضرت بلال کو حکم دیا انہوں نے اذان و تکبیر کہی پھر نماز پڑھی پھرخطبہ فرمایا ۴؎ ارشاد فرمایا اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا آخر آیت رقیبًا تک ۵؎ اور وہ آیت تلاوت فرمائی جو سورۂ حشر میں ہے اﷲ سے ڈرو ہر شخص غورکرے کہ اس نے کل کے لیے کیا بھیجا ۶؎ انسان اپنے دینار درہم اپنے کپڑے گندم وجَو کے صاع میں سے خیرات کرے حتی کہ فرمایا کھجور کی کھانپ ہی سہی ۷؎ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری تھیلی لائےجس کے وزن سے ان کا ہاتھ تھکا جاتا تھا بلکہ تھک ہی گیا ۸؎ پھر لوگوں کا تانتا بندھ گیا حتی کہ میں نے کھانے کپڑے کے ڈھیر دیکھے ۹؎ تاآ نکہ میں نے حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ انور دیکھا کہ چمک رہا ہے گویا سونے کی ڈلی ہے ۱۰؎ تب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اسلام میں اچھا طریقہ ایجاد کرے اسے اپنے عمل اور ان کے عملوں کا ثواب ہے جو اس پر کار بند ہوں ۱۱؎ ان کا ثواب کم ہوئے بغیر اور جو اسلام میں بُرا طریقہ ایجاد کرے اس پر اپنی بدعملی کا گناہ ہے اور ان کی بدعملیوں کا جو اس کے بعد ان پر کاربند ہوں اس کے بغیر ان کے گناہوں سے کچھ کم ہو۱۲؎ (مسلم)

شرح

۱؎ آپ کا نام جریر ابن عبداﷲ بَجَلی ہے،مشہورصحابی ہیں،نہایت حسین اور خوش اخلاق تھے،عمر فاروق آپ کو یوسف علیہ السلام سےتشبیہ دیتے تھے،حضور کی وفات کے سال اسلام لائے۔بعض روایات میں ہے کہ وفات شریف سے چالیس دن پہلے ایک زمانہ کوفہ میں رہے(مقام قرقیسیا میں)، ۵۱ ھ؁ میں و فات ہوئی رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

۲؎ یعنی غربت کی وجہ سے ان کے پاس سوائے ایک کمبل کے تن ڈھکنے کو کوئی کپڑا نہ تھا اس کے باوجود غزوے اور جہاد کے شوقین تھے کہ تلواریں ہر ایک کے پاس تھیں۔

۳؎ یعنی ان کی فقیری سے خاطر اقدس کو بہت ملال پہنچا جس کے آثار چہرۂ انور پر نمودار ہوئے کیوں نہ ہو،بے نواؤں فقیروں کے غم خوار جو ہیں،ہم غریبوں پر وہ رنج نہ کریں تو کون کرے۔شعر

من از بے نوائی نیم روئے زرد غم بے نوایاں رُخم زرد کرد

یہ اس آیت کی تفسیر ہے”عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ”۔

۴؎ یہ وعظ لوگوں کو خیرات پر رغبت دینے کے لئے تھا،اس وقت دولت خانۂ اقدس میں کچھ ہوگا نہیں۔

۵؎ یہ آیت حسب موقعہ تلاوت فرمائی،یعنی سارے امیروفقیر بھائی ہیں کہ آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔امیر کو چاہیئے کہ فقیر کی مدد کرے۔مرقاۃ میں اس جگہ ہے کہ حضرت حوّا کے بیس بار میں چالیس بچے ہوئے بیس لڑکے بیس لڑکیاں۔

