مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم میرٹھی صدیقی

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ تحریر وتقریر، ابلاغ وتبلیغ کے دو اہم ذریعہ ہیں،مبلغ اسلام علامہ عبد العلیم میرٹھی صدیقی رحمۃ اللہ علیہ صرف ایک جا دوبیان مقرر ہی نہ تھے بلکہ صاحب طرز ادیب اور باذوق مصنف بھی تھے جہاں آپ نے جادو بیانی سے مذہب اسلام کو فروغ بخشا ہے وہیں اپنی تحریر سے بھی نہ جانے کتنے متلاشیان حق کو حق کی معرفت سے بہرہ ور فرمایا ہے۔

آپ نے حالات کے مطابق عربی ،اردو ،انگریزی متعدد زبانوں میں کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں ،جو مندرجہ ذیل ہیں ۔ ؤذکر حبیب دوحصے(اردو)ؤکتاب تصوف(اردو) ؤبہار شباب(اردو)ؤاحکام رمضان(اردو) ؤاسلام کی ابتدائی تعلیمات(انگریزی)ؤاسلام کے اصول (انگریزی) ؤاسلام اور اشتراکیت (انگریزی) ؤمسائل انسانی کا حل (انگریزی) ؤاسلام میں عورت کے حقوق (انگریزی) ؤمکالمۂ جارج برناڈشا(انگریزی)ؤمرزائی حقیقت کا اظہار(انگریزی،اردو) ؤمراۃ القادیانیہ (عربی)

(تذکرئہ اکابر اہلسنت پاکستان ص ۲۴۲ وحیات علیم رضا ص۶۰)

اس وقت ہمارے سامنے چند کتابیں ہیں جو بمشکل دستیاب ہوسکی ہیں ،ان کے مشمولات ومضامین اور زبان وبیان کا قدرے تفصیلی جائزہ پیش کرتے ہیں ،جن سے آپ کے تبحر علمی ،قرآن وحدیث سے گہرا ربط ،مذہبیات سے آگاہی ،تاریخ وسیر پر دست گاہ کامل ،اور زبان وادب کے گہرے مذاق کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

(۱)ذکر حبیب (اول ،دوم)

حضورﷺ کی میلاد پڑھنے کا سلسلہ آپ کے عہد مبارک سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے اور ان شاء اللہ تاقیامت جاری رہے گا ۔

محفل میلاد رسولﷺ کے انعقاد کے ثبوت میں خود فاضل مؤلف اپنی اسی کتاب کے دوسرے حصے میں رقمطراز ہیں ۔

’’ محفل میلاد شریف ایک بہت مجرب اور سب سے زیادہ مستحسن عمل ہے ۔اکابر سلف صالحین واولیاء کاملین کا معمول اور ساری دنیا کے سچے مسلمانوں میں مقبول اس عمل کی اصل قرآن کریم میں اس طرح موجود ہے کہ خود مولیٰ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’فاذکرونی اذکرکم،،تو تم مجھے یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا،پھر حدیث قدسی میں اسی مولائے کریم جل مجدہ کا ارشاد ہے ’’جَعَلْتُ ذِکْرَکَ ذِکْرِیْ‘‘ یا رسول اللہ امیں نے آپ کے ذکر کو اپنا ذکر قرار دیا ،،

(ذکر حبیب دوم ص۱۳۱)

کچھ دنوں پہلے میلاد رسولﷺپڑھنے کا طریقہ دور حاضر کے مروجہ طریقے سے جدا گانہ تھا واعظین کتابیں پڑھ کر سناتے ،یہ طریقہ جب رواج پاچکا تو اس موضوع پر اصحاب قلم نے مختلف کتابیں اور رسائل لکھنا شروع کردیا ۔

