حدیث نمبر :211

روایت ہے ابو امامہ باہلی سے فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوشخصوں کا ذکر ہوا جن میں سے ایک عابد دوسرا عالم ہے۔۱؎ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی پر ۲؎ پھر فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اﷲ اور اس کے فرشتے اور آسمان و زمین والے حتی کے چیونٹیاں اپنے سوراخوں میں اور مچھلیاں(پانی میں)صلوٰۃ بھیجتے ہیں لوگوں کو علم دینی سکھانے والے پر۳؎ اسے ترمذی نے روایت کیا۔اور دارمی نے حضرتِ مکحول سےمرسلًانقل کیا اور دو شخصوں کا ذکر نہ کیا اور فرمایا کہ عالم کی عابد پر فضیلت ایسی ہے جیسے میری فضیلت تمہارے ادنی شخص پر پھر آیت تلاوت فرمائی کہ اﷲ سے صرف علماءہی ڈرتے ہیں اورحدیث آخر کی بیان کی۔

شرح

۱؎ ظاہر یہ ہے کہ ان سے خاص مرد مرادنہیں بلکہ عمومی سوال ہے،یعنی اگر دو آدمیوں میں سے ایک عالم اورایک عابد ہوتو درجہ کس کا زیادہ ہوگا،عالم و عابد کے معنی ہم پہلے بیان کرچکے۔

۲؎ یہ تشبیہ بیان نوعیت کے لئے نہ کہ بیان مقدار کے لئے،یعنی جس قسم کی بزرگی مجھ کو تمام مسلمانوں پر حاصل ہے اس قسم کی بزرگی عالم کو عابد پریعنی دینی بزرگی نہ کہ محض دنیاوی،اگرچہ ان دونوں بزرگیوں میں کروڑ ہا فرق ہیں۔بادشاہ کو رعایا پر سلطنت کی،مالدار کو فقیر پر مال کی،جتھے والے کو بے کس پر قوت کی،حسین کو بدشکل پر جمال کی بزرگی حاصل ہے۔مگر یہ بزرگیاں،دنیوی اور فانی ہیں،نبی کو مخلوق پر دینی بزرگی حاصل ہے،جو ابد الآباد تک قائم ہے،ایسے ہی عالم کو جاہل پر،آج سکندر کو کسی فقیر پر ملکی بزرگی نہیں،مگر امام ابوحنیفہ کو تمام مقلدین پر بے پناہ عظمت اب بھی حاصل ہے۔خیال رہے حضور انور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو نبیوں پر اور درجہ کی بزرگی ہے،صحابہ پر اور درجہ کی،اولیاء و علماء پر اور درجہ کی،عوام پراور درجہ کی، اَدْنیٰ کُمْ میں اس آخری درجہ کی طرف اشارہ ہے۔فرماتے ہیں:”وَاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَۃِ الْمَسَاکِیْنِ”رب تعالٰی فرماتاہے:”مَثَلُ نُوۡرِہٖ کَمِشْکٰوۃٍ فِیۡہَا مِصْبَاحٌ”اس آیت میں نور الٰہی کی مثال نور چراغ سے دی گئی حالانکہ چراغ کے نور کو اس نور سے کیا نسبت ؟ایسے ہی یہ بھی تمثیل ہے۔

۳؎ ملائکہ سے حاملین عرش فرشتے اور اھلِ سمٰوٰت سے باقی فرشتے مراد ہیں۔ا ﷲکی صلوٰۃ سے اس کی خاص رحمت اور مخلوق کی صلوٰۃ سے خصوصی دعائے رحمت مراد ہے،ورنہ عام رحمتیں اور عام دعائیں سارے مسلمانوں کے لیئے ہیں۔رب تعالٰی فرماتا ہے:”ہُوَ الَّذِیۡ یُصَلِّیۡ عَلَیۡکُمْ وَ مَلٰٓئِکَتُہٗ ” اور فرماتاہے:”وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا”الخ۔لہذا یہ حدیث نہ تو قرآن کے خلاف ہے اور نہ اس سے یہ لازم آیا کہ علماءحضور کے برابر ہوجائیں کیونکہ حضور پربھی رب تعالٰی صلوٰۃ بھیجتاہے اور علماء پربھی۔