۶؎ یعنی قیامت کے لئے نیک اعمال خصوصًاصدقہ و خیرات کیا کرو۔

۷؎ کیونکہ رب تعالٰی کی بارگاہ میں خیرات کی مقدار نہیں دیکھی جاتی بلکہ دینے والے کا اخلاص۔اس سے معلوم ہوا کہ غریب آدمی اپنی ضروریات میں سے کچھ خیرات کرے تو ثواب کا مستحق ہے،بشرطیکہ بال بچوں اور اہل حقوق کا حق نہ مارے اور بعد میں خود بھی بھیک نہ مانگے۔

۸؎ یعنی تھیلی میں اتنا غلّہ تھا جو انصاری سے برداشت نہ ہوسکا اور زیادتی بوجھ کے سبب تھیلی ہاتھ سے گر گئی۔ظاہر یہ ہے کہ یہ جَویا گندم وغیرہ کا بڑاتھیلا ہوگاجیساکہ اگلےمضمون سے معلوم ہورہا ہے کہ بارگاہ نبوی میں اس وقت غلّے اور کپڑے کے ڈھیرلگے۔بعض شارحین نےلکھاکہ وہ ہمیانی تھی جس میں درہم و دیناربھرے ہوئے تھے مگر یہ خلاف ظاہر ہے۔خیال رہے کہ یہ انصاری سب سے پہلے یہ خیرات لائے پھر ان کو دیکھ کر دوسرے حضرات اسی لیئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی وہ تعریف فرمائی جو آگے بیان ہورہی ہے۔

۹؎ جوان فقراء پرتقسیم کے لئے جمع ہوگئے تھے۔ چونکہ ان مساکین کی پوری جماعت تھی اسی لئے اتنا صدقہ کیا گیا۔اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ بوقت ضرورت چندہ کرنا جائز ہے۔دوسرے کہ مسجد میں دوسروں کے لیئے سوال جائز ہے۔جن احادیث میں مسجد میں مانگنے کی ممانعت ہے وہاں اپنے لیئے مانگنا مراد ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں۔

۱۰؎ فقراء کی حاجت روائی اور صحابہ کی خیرات پر خوشی کی وجہ سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امت کی نیکیوں پر خوش ہوتے ہیں او ر جو اﷲ اوررسول کو راضی کرنا چاہے وہ فقیروں کی حاجت پوری کرے۔خیال رہے کہ جس چاندی کے ٹکڑے پر سونے کا ملمع کردیا جائے یا جس چمڑے یا کپڑے پر طلائی کام کردیا جائے اسے عربی میں مذھبّہ کہتے ہیں۔یہاں پہلے معنے مراد ہیں۔

۱۱؎ یعنی موجد خیر تمام عمل کرنے والوں کے برابر اجر پائے گا لہذا جن لوگوں نے علم فقہ،فن حدیث،میلاد شریف،عرس بزرگاں،ذکر خیر کی مجلسیں،اسلامی مدرسے،طریقت کے سلسلے ایجاد کئے انہیں قیامت تک ثواب ملتا رہے گا۔یہاں اسلام میں اچھی بدعتیں ایجاد کرنے کا ذکر ہے نہ کہ چھوڑی ہوئی سنتیں زندہ کرنے کا،جیسا کہ اگلے مقابلے سے معلوم ہورہا ہے اس حدیث سے بدعت حسنہ کے خیر ہونے کا اعلٰی ثبوت ہوا۔

۱۲؎ یہ حدیث ان تمام احادیث کی شرح ہے جن میں بدعت کی برائیاں آئیں۔صاف معلوم ہوا کہ بدعت سیئہ بری ہے اور ان احادیث میں یہی مراد ہے۔یہ حدیث بدعت کی دو قسمیں فرما رہی ہیں،بدعت حسنہ اور سیئہ،اس میں کسی قسم کی تاویل نہیں ہوسکتی ان لوگوں پر افسوس ہے جو اس حدیث سے آنکھیں بند کرکے ہر بدعت کو برا کہتے ہیں حالانکہ خود ہزاروں بدعتیں کرتے ہیں۔بدعت کی تحقیق اور اس کی تقسیم پچھلے باب میں گزر چکی۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.