جن میں میلادِ گوہر،میلادِ اکبر،مولود سعیدی،میلاد رسول وغیرہ شامل ہیں۔جن میں بہت سی ضعیف اور غلط روایتیں بھی شامل کر ڈالی گئیں ،نیز ان کتابوں کی زبان بھی صاف اور درست نہ تھی ایسے وقت میں امت مسلمہ کی اصلاح اور صحیح رہنمائی ایک سچے عالم دین اور مبلغ اسلام کا ضروری شیوہ ہوتا ہے ۔

انہیں وجوہات کے پیش نظر اور احباء واقرباء،کے اصرار پیہم اور خود لخت جگر امت السبوح سبیحہ کے اصرار شدید پر آپ نے اس کتاب کی تالیف فرمائی۔ جو اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں مستند سمجھی جاتی ہے ۔

اس کی زبان نہایت شگفتہ اور سادہ مضامین ،عشق رسولﷺ سے ہم آہنگ اور انداز بیان بالکل والہانہ ہے ،کتاب آپ کے مخلص رفیق صوفی سید بشارت علی قادری نقشبندی کے ذاتی مصرف سے زیورطبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آئی ،باوجود یکہ کتاب کی زبان صاف ستھری اور عام فہم اورسادہ ہے ،پھر بھی ضرب الامثال ومحاورات کا استعمال بر محل کیا گیا ہے ،جس سے مؤلف کتاب کے اردو زبان وادب سے گہرے لگائوکا اندازہ ہوتا ہے ،فاضل مؤلف نے جابجا مضمون کی مناسبت سے با ذوق شعراء کے کلام کو بھی ذکر کردیا ہے ،اور کہیں کہیں اپنے اشعار بھی درج کئے ہیں ،جو ان کے شعری ادب کے عمدہ مذاق کی غمازی کرتے ہیں ،ساتھ ہی مؤلف نے بکثرت قرآنی آیات اور احادیث رسول اسے مضامین کو آراستہ کرکے قرآن واحادیث کے گہرے مطالعے کا ثبوت دیا ہے۔ جس کو ان کی کتاب کی انفرادی خصوصیت کہی جاسکتی ہے ۔ البتہ اگر آیات قرآنیہ احادیث اور واقعات سلف کا حوالہ بھی درج فرمادیتے تو کتاب کی وقعت اور وزن میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔ قارئین کے لئے نمونے کے طور پر کتاب کا ایک اقتباس پیش کیا جارہا ہے ۔ ’’یہ بات ظاہر ہے کہ ہر سفید چیز چاندی اور ہر سنہری چیز سونا نہیں کہی جاسکتی ہے ہم ان چیزوں کو کسوٹی پر پرکھتے ہیں ،اور جانچتے ہیں کہ یہ سونا ہے اور یہ چاندی ہے اس طرح آنکھ،کان ،ناک ،ہاتھ،پیر کی اس صورت کو آدمی نہیں کہتے بلکہ آدمی وہی ہے جو آدمیت کا کام کرے انسان وہی ہے جو اُس کسوٹی پر پورا اترے جو انسان کے لئے اس کے پیدا کرنے والے خدا تعالیٰ نے بنائی۔

(ذکر حبیب حصہ دوم ص۸۷)

(۲) بہار شباب :۔مبلغ اسلام علامہ میرٹھی نے دنیا کے بیشتر ممالک کا تبلیغی دورہ فرمایا، زمانے کے حالات پر گہری نظر تھی، آپ نے نئی عمر کے لوگوں میں بڑھتی ہوئی جنسی بے راہ روی سے متاثر ہوکر ان کی اصلاح کی خاطر یہ کتاب تصنیف فرمائی ۔

کتاب کی ابتدا میں ایک مقدمہ بھی شامل ہے جس کو خود مصنف نے ہی لکھا ہے اس مقدمہ میں مصنف نے انسان کے مخصوص مادہ کو جوہر سے تعبیر کرتے ہوئے انسان کی ہر میدان میں ترقیوں کا اجمالی جائزہ لیا ہے اور پھر اس جوہر کی افادیت کو مثالوں سے نہایت ہی اچھوتے اسلوب میں بیان کیا ہے اور ترقی یافتہ لوگوںکو غیرت دلائی ہے۔کہ انہوںنے ہر میدان میں تو کامیابی ضرور حاصل کی ہے لیکن اصل کامیابی کہ جس سے نسل انسانی کی بقا ہے اس طرف کسی نے کوئی قدم نہ اٹھایا اور خصوصا محکمۂ صحت کی توجہ اس جوہر گرا نما یہ کے ضائع ہونے کی طرف مبذول کرائی ہے ۔

