ہدایت ،طلب صادق کے بغیر نہیں ملتی!

ذیشان احمد مصباجی

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْكَ اٰیٰتٍ بَیِّنٰتٍ وَ مَا یَكْفُرُ بِهَا اِلَّا الْفٰسِقُوْنَ(۹۹) اَوَ كُلَّمَا عٰهَدُوْا عَهْدًا نَّبَذَهٗ فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ(۱۰۰) وَ لَمَّا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُصَدِّقٌ لِّمَا مَعَهُمْ نَبَذَ فَرِیْقٌ مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ كَاَنَّهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۰۱) وَ اتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّیٰطِیْنُ عَلٰی مُلْكِ سُلَیْمٰنَ وَ مَا كَفَرَ سُلَیْمٰنُ وَ لٰكِنَّ الشَّیٰطِیْنَ كَفَرُوْا یُعَلِّمُوْنَ النَّاسَ السِّحْرَ وَ مَا اُنْزِلَ عَلَی الْمَلَكَیْنِ بِبَابِلَ هَارُوْتَ وَ مَارُوْتَ وَ مَا یُعَلِّمٰنِ مِنْ اَحَدٍ حَتّٰی یَقُوْلَا اِنَّمَا نَحْنُ فِتْنَةٌ فَلَا تَكْفُرْ فَیَتَعَلَّمُوْنَ مِنْهُمَا مَا یُفَرِّقُوْنَ بِهٖ بَیْنَ الْمَرْءِ وَ زَوْجِهٖ وَ مَا هُمْ بِضَآرِّیْنَ بِهٖ مِنْ اَحَدٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ وَ یَتَعَلَّمُوْنَ مَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَقَدْ عَلِمُوْا لَمَنِ اشْتَرٰىهُ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ وَ لَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖ اَنْفُسَهُمْ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۱۰۲)وَ لَوْ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَمَثُوْبَةٌ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ خَیْرٌلَوْكَانُوْا یَعْلَمُوْنَ(۱۰۳)(بقرہ)
 
ترجمہ:ہم نےتمہاری طرف روشن آیات نازل فرمائیں جن کا منکر وہی ہوسکتاہے جو حدسے گزرنے والاہو۔ان لوگوں نے جب بھی کوئی عہد کیا،ان کے ایک گروہ نے اُسے پس پشت ڈال دیا،بلکہ ان میں اکثر ایمان نہیں لاتے،اور جب ان کی طرف اللہ کے پاس سے ایک پیغمبر آیا،جواُن کی کتابوں کی تصدیق کرتاہے،تو اہل کتاب کے ایک گروہ نے اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا،جیسے وہ جانتے ہی نہ ہوں،اور انھوں نے ان باتوں کی پیروی کی،عہد سلیمان میں شیطان جن کی تلاوت کیاکرتےتھے۔حالاں کہ سلیمان نے کفر نہیں کیا،البتہ! شیاطین نے کفر کیا،وہ لوگوں کو جادوسکھایاکرتے تھے۔اسی طرح انھوں نےان باتوں کی پیروی کی جو بابل میں ہاروت ماروت دوفرشتوں پر نازل ہوئی تھیں۔وہ فرشتے کسی بھی شخص کو جادو سکھانے سے قبل یہ بتادیتے کہ ہم فتنہ ہیں،لہٰذاتم کفر میں مبتلانہ ہوجاؤ،لیکن لوگ ان دونوں سے ایسی باتیں سیکھتے تھے جن کے ذریعے میاں بیوی میں تفریق کرادیتے۔حقیقت یہ ہے کہ وہ جادو کے ذریعے خود کسی کو کوئی ضررنہیں پہنچاتےتھے،اِلاَّ یہ کہ وہ اللہ کے حکم سے ہوتا،وہ ان فرشتوں سے ایسی باتیں سیکھتے جوضرررساں ہوتیں، نفع بخش نہیں ہوتیں۔ان کو معلوم ہے کہ جو دین کا سوداکرنے والے ہیں،آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں،وہ کتنی بُری چیزہے جس کے عوض انھوں نےاپنےضمیر کوبیچا، کاش !وہ ان کے حق میں خیرکثیر ہوگا۔اگر وہ ایمان لائیں اور تقویٰ اختیارکریں تو اللہ کی طرف سے چھوٹااجر بھی بہت بہتر ہے۔ کاش!انھیں اس حقیقت کا ادراک ہو۔

 

