أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يَّخۡتَصُّ بِرَحۡمَتِهٖ مَنۡ يَّشَآءُ ‌ؕ وَاللّٰهُ ذُو الۡفَضۡلِ الۡعَظِيۡمِ

ترجمہ:

وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ (آل عمران : ٧٤)

نبوت کا وہبی ہونا اور باقی فضائل کا کسبی ہونا :

جس شخص کے متعلق اللہ تعالیٰ کو علم ہو کہ یہ اس کی رحمت کے لائق ہے اس کو اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرلیتا ہے، خصوصا وہ رحمت جس سے مراد نبوت ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے اس شخص کو نبوت کے ساتھ مختص کرتا ہے جو نبوت کے قابل ہو وہ اس شخص کو صفاء باطن اور پاکیزہ فطرت کے پیدا کرتا ہے تاکہ اس پر بہ تدریج وحی نازل فرمائے ‘ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

(آیت) ” ولما بلغ اشدہ اتینہ حکما وعلما “۔ (یوسف : ٢٢)

ترجمہ : اور جب وہ (یوسف) اپنی پوری قوت کو پہنچے تو ہم نے انہیں حکم اور علم عطا فرمایا۔

نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” اللہ اپنی رسالت رکھنے کی جگہ کو خوب جانتا ہے۔ (الانعام : ١٢٤) یہی وجہ ہے کہ نبوت کسب سے حاصل نہیں ہوتی ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ جس کو نبی بنانا چاہتا ہے اس کی اہلیت رکھنے والا شخص پیدا فرما دیتا ہے بلکہ عام انسانوں کے اعتبار سے نبی کی حقیقت میں ایک زائد خصوصیت ہوتی ہے اور وہ ہے حصول وحی کی استعداد اور صلاحیت ‘ عام انسان صرف حواس اور عقل سے شہادت اور ظاہر کا ادراک کرتے ہیں اور نبی میں ایک ایسی خصوصیت ہے جس سے وہ غیب کا ادراک کرتا ہے ‘ جنات اور فرشتوں کو دیکھتا ہے اور فرشتوں کا کلام سنتا ہے ‘ سو اللہ تعالیٰ جس کو نبی بناتا ہے اس میں ایسی صلاحیت اور استعداد رکھتا ہے جس کی بناء پر اس پر وحی نازل کی جاسکے اور عام انسانوں میں یہ صلاحت اور استعداد نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” لوانزلنا ھذا القران علی جبل الرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ “۔ (الحشر : ٢١)

ترجمہ : اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل فرماتے تو (اے مخاطب) تو ضرور اسے (اللہ کے لیے) جھکتا ہوا اور اللہ کے خوف سے پھٹتا ہوا دیکھتا۔

نبوت کے علاوہ دیگر فضائل مثلا علم و حکمت ‘ نیکی اور تقوی وغیرہ کو کسب سے حاصل کرنا ممکن ہے ‘ اس کے باوجود ان صفات کی بھی صلاحیت اور استعداد کا حاصل ہونا ضروری ہے ‘ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی توفیق اور اس کی نظر عنایت ہو تو یہ صفات حاصل ہوتی ہے ‘ اور جب کہ رحمت نبوت اور دیگر تمام نیک صفات کو شامل ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان تفصیل ذکر نہیں کی ‘ بلکہ اجمالا فرمایا اللہ اپنی رحمت کے ساتھ جس کو چاہے خاص فرما لیتا ہے یعنی اس کے علم کے مطابق جو شخص جس رحمت کا اہل ہو اور اس کو اس رحمت سے نوازنا اس کی حکمت کا تقاضا ہو وہ اس کو اس رحمت سے نواز دیتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اللہ بڑے فضل والا ہے ‘ اس میں یہ تنبییہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت حاصل کرنے کا ارادہ کرے وہ اللہ تعالیٰ کے فضل کی طرف متوجہ اور راغب ہوتا ہے تاکہ اللہ اس پر اپنے فضل اور رحمت سے تجلی فرمائے اس کو برائیوں اور گناہوں سے پاک اور صاف کرے اور اس کو نیکیوں اور خوبیوں سے مزین فرمائے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 74