کتاب کا آغاز مصنف نے شباب یعنی جوانی سے کیا ہے اور انسانی زندگی کے تین ادوار بتائے ہیں ان ادوار کے وسطی دور کو جوانی سے تعبیر کیا ہے اور اس مضمون میں صاحب کتاب نے انسان کے مادئہ تولید کو درخت کے بیج سے تعبیر کیا ہے کہ جس طرح درخت کا بیج زمین کے اندر پہنچ کر پہلے ایک خوبصورت پودے کی شکل اختیار کرتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ پھل پھول سے آراستہ ہوکر درخت کی شکل اختیار کرکے ایک عالم کو اپنی ادائو ں اور خوشبوؤں کا متوالا بناتا ہے اسی طرح انسانی تخم اس نازک جگہ پہونچ کر جہاں اس کی پر داخت کی ذمہ داری رب العالمین کی ہوتی ہے نو مہینے میں ایک موہنی صورت میں ڈھل کر نمودار ہوتا ہے اور آہستہ آہستہ ایک خوش قامت نو جوان بن جاتا ہے ۔

اور بھی دوسری مثالوں سے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور آخر میں بیان کیا ہے کہ جب انسان کو کوئی کمال حاصل ہوتا ہے تو وہ اس کے نمود اور دکھاوے کی خاطر بے چین رہتا ہے ،جیسے کو ئی شاعر جب کوئی شعر یا نظم ترتیب دیتا ہے تو اس کو اہل فن کے سامنے پیش کرنے کے لئے بے تاب رہتا ہے اسی طرح حسین وجمیل کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کے حسن وجمال کی مدح سرائی کریں اور حقیقتا اظہار کمال ایک فطری چیز ہے۔ٹھیک اسی طرح جب انسان جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتا ہے تو اس کے مخصوص مادہ کو کمال حاصل ہوجاتا ہے اور یہی فطری جذبہ اس دولت بے بہا کے استعمال اور اظہار کے لئے انسان کو بر انگیختہ کرتا ہے اور انسان اس کا بے جا استعمال کرنے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔

ایسی صورت میں جوانی جوانی نہیں بلکہ جنون کی صورت اختیار کرلیتی ہے پھر ’’الشباب شعبۃ من الجنون‘‘کے عنوان سے نوجوانوں کو اپنی بیس پچیس سال کی کمائی کو بیجارائگا ں کرنے کا پیغام دیتا ہے ،کہ نوجوانو! خبر دار اپنی گاڑھی کمائی کا بے محل استعمال نہ کرو ،کیونکہ تمہاری اس پونجی میں تمہاری آئندہ زندگی کی بہار مضمر ہے۔

اس کے بعد انسانی جوڑے عورت اور مرد کے درمیان قانونی رشتے کی ضرورت کے مضامین بیان کرتے ہوئے نکاح کی ضرورت اور زن وشوہر کے باہمی حقوق کو قرآن وحدیث کے تناظر میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے اس کے بعد مقاربت کا شرعی طریقہ، زنا کی حد اور اس کا فلسفہ ،زنا کیلئے اسلامی قانون ،زناکی تعریف اور اس پر حد یا دینوی سزا پر سیر حاصل بحث کرتے ہوئے حدیث رسول کے ذریعے جوانوں کو محبت بھرا پیغام دیا ہے ۔

پھرزنا کے نقصانات اور اس سے بچنے والوں کے فضائل کو احادیث کی روشنی میں بیان کرکے لوگوں کو بازاری عورتوں سے دور رہنے کی تلقین کی ہے۔