حق تک رسائی کے لیےچندباتیں ضروری ہوتی ہیں:

۱۔ طلب صادق ۲۔حسن سماعت ۳۔عدم تعصب ۴۔ذاتی مفادات سے بلندی ۵۔جذبۂ قبول حق

 یہود کے اندر یہ اوصاف انتہائی حد تک مفقودتھے۔وہ حق کے متلاشی ضرور تھےمگران میں بیشتر ایسے تھے جن کے اندر طلب صادق نہیں تھی۔جب کلام حق نظام نازل ہواتو انھوں نے بغورسماعت نہیں کیا،تعصب اورمفادات نے ان کی آنکھوں کے ساتھ ان کے دلوں کوبھی اندھا بنادیا،جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ ان میں سے اکثر وبیشتر ایمان نہیں لائے۔ حدتویہ ہے کہ جوکتاب ان کے پاس تھی ،جس میں اس نئے پیغمبر کی نشانیاں مذکور تھیں،اس نئے پیغمبر کی آمد کے بعد فرط تعصب میں وہ اپنی کتاب سے بھی غافل اور جاہل بن گئے۔ اس کی تعلیمات کو بھی قابل اعتنا نہیں سمجھا۔

 امام رازی حضرت سدی کے حوالے سے لکھتے ہیں:

’’جب یہود کے پاس محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو اُنھوں نے تورات کے ذریعے آپ کا مقابلہ کیا اورآپ کی تردید کی کوشش کی،لیکن جب تورات اورقرآن میں اتفاق ہوگیاتو تورات کو بھی پس پشت ڈال دیااور آصف برخیا کی کتاب اورہاروت ماروت کے جادو کو لےکر آئےجو قرآن کے موافق نہیں تھا۔اسی حوالے سے قرآن مقدس کی مذکورہ آیات نازل ہوئیں۔‘‘ (تفسیر کبیر،سورۂ بقرہ،آیت:۱۰۲)

ہدایت کا تنہامالک اللہ رب العزت کی ذات ہے،لیکن اس نے ہدایت کی باتوں کو چھپانہیں رکھی ہیں،بلکہ سب کچھ کھول کر رکھ دیاہے۔یہاں تک کہ اس کی جانب سے جو چیزیں امتحان وآزمائش کے لیے ہوتی ہیں ،ان کے بارے میں بھی پیشگی طورپر وہ بتادیتاہے کہ فلاں فلاں چیزیں تمہاری آزمائش کے لیےہیں مگر اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص قبول حق سے دور ہے تو اس کا واضح مطلب ہے کہ اس کے اندر نہ تو طلب صادق ہے اور نہ قبول حق کا جذبہ۔اگر کسی کی طبیعت میں قبول حق کے تعلق سے مذکورہ بالا یہودی فطرت موجودہے تو آفتاب نیم روز بھی اس کی نگاہوں کو روشنی نہیں دے سکتا۔آپ کی ہر دلیل اس کی تاویل وتحریف اور موضوع سے اعراض کی نذرہوکر رہ جائےگی۔

 مذکورہ بالاآیات میں بتایاگیاہے کہ اللہ کی نشانیاں اتنی واضح ہیں کہ ان پرغور کرنے والا حقائق کاانکار کرہی نہیں سکتا، اِلّایہ کہ وہ فسق میں مبتلا ہوں۔فسق حد سے گزرنے کوکہاجاتا ہے۔ یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو انکار اورسرکشی میں حدسے گزرنے ہونےوالے ہیں، جو سرکش ،ضدی اور ہٹ دھرم ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہدایت ہمیشہ طالب کو ملتی ہے،ضدی اورہٹ دھرم کو نہیں ملتی۔ جو ضد میں مبتلاہوتاہے وہ جہالت اورتاریکی میں ڈوبتاچلاجاتا ہے۔ اس سے یہ سبق ملتاہے کہ متلاشیان حق کو ضد کی روش چھوڑکر طلب کی روش اختیارکرنی چاہیے۔ ضد، تعصب اورہٹ دھرمی یہودی سرشت کے بڑے عناصر ہیں۔ انھوں نے یہی رویہ سابق انبیا کے ساتھ روا رکھا اور یہی رویہ خاتم الانبیاء جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بھی جاری رکھا،جس کا نتیجہ ،تاریکی ،محرومی اور ضلالت کی شکل میں ظاہر ہوا۔

