یہ وقت بھی آنا تھا

کل فواد چوہدری نے تحریک لبیک کے قائدین پر بغاوت اور دہشت گردی کے مقدمات قائم کرنے کا اعلان کردیا.پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ تحریک پاکستان اور قیام پاکستان کے لیے خون جگر دینے والوں کی اولادوں کو دہشت گردی, انتہا پسندی اور بغاوت جیسے قبیح عناوین کے ساتھ جوڑا گیا.یہ اہل سنت کےلیےلمحئہ فکریہ بھی ہے اور اس سے بڑھ کر ڈوب مرنے کا مقام ہےکہ جس ملک کو ان کے آباء نےحاصل کرنے کے لیے سب سے بڑھ کر عظیم جدوجہد کی تھی اسی ملک میں وہ دہشت گرد اور باغی ڈیکلیئر کیے گئے ہیں.آج علامہ فضل حق خیر آبادی کی روح تڑپ رہی ہوگی,سید نعیم الدین مراد آبادی اپنے مزار میں پریشان ہونگے,پیر جماعت علی شاہ علی پوری ,پیر مہر علی اور علامہ اقبال علیھم الرحمہ کی ارواح اپنے مزاروں میں بےقرار ہونگی کہ ہم تو اپنے اخلاف کو تعمیر پاکستان کا کام سونپ کے آئے تھے.پاکستان کے غداروں کے سامنے سینہ سپر ہونے کی وصیتیں کر کے آئے تھے.انہوں نے ہماری جدوجہد کو ایسے غارت کیوں کردیا.

اول تو 1977ء کے بعد ہم بحثیت اہل سنت اپنی شناخت ہی برقرار نہ رکھ سکے.ہم بریلوی ہوگئے اور ہمارا نام اس ملک کی بدترین دہشت گرد جماعت نے لے لیا.ہمارے قائدین نے گولی کے ڈر سے اس کے خلاف ذرہ بھی تحرک نہ کیا.انہوں نےسوچا کہ شناخت جائے پہاڑ میں ہمارے آستانے سلامت اور مدراس و مساجد سلامت رہنے چاہییں اور بس.پیر ابھی تک بڑے بڑے پلازے اور کمرشل بلڈنگز تعمیر کررہے ہیں.عوام نے نعت خوانی کو ہی دین اور مسلک.سمجھ لیا ہے.علماء اپنے طور پر جدوجہد کر رہے ہیں لیکن انکو.پیر عظام کی حمایت حاصل ہے نہ عوام کی.بے آسراء اور بے وسیلہ جدوجہد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے.دوئم مدبر قائدین کے پردہ فرما جانے کے بعد ایسے لوگ قائد بن گئے جن کے پاس کوئی ایجنڈا اور لائحہ عمل نہیں تھا.نتیجتا سنی عوام نے انہیں قبول نہیں کیا.جب بھی ملک میں محبت رسول اور عشق رسول پر کوئی حرف آتا تو یہ بے چاری عوام بدوں قیادت میدان عمل میں کودپڑتی.ممتاز قادری علیہ الرحمہ کو جب پھانسی ہوئی تو اہل سنت نے مولانا خادم حسین رضوی کو اپنا قائد چن لیا.خادم رضوی اپنی معذوری کے باوجود سنی عوام کو متحرک کرنے میں.کامیاب ہوگئے.ایجنڈا نہ ہونے کی وجہ سے ایشوز کی سیاست پر فوکس کیا.کئی بار اپنی طاقت کا اظہار پورے ملک کو جام کر کے کیا.یہ خود بھی ایک غیر لچکدار شخصیت کے مالک ہیں اور اوپر سے پیر افضل قادری کی صورت میں ان کے ساتھ ایک ایسا شخص چمٹ گیا جس نے ساری زندگی اہل سنت کو تباہ کرنے کا بیڑا اٹھائے رکھا.لاابالی طبیعت نے ہر موقع پر بدزبانی کی.اپنے اور غیروں کو گالیاں,سیاستدانوں اور ججوں کو گالیاں,جرنیلوں اور علماء کو گالیاں.اس بد زبانی کا انجام اس کے سوا کیا ہوسکتا تھا جو ہوا.میں اپنے دل میں یہ گمان رکھتا تھا کہ اب اہل سنت کاسیاسی احیاء ہوگا اور یہ برسراقتدار آئیں گے اور اکابرین کی یادیں تازہ کریں گے.لیکن میرا گمان غلط ثابت ہوا.اب مجھے لگ رہا کہ اہل سنت کے لالہ زاروں سے مدت مدید تک کوئی نعیم الدین مراد آبادی نہیں اٹھے گا.کوئی جماعت علی شاہ اور کوئی امین الحسنات(مانکی شریف) نہیں آئے گا.لبیک جس تیزی سے آئی تھی اسی تیزی سے واپسی کے سفر پر رواں دواں ہے.شورائی نظام نہ ہونے کی وجہ سے معاملات نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں چلے گئے اور یوں لبیک اپنے آپ کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا نہ کرسکی.

جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے اس نے اپنے ان 100.دنوں میں مذہب اور اہل مذہب کو بہت ٹارگٹ کیا ہے.پاڑٹی پالیسیوں پر سیکولرز کا قبضہ ہے.مجھے اچھی طرح معلوم ہے صاحبزادہ نورالحق قادری حکومت کی سمت کو.مذہبی حوالے سے درست رکھنے کی بہت کوشش کر رہے ہیں لیکن جہاں.اکثریت کا قبضہ ہو وہاں.ایک.آدمی کیا کرے.!اگر حکومتی پالیسیوں پر فواد چوہدری کی سوچ غالب رہی تو عمران خان کو بے حد مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا.اگر عمران خان نے کامیاب ہونا ہے تو اسے صاحبزادہ صاحب کیے نقطئہ نظر کو اہمیت دینا ہوگی.

یہ میرا نقطئہ نظر ہے آپکو اختلاف کا حق ہے.

طالب دعاء

گلزاراحمد نعیمی.