اور محکمۂ حفظانِ صحت کو مخاطب کرکے لکھا ہے کہ آج حفظ ماتقدم کی خاطر تو ٹیکے ضرور لگوائے جارہے ہیں لیکن اس نسل کش مہلک مرض کے تدارک کے لئے اس محکمہ نے کوئی پیش رفت نہیں کی ہے،اور اس پر مستزاد بعض جگہوں پر خودگور نمنٹ بازاری فاحشہ عورتوں کے لئے لائسنس الاؤ کرتی ہے اور ان کا معائنہ بھی کراتی ہے۔

کتاب مختصر ہونے کے باوجود نہایت مفید اور کار آمد ، سبھی مشمولات قرآن وحدیث، سائنس اور طبی معلومات سے مالا مال ہیں اور اس پر مزید زبان وبیان کی شگفتگی اور متانت نے اس کی وقعت کو دوبالا کردیا ہے،اسلوب بیان نہایت نرالا اور دلکش ہے ، مقدمے نے تو کتاب میں جان ڈال دی ہے نئی عمر کے لوگوں کو اس کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیئے ،کتاب کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مصنف صرف ایک عالم اور ادیب ہی نہ تھے بلکہ طبیب حاذق بھی تھے ،چنانچہ مقدمے میں ایک جگہ خود لکھتے ہیں:

’’میں اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اگر ایک سو نوجوان مرد عورت مریض آتے ہیں تو اس میں سے پنچانوے کو اس مادے کی ضعف وخرابی کے امراض میں مبتلا پاتا ہوں‘‘۔

(۳)مرزائی حقیقت کا اظہار:فرقۂ قادیانیت کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی ہے جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور ۲۳؍تاریخ ۱۸۸۹ء؁ کو لدھیانہ میں اپنے باطل مسلک کی بیعت کا سلسلہ شرع کردیا ، ۱۸۹۱ء؁میں مسیحیت کا دعویٰ کیا اور ۲۶؍مئی ۱۹۰۸ء؁ کو دنیا سے چلا گیا ۔

زیرتبصرہ کتاب در حقیقت موریشیس کے مرزائی مبلغ کے اس وقت کے اس اشتہار’’حقیقت کا اظہار‘‘کا رد بلیغ ہے جس کو مرزائی مبلغ نے اس وقت شائع کیا جب مؤلف کتاب علامہ عبد العلیم میرٹھی موریشیس کے تبلیغی دور ے سے واپس ہورہے تھے اور روز ہل (موریشیس )کے مسلمانوں کے درمیان آخری وعظ قادیانیت کی رد میںفرمایا تھا ،کتاب کو تین قسطوں میں تقسیم کیا گیا ہے ،سب سے پہلے ’’مرزائی حقیقت کا اظہار‘‘کی سرخی قائم کی ہے جس میں کتاب کی وجہ تالیف اور مرزا احمد قادیانی کی کذب آمیز تحریروں کا اجمالی خاکہ پیش کیا ہے ،اس کے بعد جماعت پر بحث کرتے ہوئے ابو دائود کی ایک روایت تحریر کی ہے جس میں جماعت سے مراد ’’سواد اعظم اہلسنت وجماعت ہے‘‘کو ثابت کیا ہے اور اس طرح فرقۂ قادیانیت کو ایک ٹکڑی بتاتے ہوئے سواد اعظم سے جدا بتایا ہے اور اس کے حق پر ہونے کی تردید کی ہے اس کے بعد مجددین اور الہام کے عنوان سے ’’اظہار حقیقت‘‘کے مشتہر جمال احمد کی مجدد کے کے بارے میں تحریر کردہ حدیث میں بے جا تصرف کو آشکارا کرتے ہوئے مشتہر کی تضاد بیا نیوں کا ذکر بڑے ہی شرح وبسط کے ساتھ کیا ہے ’’مرزائی حقیقت‘‘کا اظہار کی دوسری قسط کا عنوان دعویٔ ابنیت خدا بلکہ اس سے بھی سو اہونے کا رد قرآن وحدیث اور عبارتوں کے حوالہ جات کی روشنی میں بڑے واضح انداز میں فرمایا ہے ،اور خصوصا خاتم النبیین پر بڑی عمدہ بحث فرمائی ہے ۔

