أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّ الَّذِيۡنَ يَشۡتَرُوۡنَ بِعَهۡدِ اللّٰهِ وَاَيۡمَانِهِمۡ ثَمَنًا قَلِيۡلًا اُولٰٓٮِٕكَ لَا خَلَاقَ لَهُمۡ فِى الۡاٰخِرَةِ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَلَا يَنۡظُرُ اِلَيۡهِمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيۡهِمۡ ۖ وَلَهُمۡ عَذَابٌ اَ لِيۡمٌ

ترجمہ:

بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت خریدتے ہیں ان لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور نہ آخرت میں اللہ ان سے کوئی کلام کرے گا اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظر (رحمت) فرمائے گا اور نہ ان کو پاکیزہ کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بیشک جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت خریدتے ہیں ‘ ان لوگوں کے لئے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے اور نہ آخرت میں اللہ ان سے کوئی کلام کرے گا ‘ اور نہ قیامت کے دن ان کی طرف نظر (رحمت) فرمائے گا اور نہ ان کو پاکیزہ کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ (آل عمران : ٧٧)

عہد شکنی کرنے اور قسم توڑنے والوں کے متعلق آیت کا نزول : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے حاکم کے فیصلہ سے حلف اٹھایا تاکہ اس قسم کے ذریعہ کسی مسلمان شخص کا مال کھالے وہ جس وقت اللہ سے ملاقات کرے گا وہ اس پر غضبناک ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ نے اس کی تصدیق میں یہ آیت نازل کی : (آیت) ” ان الذین یشترون بعھد اللہ و ایمانھم ثمنا قلیلا “۔ الایہ (آل عمران : ٧٧) پھر حضرت اشعث بن قیس آئے اور پوچھا حضرت ابو عبدالرحمان نے تم سے کیا حدیث بیان کی ہے ؟ انہوں نے بتایا اس اس طرح حدیث بیان کی ہے ‘ انہوں نے کہا یہ آیت میرے متعلق نازل ہوئی تھی ‘ میرے عم زاد کی زمین میں میرا کنواں تھا ‘ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے مقدمہ پیش کیا ‘ آپ نے فرمایا تم اس کے ثبوت میں گواہ لاؤ‘ ورنہ پھر اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا ‘ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ تو اس پر قسم کھالے گا ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے حاکم کے فیصلہ سے جھوٹی قسم کھائی تاکہ اس قسم کے ذریعہ وہ مسلمان کا مال کھالے وہ جب قیامت کے دن اللہ سے ملاقات کر جے گا تو اللہ اس پر غضب ناک ہوگا۔ (صحیح بخاری ج ٢ ص ‘ ٩٨٧ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں :

عدی بن عمیرہ بیان کرتے ہیں کہ امرء القیس اور حضرموت کے ایک شخص کے درمیان کوئی تنازعہ تھا ‘ دونوں نے اپنا مقدمہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کیا آپ نے حضرمی سے فرمایا تم گواہ پیش کرو ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہوگا ‘ حضرمی نے کہا یا رسول اللہ ! اگر اس نے قسم کھائی وہ جب اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس پر غضبناک ہوگا ‘ امرء القیس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو شخص حق پر ہونے باوجود قسم نہ کھائے اور اپنا حق ترک کردے اس کی کیا جزاء ہے ؟ آپ نے فرمایا جنت ! اس نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں آپ کو گواہ کرتا ہوں کہ میں قسم کو ترک کرتا ہوں ‘ عدی نے کہا پھر یہ آیت نازل ہوئی۔ (جامع البیان ج ٣ ص ‘ ٢٢٨ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

اس آیت کی تفسیر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کی ہوئی کتاب کے ذریعہ جن لوگوں سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع کریں گے اور آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو احکام لائے ہیں ان کی تصدیق اور ان کا اقرار کریں گے ‘ ان میں سے کو لوگ اس عہد کو پورا نہیں کرتے ‘ اور وہ جھوٹی قسمیں کھا کر لوگوں کا مال کھاتے ہیں ‘ اور اس عہد شکنی اور جھوٹی قسموں کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا مال خریدتے ہیں ‘ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے جنت اور جنت کی جو نعمتیں تیار کی ہیں ‘ ان سے وہ محروم رہیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے کوئی ایسی بات نہیں کرے گا جس سے ان کو خوشی ہو اور نہ ان کی طرف رحمت کی نظر فرمائے گا اور انہ ان کو ان کے گناہوں کے میل اور زنگ سے پاک فرمائے گا اور ان کو درد ناک عذاب میں مبتلا فرمائے گا۔

