أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَدَّتۡ طَّآٮِٕفَةٌ مِّنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ لَوۡ يُضِلُّوۡنَكُمؕۡ وَمَا يُضِلُّوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَهُمۡ وَمَا يَشۡعُرُوۡنَ

ترجمہ:

اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کرسکیں حالانکہ وہ صرف اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور انہوں اس کا شعور نہیں ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اہل کتاب کا ایک گروہ چاہتا ہے کہ کاش وہ تمہیں گمراہ کرسکیں حالانکہ وہ صرف اپنے آپ ہی کو گمراہ کر رہے ہیں۔ (آل عمران : ٦٩)

عوام اہل کتاب کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرنا :

اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا کہ یہود و نصاری دلائل سے رو گردانی کرتے ہیں اور حق کو قبول نہیں کرتے اور اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ وہ صرف اسی پر اکتفاء نہیں کرتے بلکہ مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شبہات ڈال کر ان کو دین سے منحرف کرنے کی ناکام کوشش بھی کرتے ہیں ‘ مثلا وہ کہتے تھے کہ جب (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں تو پھر اپنے نبی ہونے کا دعوی کیوں کرتے ہیں ؟ اور وہ کہتے تھے کہ تورات میں لکھا ہوا ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت دائمی ہے اور قیامت تک رہے گی ‘ اور مسلمان جو کہتے تھے کہ اسلام نے سابقہ شریعتوں کو منسوخ کردیا ہے اس پر اعتراض کرتے تھے کہ اللہ کسی حکم کو نازل کرنے کے بعد اس کو منسوخ کر دے تو اس سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو پہلے یہ معلوم نہیں تھا کہ اس حکم میں کیا خرابیاں ہیں اور اس سے اللہ تعالیٰ کے علم پر اعتراض ہوتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ وہ صرف اپنے آپ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گمراہ کرنے سے مسلمانوں کو تو کوئی فرق نہیں پڑے گا نہ ان پر اثر ہوگا البتہ اس گمراہ کا گناہ اور وبال انہیں ہوگا ‘ نیز یہاں فرمایا ہے کہ اہل کتاب کا ایک گروہ یہ چاہتا ہے کیونکہ تمام اہل کتاب ایسے نہیں تھے یہود و نصاری میں سے بعض اہل کتاب ایمان لے آئے تھے اور ان کی اللہ تعالیٰ نے تعریف فرمائی :

(آیت) ” من اھل الکتاب امۃ قآئمۃ یتلون ایت اللہ انآء الیل وھم یسجدون “۔ (ال عمران : ١١٣)

ترجمہ : اہل کتاب میں سے بعض لوگ حق پر قائم ہیں ‘ وہ رات کے اوقات میں اللہ کی آیات کی تلاوت کرتے ہیں درآں حالیکہ وہ سجدہ ریز ہوتے ہیں۔

(آیت) ” منھم امۃ مقتصدۃ، وکثیرمنھم سآء مایعملون “ (المائدہ : ٦٦ )

ترجمہ : بعض اہل کتاب معتدل ہیں ‘ اور زیادہ تر لوگ کیا ہی برے کام کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے انہیں اس کا شعور نہیں ہے یعنی اس کا شعور نہیں ہے کہ ان کے گمراہ کرنے کا وبال صرف ان ہی کو لاحق ہوگا ‘ یا وہ دین اسلام کے برحق ہونے کا شعور نہیں رکھتے ‘ حالانکہ اسلام کی صداقت پر اس قدر کثیر دلائل اور براہین ہیں کہ ادنی تامل کرنے سے انسان پر اسلام کی حقانیت واضح ہوجاتی ہے ‘ یا انہیں اس کا شعور نہیں ہے کہ وہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے مکرو فریب کے جو طریقے استعمال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس سے مطلع فرما دیتا ہے اور یوں ان کی سعی رائیگاں جاتی ہے۔

علامہ ابو الحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ لکھتے ہیں :

مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ یہ آیت حضرت معاذ ‘ حضرت حذیفہ اور حضرت عمار (رض) کے متعلق نازل ہوئی ہے یہودیوں نے ان کو بنو نضیر ‘ بنو قریظہ اور بنو قینقاع نے ان کو اپنے دین کی دعوت دی ‘ ایک قول یہ ہے کہ نجران کے عیسائیوں اور بعض یہودیوں نے ان کو اپنے اپنے دین کی دعوت دی ‘ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : یہود نے حضرت معاذ اور حضرت عمار سے کہا تم نے اپنے دین کو چھوڑ کر دین محمد کی اتباع کرلی تو یہ آیت نازل ہوئی اور ایک قول یہ ہے کہ یہود نے مسلمانوں کے سامنے احد کا واقعہ ذکر کر کے ان کو عار دلایا۔ (البحر المحیط ج ٣ ص ٤٠٣ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٣ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 69