اس باب کے آخر میں ’’خدائی سرخی کی چھینٹیں‘‘کے عنوان سے شان الوہیت میں مرزا کی بد ترین گستاخی کو ذکر کیا ہے ۔

پھر تیسری قسط میں سب سے پہلے مرزا کے ایمان باللہ کا جائزہ لیا ہے اور اس باب میں اس کے مومن نہ ہونے پر تفصیلی بحث کی ہے ،اس کے بعد شری کرشن کے اعتقادد ونظریات کا جائزہ شری کرشن کی ذاتی کتاب’’ بھگو ت گیتا‘‘سے لیاہے اور شری کرشن اور مرزا کے خدائی دعوئوں میں یکسانیت دکھا ئی ہے بلکہ مرزا کو کرشن سے بڑھ کر دعوے دار ثابت کیا ہے ۔

مؤلف نے بھگوت گیتا کے مضامین کوجس طرح مع حوالہ جات بیان کیا ہے اس سے ان کی سنسکرت زبان پر دسترس کا پتہ چلتا ہے اور اس کے بعد مرزا کی کفری عبارتوں اور اعتقادات کو مفصل ذکر کرکے اس کی نہایت ہی فاضلانہ تردید کی ہے ،اور دجالی فتنہ سے مسلمانوں کو دور رہنے کی تلقین کی ہے ،مؤلف نے یہ کتاب ماریشیش سے واپس ہونے پر ناسازیٔ طبع کے باوجود جہاز میں بیٹھ کر تالیف فرمائی تھی جہا ں نہ تو کتابیں فراہم تھیں اور نہ ہی یکسوئی حاصل تھی بلکہ افرا تفری کا ماحول تھا جیسا کہ کتاب کے آخری حصہ سے ظاہر ہے خود ہی لکھتے ہیں ۔

’’اب میں جہاز میں سفر کررہا ہوں، چاروں طرف نصاریٰ کا ہجوم ہے ،خودمیرے کیبن میں چار کیتھولک پادری میری قریب کی کیبن میں پادریوں کا انسپکٹر پریسیڈنٹ پادری وغیرہ۔

کبھی بہت سے آزاد خیال افراد میں بھی بہت سے منچلے۔۔۔۔۔میرا وہی حال ہے جو موریشیس میں تھا ،چاروں طرف مختلف مسائل پوچھنے والے ہجوم کئے ہوئے ہیں اور میں تن تنہا جواب دینے کے لئے یکسوئی کے ساتھ تحریر کی مہلت عنقاء پھر اس پر عجیب ماجراکہ ایک طرف دائیں آنکھ میں شدید درد، دوسری طرف تکلیف درد معاً بفضلہ تعالیٰ اسی حالت میں جو کچھ لکھا گیا وہ حاضر ہے۔ (مرزائی حقیقت کا اظہار ص؍۸۶)

کتاب تردیدی ہونے کے باوجو د مؤلف نے اس کے مضامین کو بڑے شگفتہ اور دل نشیں پیرائے میں بیان کیا ہے جس سے قاری کو ذرا بھی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی ،جملوں کابا ہم ارتباط ، ژولیدہ بیانی سے احتراز، محاورات کاصحیح استعمال کتاب کا نمایاں وصف ہے ،پھر دلیلیں ،آیات قرآنیہ اور احادیث سے مزین آیات واحادیث کے ترجمے میں غایت درجہ احتیاط نے مؤلف کو دوسرے مصنفین و مؤلفین اور مترجمین سے ممتاز کر دیا ہے ۔یہ کہنا مبالغہ نہ ہو گا کہ یہ کتاب فرقۂ قادیانیت کا ایسا دندان شکن جواب ہے کہ کوئی بھی مرزائی اس کے جواب کی تاب نہیں لا سکتا اور اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں میں اب بھی اس کو اَوّلیت حاصل ہے ۔کتاب کے آخر میں علامہ سید نعیم الدین مراد آبادی کی تقریظ بھی شامل ہے جس میں انہوں نے آپ کی مساعیٔ جمیلہ کو خراج تحسین پیش کیا ہے

