أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَا تُؤۡمِنُوۡۤا اِلَّا لِمَنۡ تَبِعَ دِيۡنَكُمۡؕ قُلۡ اِنَّ الۡهُدٰى هُدَى اللّٰهِۙ اَنۡ يُّؤۡتٰٓى اَحَدٌ مِّثۡلَ مَاۤ اُوۡتِيۡتُمۡ اَوۡ يُحَآجُّوۡكُمۡ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ‌ؕ قُلۡ اِنَّ الۡفَضۡلَ بِيَدِ اللّٰهِۚ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ

ترجمہ:

اور تم صرف اس شخص کی بات مانو جو تمہارے دین کا پیروکار ہو ‘ آپ کہئے کہ بیشک (اصل) ہدایت تو اللہ ہی کی ہدایت ہے (اور انہوں نے کہا، تم یہ بھی نہ مانو کہ) جو کچھ تم کو دیا گیا اس کی مثل کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے یا کوئی تمہارے خلاف تمہارے رب کے پاس کوئی حجت قائم کرسکتا ہے ‘ آپ کہیے کہ بیشک فضل تو اللہ کے قبضہ میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے فضل عطا فرماتا ہے ‘ اور اللہ بہت وسعت والا بہت علم والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اور انہوں نے کہا ‘ تم یہ بھی نہ مانو کہ) جو تم کو دیا گیا اس کی مثل کسی اور کو بھی دیا جاسکتا ہے ‘ یا کوئی تمہارے خلاف تمہارے رب کے پاس کوئی حجت قائم کرسکتا ہے۔ الا یہ۔ (آل عمران : ٧٣)

اس آیت میں بھی یہود کے کلام کا تتمہ بیان کیا گیا ہے چونکہ یہود کا یہ زعم تھا کہ نبوت صرف بنو اسرائیل کے ساتھ مختص ہے اس لیے انہوں نے آپس میں کہا بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جیسا دین اور جیسی کتاب تمہیں دی گئی ہے وہ کسی اور کو بھی دی جائے ‘ اور نہ یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص تمہارے خلاف تمہارے رب کے سامنے کوئی حجت پیش کرسکے ‘ اس آیت کی دوسری تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اپنے ہم مذہب یودیوں کے سوا اپنے اسرار اور راز کی باتیں اور کسی پر ظاہر نہ کرو ‘ اور اس آخری نبی کے متعلق جو پیش گوئیاں ہماری کتاب میں ہیں وہ مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو ورنہ ان کا اس نبی پر ایمان اور پختہ ہوگا اور قیامت کے دن وہ تمہارے خلاف حجت پیش کریں گے ‘ اور تیسری تفسیر یہ ہے کہ تمہارے پاس جو علم اور حکمت کی باتیں ہیں وہ مسلمانوں پر ظاہر نہ کرو ورنہ وہ تم سے یہ باتیں سیکھ لیں گے ‘ اور تمہارے برابر ہوجائیں گے اور وہ تم سے علم اور حکمت کی باتیں سیکھ کر ان کو تمہارے خلاف قیامت کے دن اللہ کے سامنے بطور حجت پیش کریں گے۔ ان دو جملوں کے درمیان یہ جملہ معترضہ ہے کہ اصل ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندہ اور رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو آیات نازل کی ہیں اللہ تعالیٰ جس کو ان کی طرف ہدایت دینا چاہیے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے ‘ اور اسلام اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف تمہاری سازشیں ‘ مکرو فریب اور دجل وتلبیس کوئی اثر نہیں کرسکتا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہئے کہ بیشک فضل تو اللہ کے قبضے میں ہے وہ جس کو چاہتا ہے فضل عطا فرماتا ہے اور اللہ بہت وسعت والا بہت علم والا ہے۔ (آل عمران : ٧٣)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس زعم فاسد کا رد کیا ہے کہ نبوت صرف بنو اسرائیل میں رہے گی ‘ اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا نبوت ہو یا کوئی اور نعمت ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے ‘ وہ جس کو چاہے ایمان اور علم و حکمت سے نوازتا ہے ‘ اور جس کو چاہے گمراہی میں پڑے رہنے دیتا ہے ‘ اس کی بصر اور بصیرت کو سلب کرلیتا ہے اور اس کے دل اور کانوں پر مہر لگا دیتا ہے ‘ کل خیر اور فضل مطلق اسی کے ہاتھ میں ہے ‘ اور نبوت بنو اسرائیل میں منحصر نہیں ہے اور نہ کسی کے نسب اور شرف کی نبوت پر اجارہ داری ہے ‘ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ بہت علم والا ہے اس میں یہ ظاہر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کو علم ہے کہ کون اس کا اہل ہے جس کو وہ اپنا فضل عطا فرمائے ‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

(آیت) ” اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “۔ (الانعام : ١٢٤)

ترجمہ : اللہ اپنی رسالت رکھنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 73