أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَكۡفُرُوۡنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَاَنۡـتُمۡ تَشۡهَدُوۡنَ

ترجمہ:

اے اہل کتاب ! تم اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیوں کرتے ہو حالانکہ تم خود گواہ ہو

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے اہل کتاب تم اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کیوں کرتے ہو ؟ حالانکہ تم خود گواہ ہو۔ (آل عمران : ٧٠)

علماء اہل کتاب کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرنا :

اس سے پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے عوام اہل کتاب کا ذکر فرمایا تھا جن کو تورات اور انجیل میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل کا علم اور شعور نہیں تھا اور وہ بغیر علم اور شعور کے محض عناد سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے تھے ‘ اس آیت میں علماء اہل کتاب کا ذکر فرمایا ہے جن کو تورات اور انجیل میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کے دلائل اور آپ کی علامات کے متعلق آیات کا علم تھا اور وہ ان آیات اور علامات پر شاہد اور گواہ تھے لیکن جب عوام اہل کتاب یا عوام مسلمین ان سے ان آیات کے متعلق سوال کرتے تو وہ صاف انکار کردیتے حالانکہ ان کو ان آیات کا علم تھا وہ اصل تورات کا کفر نہیں کرتے تھے بلکہ ان آیات کے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اطلاق اور اقطباق کا کفر کرتے تھے

اس آیت کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ وہ اس بات کے معترف تھے کہ معجزہ نبوت کی دلیل ہے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے سامنے بہت سے معجزات کو ظاہر کیا پھر چاہیے تھا کہ جن معجزات کا وہ مشاہدہ کرچکے ہیں ان کی بناء پر سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو مان لیتے لیکن انہوں نے عنادا انکار کیا اور آپ کی نبوت کا انکار اللہ تعالیٰ کے معجزات اور اس کی آیات کا انکار کرنا ہے۔

اور اس کی تیسری تقدیر یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید کی نظیر کوئی شخص نہیں لاسکا تھا اس لیے اس کا معجز ہونا ظاہر ہو چا تھا اور وہ اس کے معجز ہونے کے شاہد اور گواہ تھے اس کے باوجود وہ قرآن مجید کی آیات سے انکار کرتے تھے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 70