(۴) احکام رمضان المبارک

یہ کتاب تقسیم ہند سے پہلے مسلم دارالیتامیٰ والمساکین میرٹھ (ہندوستان)سے پہلی مرتبہ چھپ کرمنظر عام پر آئی اور مقبول خواص وعام ہوئی ۔

اور دوسری مرتبہ حکیم محمد تقی دہلوی (جو مؤلف کے رفقاء میں سے ہیں )کے ذاتی مصرف سے اس وقت زیور طبع سے آراستہ ہوئی جب پاکستان معرض وجود میں آگیا تھا اور خود مؤلف نے بھی کراچی میں سکونت اختیار کر لی تھی ،اس وقت وہاں دینی کتابوں کی سخت کمی محسوس کی جا رہی تھی چنانچہ احباب و اقارب کے اصرار پر پہلے نسخے پر نظر ثانی کر کے قدرے اضافہ کیا پھر یہ کتاب منظر عام پر (دوبارہ چھپ کر )آئی ۔

مؤلف نے کتاب کی ابتدا’’ دین عمومی‘‘ کے عنوان سے تمہیدی کلمات سے کی ہے جس میں انہوں نے مذہب اسلام کی جامعیت اور عمومیت کو قرآن و احادیث سے پیش کر کے یہ بتایا ہے کہ اگر کوئی مذہب افراط وتفریط سے پاک اور منزہ ہے تو وہ صرف اور صرف مذہب اسلام ہے ۔

ساتھ ہی ضمناًدیگر مذاہب کے پیشوائوں کے اصول و نظریات کو ذکر کر کے ان کے مذاہب کے محدود اصول وضوابط کو بھی بیان کیا ہے۔ انداز بیان نہایت ہی ششتہ ،طرز بالکل ادیبانہ ہے اور طرز استدلال سے مولف کی کشادہ ذہنی کا علم ہوتا ہے ،کتاب اپنی نوعیت کے اعتبار سے بڑی کار آمد اور مفید ہے ،ضروری مسائل کو بڑے واضح انداز میں بیان کیاگیا ہے،زبان سادہ اور سلیس ہونے کے ساتھ بیان مسائل کی ترتیب نے اس کے حسن کودوبالا کر دیا ہے ،ہر مضمون کو آیات قرآنیہ اور احادیث رسول کے آئینے میں بیان کیا ہے ، جس سے مؤلف کے قرآن و احادیث کے وسیع مطالعے کا پتہ چلتا ہے۔ تحریر میںعشق رسول کی جھلکیاں جا بجا نظر آتی ہیں جو مولف کا طرّۂ امتیاز ہے ۔

علامہ میرٹھی قدس سرہ نے بے شمار کتابیں اردو، انگلش اور عربی وغیرہ میں تصنیف فرمائی ہیں بمشکل تمام یہ چند کتابیں دستیاب ہو سکی ہیں اگر آپ نے مضمون کو بغور دیکھ لیا ہے تو اس کے اعتراف میں آپ کو کوئی تأمل نہیں ہو گا کہ مبلغ اسلام کی شخصیت خلفاء اعلیٰ حضرت میں اہم مقام اور نمایاں مرتبے پر فائز ہے ، آپ کی ذات سے عالم اسلام کو غیر معمولی فروغ حاصل ہوا۔

ان کا سایہ اک تجلی ان کا نقش ِپا چراغ

وہ جدھر گذرے ادھر ہی روشنی ہوتی گئی