أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ تَعَالَوۡا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۢ بَيۡنَـنَا وَبَيۡنَكُمۡ اَلَّا نَـعۡبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَلَا نُشۡرِكَ بِهٖ شَيۡـــًٔا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعۡضُنَا بَعۡضًا اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ‌ؕ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُوۡلُوا اشۡهَدُوۡا بِاَنَّا مُسۡلِمُوۡنَ

ترجمہ:

آپ کہیے اے اہل کتاب : آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر (مسلم) ہے (وہ یہ کہ) ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم اس کے ساتھ کسی کو بالکل شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رب نہ بنائے پھر اگر وہ اعراض کریں تو تم کہہ دو کہ (لوگو) گواہ روہ ہم مسلمان ہیں

تفسیر:

آیات سابقہ سے مناسبت اور شان نزول : 

اس سے پہلی آیات میں یہ بیان فرمایا تھا کہ کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجران کے عیسائیوں کے سامنے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کے بطلان اور اللہ تعالیٰ کی توحید کے احقاق اور اثبات پر دلائل پیش کیے اور جب عیسائیوں نے ان دلائل کو تسلیم نہیں کیا تو پھر آپ نے ان کو مباہلہ کی دعوت دی وہ مباہلہ کرنے سے خوف زدہ ہوئے اور انہوں نے ذلت اور پسپائی کے ساتھ جزیہ دینا قبول کرلیا ‘ اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر حریص تھے کہ وہ ایمان لے آئیں اور اسلام قبول کرلیں ‘ تب اللہ تعالیٰ نے مناظرہ اور مباہلہ کے بجائے ایک اور طریقہ سے ان کے سامنے دعوت اسلام کو پیش کرنے کا حکم دیا اور یہ ایسا طریقہ ہے جو ہر عقل سلیم رکھنے والے شخص کے نزدیک قابل قبول ہے اور وہ یہ ہے کہ آپ ان سے یہ کہیں کہ اے اہل کتاب ! آؤ ہم اور تم ایسی چیز کو مان لیں جو ہم دونوں کے درمیان متفق علیہ ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں ‘ اور ہم اس کے ساتھ کسی کو بالکل شریک نہ ٹھیرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو رب نہ بنائے ‘ سیاق وسباق کے مطابق یہاں اہل کتاب سے مراد نجران کے عیسائی ہیں ‘ تاہم یہاں دو اور قول ہیں ایک یہ ہے کہ اہل کتاب سے مراد یہود ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد یہود اور عیسائی دونوں ہیں۔ امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ ہمیں یہ حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ کے یہودیوں کو اسلام کی دعوت دی جب انہوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیا تو آپ نے فرمایا : آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔

سدی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے نجران کے عیسائیوں کو دعوت دی اور فرمایا آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر ہے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٢١٣‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ اس آیت میں اہل کتاب سے مراد یہود اور عیسائی دونوں ہیں کیونکہ قرآن مجید میں کسی ایک کو معین نہیں کیا گیا اسی طرح امام واحدی متوفی ٤٥٨ ھ نے بھی اسی قول کو ترجیح دی ہے اور لکھا ہے کہ ہم میں سے کوئی اللہ کی چھوڑ کر دوسرے کو رب نہ بنائے ‘ اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا جیسے نصاری نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو رب بنایا اور بنواسرائیل نے حضرت عزیر کو رب بنایا۔ (الوسیط ج ١ ص ٤٤٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت)

عقیدہ تثلیث اور اس کا ابطلال : 

اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کو اس آیت میں تین چیزوں کی دعوت دی ہے کہ

(١) اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور عیسائی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے تھے۔

