أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَهۡلَ الۡكِتٰبِ لِمَ تَلۡبِسُوۡنَ الۡحَـقَّ بِالۡبَاطِلِ وَتَكۡتُمُوۡنَ الۡحَـقَّ وَاَنۡـتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اے اہل کتاب ! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو اور کیوں حق کو چھپاتے ہو ؟ حالانکہ تم جانتے ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے اہل کتاب ! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں ملاتے ہو ؟ اور کیوں حق کو چھپاتے ہو ؟۔ (آل عمران : ٧١)

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے اہل کتاب انبیاء (علیہم السلام) جس حق کو لے کر آئے ہیں تم اس میں اس باطل کی آمیزش کیوں کرتے ہو جس کو تمہارے احبار اور رہبان نے اپنی فاسد تاویلات سے وضع کیا ہے اور اسلام کے خلاف جو شبہات ڈالے ہیں اور آیات میں جو تبدیلی اور تحریف کی ہے تم (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی صفات آپ کی علامات اور شان کے بیان کو چھپاتے ہو ‘ حالانکہ یہ سب کچھ تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ہے اور اس میں یہ بشارت ہے کہ بنو اسماعیل سے ایک نبی مبعوث ہوگا جو لوگوں کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا ‘ حالانکہ تم کو علم ہے کہ ان آیات کے چھپانے میں اور ان میں تحریف کرنے میں تم خطاء اور باطل پر ہو اور تم جو کچھ کر رہے ہو اس کا سبب صرف حسد اور عناد ہے۔

علماء اہل کتاب کی واردات کے دو طریقے تھے ایک یہ کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلالت کرنے والی آیات کا انکار کرتے تھے حالانکہ وہ اس پر شاہد تھے کہ تورات اور انجیل میں ایسی آیات ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلی آیت میں ان کے اس طریقہ کی مذمت کی ہے اور دوسرے طریقہ یہ تھا کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر دلالت کرنے والی آیات کو چھپاتے تھے اور کبھی ان آیات میں تحریف کردیتے اور کبھی ان کی باطل تاویل کرتے اور کبھی مسلمانوں کے دلوں میں اسلام کے خلاف شبہات پیدا کرتے ‘ حالانکہ انہیں علم تھا کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہ غلط اور باطل ہے ‘ اس دوسرے طریقہ کی مذمت اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کی ہے۔ امام ابن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

ابن زید نے کہا حق وہ آیات ہیں جو اللہ نے حضرت موسیٰ پر تورات میں نازل کیں اور باطل وہ ہے جس کو وہ اپنے ہاتھوں سے لکھتے تھے۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٢٢٠ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 71