أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا كَانَ اِبۡرٰهِيۡمُ يَهُوۡدِيًّا وَّلَا نَصۡرَانِيًّا وَّ لٰكِنۡ كَانَ حَنِيۡفًا مُّسۡلِمًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الۡمُشۡرِكِيۡنَ

ترجمہ:

ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی لیکن وہ ہر باطل نظریہ سے الگ رہنے والے خالص مسلمان تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے

تفسیر:

یہ آیت ‘ آیات سابقہ کا تتمہ ہے ‘ یہود و نصاری رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بات میں بحث کرتے تھے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہودی تھے یا نصرانی تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے دعوؤں کی تکذیب کی اور فرمایا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ان کی امت ہی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین اور ان کی شریعت پر ہیں اور ان کے علاوہ کوئی دین اور کوئی ملت ان کے طریقہ پر نہیں ہے۔ خواہ وہ یہودی ہوں یا نصرانی یا مشرکین ہوں جو بت پرستی کرتے ہیں ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تمام ادیان باطلہ سے اعراض کرنے والے اور خالص مسلم تھے اور یہی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت ‘ آپ کا دین اور آپ کی شریعت ہے ‘ امام ابن جریر طبری اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : عامر بیان کرتے ہیں کہ یہود نے کہا ابراہیم ہمارے دین پر ہیں اور نصاری نے کہا وہ ہمارے دین پر ہیں تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی لیکن وہ ہر باطل نظریہ سے الگ رہنے والے خالص مسلمان تھے اور وہ مشرکین میں سے نہ تھے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٢١٧ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 67