(٢) اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور عیسائی اللہ کے ساتھ غیر کو شریک ٹھیراتے تھے ‘ وہ کہتے تھے کہ یہاں تین اقانیم ہیں (تین اصلیں یا تین چیزیں) باپ ‘ بیٹا اور روح القدس ‘ اور یہ تینوں ذوات قدیمہ ہیں اور اقنوم کلمہ ناسوت مسیح میں داخل ہوگیا اور اقنوم روح القدس ناسوت مریم میں داخل ہوگیا ‘ اس طرح انہوں نے ان دونوں اقانیم کو ذوات قدیمہ مان کر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھیرا لیا۔ rnّ (٣) اللہ کو چھوڑ کر کسی کو رب نہ مانیں سو انہوں نے اپنے علماء اور راہبوں کو رب مان لیا یعنی ان کے ساتھ رب کا معاملہ کیا ‘ کیونکہ وہ چیزوں کو حلال اور حرام قرار دینے میں ان کی اطاعت کرتے تھے ‘ نیز وہ اپنے راہبوں کو سجدہ کرتے تھے ‘ اور وہ یہ کہتے تھے کہ جو راہب زیادہ مجاہدہ کرتا ہے اس میں لاہوت کا اثر حلول کرجاتا ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرنے اور مادر زاد اندھوں کو بینا کرنے پر قادر ہوجاتا ہے۔

عیسائیوں کے یہ تینوں عقائد باطل ہیں ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا خدا ہونا اس لیے باطل ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ظہور سے پہلے ان کی خدائی کا نام ونشان تک نہ تھا اور صرف اللہ وحدہ لاشریک لہ ہی معبود تھا اس لیے واجب ہے کہ حضرت عیسیٰ کے ظہور کے بعد بھی وہی معبود اور وہی خدا ہو ‘ اسی طرح ان کا دو اقانیم کو الوہیت میں شریک کرنا بھی باطل ہے کیونکہ ایک چیز کا دوسری چیز میں حلول کرنا تغیر کو مستلزم ہے اور تغیر حدوث کو مستلزم ہے اور جو حادث ہو وہ قدیم نہیں ہوسکتا ‘ اس لیے ان کا کلمہ اور روح القدس کی اقانیم کو قدیم کہنا باطل ہے ‘ اور جب ہر چیز کا پیدا کرنے والا اور ہر نعمت کا عطا کرنے والا ‘ اللہ تعالیٰ ہے تو احکام شرعیہ کے حلال اور حرام کرنے کا بھی اسی کو اختیار ہے اور اس میں اسی کی اطاعت ہوگی اور عیسائیوں کا اشیاء کی حلت اور حرمت میں اپنے علماء اور پیروں کی اطاعت کرنا اور ان کے ساتھ رب کا معاملہ کرنا باطل ہے۔

اہل کتاب کو دعوت اسلام کا طریقہ :

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے امراء اہل کتاب کو جو اسلام کی دعوت دی یہ آیت اس دعوت کی اصل عظیم ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہرقل کو جو اسلام کی دعوت دی تو آپ نے اپنے مکتوب میں اس آیت کو لکھا ‘ امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت ابن عباس (رض) نے بیان کیا کہ ابو سفیان نے خبر دی کہ ہرقل نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مکتوب کو منگوایا جو حضرت دحیہ کلبی (رض) کے ہاتھ بصری کے امیر کی طرف بھیجا گیا تھا ‘ بصری کے امیر نے وہ مکتوب ہرقل کو دیا اس میں لکھا ہوا تھا ‘ بسم اللہ الرحمن الرحیم ‘ یہ محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول کی جانب سے روم کے امیر ہرقل کے نام ہے ‘ اس پر سلام ہو جو ہدایت کا متبع ہے ‘ اللہ کی حمد وثناء کے بعد واضح ہو کہ میں تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں ‘ تم اسلام قول کرلو سلامت رہو گے اور اگر تم نے رو گردانی کی تو تمہارے پیروکاروں (کے اسلام قبول نہ کرنے) کا گناہ بھی تم پر ہوگا ‘ اے اہل کتاب ! آؤ ایک ایسی بات کی طرف آجاؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان برابر (مسلم) ہے (وہ یہ ہے کہ) ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور ہم اس کے ساتھ کسی کو بالکل شریک نہ ٹھیرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کو چھوڑکر دوسرے کو رب نہ بنائے ‘ پھر اگر وہ اعراض کریں تو تم کہہ دو کہ (لوگو) گواہ رہو ہم مسلمان ہیں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٥۔ ٤ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 64