آیت نمبر:۱۰۲؍سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہود جادوٹونے کے بڑے خوگرتھے۔اس کی ابتداحضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد کے شیاطین سے ہوتی ہے۔اسی طرح عہدقدیم میں شہر بابل میں اللہ کے دوفرشتےنازل ہوئے،جن میں ایک کا نام ہاروت اوردوسرے کا نام ماروت تھا۔ان دوفرشتوں نے لوگوں کوجادوسکھایاجس کے ذریعے گھروں میں جھگڑے اور لڑائیاں ہوئیں،تفریق اورطلاق کے واقعات ہوئے۔یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ فرشتے انسانوں کی آزمائش کے لیے آئے تھے اور وہ پیشگی طورپر یہ بتادیتے تھے کہ ہم لوگ فتنہ ہیں،تم ہماری پیروی نہ کرواورغلط روی کاشکارنہ بنو،لیکن اس کے باوجود لوگ ان فرشتوں سے جادو سیکھتے تھے اور اس کے ذریعے ایک دوسرے کوگزندپہنچاتے تھے۔

یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ اللہ کریم نے ہمیشہ حق و باطل کو واضح فرمادیاہے۔انفس وآفاق سے ایسے شواہد کھول کر پیش کردیے ہیں،اس کے ساتھ پیغمبروں اوررسولوں کے توسط سے حقائق کا انکشاف فرمادیاہے،لیکن اس کے باوجود انسان جانتے بوجھتے خطائیں کرتاچلاجاتا ہے۔نہ آیات انفس و آفاق میں غورکرتاہے اور نہ آیات کتاب کونگاہ بصیرت سے دیکھتا ہے اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی شیطان کے نقش قدم پر چل پڑتاہے۔

 ان آیات سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ جادو کااثر ہوتا ہے،اگرچہ موثر حقیقی اللہ کی ذات ہے۔جس طرح دوا کا اثر ہوتا ہے،اگر چہ شافی مطلق اللہ کی ذات ہے۔لیکن قرآن کریم نے جو اسلوب بیان یہاں اختیارکیاہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بندۂ مومن کو ہمیشہ اپنی نظر موثر حقیقی پر جمانی چاہیے،نہ کہ موثر مجازی اور غیر حقیقی پر۔

وحدۃ الوجودی صوفیہ ہمیشہ اسی قرآنی فکر پر رہے ہیں، انھوں نےہر فعل میں ،ہر اثر میں،ہر صورت میں،ایک ہی فاعل، ایک ہی مؤثراورایک ہی مصورکودیکھاہے۔ان کی لطافت بیانی بہتوں کے فہم وادراک سےپرے رہی اور انھوں نے اس سے وحدت خالق ومخلوق یا حلول واتحاد کا غیر اسلامی مفہوم پیداکرلیا۔

آیت نمبر:۱۰۲-۱۰۳؍میں یہود کی دین فروشی کی مذمت کرتے ہوئے انھیں متنبہ کیاگیاہے کہ کاش! انھیں اس حقیقت کا ادراک ہوتاکہ خیرحقیقی ثواب الٰہی ہے جوآخرت میں ملنا ہے۔اگر انھیں اس بات کاکامل اذعان ہوتاتو معمولی مفادات کے لیے ضمیر اوردین کا سواد نہ کرتے۔

ان آیات کریمہ کو دوبارہ پڑھیں تو معلوم ہوگاکہ ان کے مخاطب یہود سے کہیں زیادہ آج ہم خود ہیں۔خوف خدا،شرم نبی، فکراُمت،خیال عاقبت سب سے بےنیاز ہوکر ہم نے معمولی مفادات پر دین اورضمیرکا سوداکرلیاہے۔ہم نے اپنے شخصی اور گروہی تحفظات پردین،امت اور آخرت کو بھینٹ چڑھا دیاہے۔اللہ تعالیٰ سے دعاہے کہ وہ مسلمانوں کے قلوب کو اخلاص وللہیت سے بھردےاور ان کے اندر دینداری، خداترسی، فکراُمت اور خیال عاقبت کے صالح جذبات پیدا فرمادے۔ امت کو اپنے گروہی تعصبات سے اٹھنا ہی ہوگا، حق اور حقیقت کو سمجھناہی ہوگا،مطلوب حقیقی اور مطلوب مجازی کافرق کرناہی ہوگا،امت اگر ایسا کرگزرتی ہے تو دنیا اور آخرت دونوں کی آبادی اورفلاح وکامرانی یقینی ہے۔(اللہم آمین)