أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

هٰۤاَنۡـتُمۡ هٰٓؤُلَآءِ حٰجَجۡتُمۡ فِيۡمَا لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوۡنَ فِيۡمَا لَـيۡسَ لَـكُمۡ بِهٖ عِلۡمٌ‌ؕ وَاللّٰهُ يَعۡلَمُ وَاَنۡـتُمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

سنو ! تم وہی لوگ ہو جنھوں نے اس چیز میں بحث کی جس کا تمہیں کچھ (نہ کچھ) علم تھا سو اب تم اس چیز میں کیوں بحث کر رہے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں ہے اور اللہ کو علم ہے اور تمہیں علم نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سنو ! تم وہی لوگ ہو جنہوں نے اس چیز میں بحث کی جس کا تمہیں (کچھ نہ کچھ) علم تھا سو اب تم اس چیز میں کیوں بحث کر رہے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں ہے اور اللہ کو علم ہے اور تمہیں علم نہیں ہے۔ (آل عمران : ٦٦)

یہود اور نصاری کو اس کا علم تھا کہ تورات اور انجیل کی شریعت قرآن مجید کی شریعت سے مختلف ہے ‘ ان کے اس زعم کی تو ایک وجہ ہے لیکن ان کو اس کا تو بالکل علم نہیں تھا کہ قرآن کی شریعت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کے مخالف ہے ‘ لہذا ان کے اس قول کی کوئی صحیح توجیہ نہیں ہے کہ قرآن مجید کی شریعت حضرت ابراہیم کی شریعت کے مخالف ہے اور اللہ ہی کو اس کا علم ہے کہ کون سی شریعت کسی شریعت کے موافق ہے اور کس شریعت کے مخالف ہے۔

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تم جو کہتے ہو کہ حضرت ابراہیم کا دین ہمارے موافق ہے تو اس سے تمہاری کیا مراد ہے ؟ اصول اور عقائد میں موافقت یا احکام شرعیہ میں موافقت ‘ اگر تمہاری مراد اصول اور عقائد میں موافقت ہے تو تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین واحد ہے اور سب کے اصول اور عقائد واحد ہیں اس لحاظ سے حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کا دین بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے موافق ہے اور اگر اس سے مراد احکام شرعیہ میں موافقت ہے تو لازم آئے گا سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صاحب شریعت نہ ہوں بلکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کے تابع ہوں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم دونوں صورتیں اختیار کرسکتے ہیں یعنی ہماری مراد یہ ہے کہ اسلام حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اصول اور عقائد میں موافق ہے جب کہ موجودہ یہودیت اور نصرانیت ان کے موافق نہیں ہے ‘ کیونکہ یہودی عزیر کو اللہ کو بیٹا کہتے ہیں اور عیسائی مسیح کو اللہ کا بیٹا کہتے ہیں اور حضرت ابراہیم کے اصول اور عقائد میں اللہ وحدہ لاشریک ہے اور یہ توحید صرف اسلام کے موافق ہے ‘ اسی طرح نبوت اور آخرت کے متعلق بھی حضرت ابراہیم کے اصول اور عقائد اسلام کے موافق ہیں یہودیت اور نصرانیت کے اصول اور عقائد کے موافق نہیں ہیں اس لیے اصول اور عقائد کے لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا دین اسلام کے موافق ہے ‘ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا خصوصیت سے ذکر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی ان کی موافقت کے دعوی دار تھے ‘ اور فروع اور احکام شرعیہ کے لحاظ سے بھی کہا جاسکتا ہے کیونکہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کے بعض احکام شریعت ابراہیم کے موافق ہیں مثلا مناسک حج ‘ قربانی ‘ وضو کی سنتیں ‘ ختنہ اور غیر ضروری بالوں کا کاٹنا ‘ ناخنوں کو تراشنا وغیرہ یہ ملت ابراہیم کے احکام ہیں جن کو اسلام نے مقرر اور ثابت رکھا اس لیے فروع کے اعتبار سے بھی کہا جاسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کے موافق ہے :

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 66