عہد شکنی کرنے اور قسم توڑنے والوں کی سزا کا بیان : 

ہرچند کہ اس آیت کا شان نزول چند خاص لوگوں کے متعلق ہے لیکن اس آیت کے الفاظ عام ہیں : جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے عوض تھوڑی قیمت خریدتے ہیں : اور اعتبار خصوصیت مورد کا نہیں عموم الفاظ کا ہوتا ہے ‘ اس لیے ہر عہد شکنی کرنے والے اور مال دنیا کی خاطر جھوٹی قسم کھانے والے کا یہی حکم ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ایسے شخص کی پانچ سزائیں بیان فرمائیں ہیں۔

(١) ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔

(٢) آخرت میں اللہ ان سے کلام نہیں فرمائے گا۔

(٣) قیامت کے دن انکی طرف نظر نہیں فرمائے گا۔

(٤) ان کا تزکیہ نہیں فرمائے گا۔

(٥) ان کے لیے دردناک عذاب ہے ‘ ان پانچوں وعیدوں کی تشریح حسب ذیل ہے :

(١) ان کے لیے آخرت کی خیر اور نعمتوں میں سے کوئی حصہ نہیں ‘ معتزلہ اسی آیت سے استدلال کرتے تھے کہ عہد شکنی کرنا اور جھوٹی قسم کھانا گناہ کبیرہ ہے اور جو شخص گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرے اور بغیر توبہ کے مرجائے وہ آخرت میں اجروثوب سے محروم رہے گا بلکہ اس کو دائمی عذاب ہوگا ‘ ہمارے نزدیک یہ آیت اللہ تعالیٰ کی مشیت اور عدم عفو کے ساتھ مقید ہے۔ یعنی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو اس کو دائمی عذاب دے گا یا اگر اللہ تعالیٰ اس کو معاف نہ کرے تو اس کو دائمی عذاب دے گا ‘ یا یہ آیت محض انشاء تخویف کے لیے ہے ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ڈرانے کیلیے فرمایا فی الواقع ایسا نہیں کرے گا اور وعید کے خلاف کرنا عین کرم ہے یا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے استحقاق بیان فرمایا ہے یعنی عہد شکنی اور جھوٹی قسم کھانے والے اس سزا کے مستحق ہیں یہ نہیں فرمایا کہ وہ ان کو ضروریہ سزا دے گا یا یہ عام مخصوص عنہ البعض ہے یعنی یہ آیت کافروں کے ساتھ خاص ہے اور کافروں میں سے جو عہد شکنی کرے گا یا جھوٹی قسم کھائے گا اس کی یہ سزا ہوگی۔

(٢) اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں فرمائے گا ‘ اس پر یہ اعتراض ہے کہ قرآن مجید کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ہر شخص سے کلام فرمائے گا اور ان سے پوچھے گا :

(آیت) ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن المرسلین “۔ (الاعراف : ٦)

ترجمہ : پس ضرور ہم ان لوگوں سے پوچھیں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے تھے ‘ اور ہم ضرور رسولوں سے بھی پوچھیں گے۔

(آیت) ” فوربک لنسئلنھم اجمعین۔ عما کانوا یعملون “۔ (الحجر : ٩٣۔ ٩٢)

ترجمہ : سو آپ کے رب کی قسم ہم ان سب سے ضرور سوال کریں گے ‘ ان سب کاموں کے متعلق جو وہ کرتے تھے۔

اور ظاہر ہے کہ سوال بغیر کلام کے متصور نہیں ہے ‘ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جو فرمایا ہے اللہ تعالیٰ ان سے کلام نہیں کرے گا یہ اللہ تعالیٰ کے ناراض ہونے سے کنایہ ہے کیونکہ جو شخص کسی سے ناراض ہو اور اس سے بات نہیں کرتا ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کاملین اور اولیاء عارفین سے براہ راست اور بالمشافہ بات کرے گا اور کفار اور ساق اور فجار سے بالمشافہ بات نہیں کرے گا بلکہ فرشتوں کے وساطت سے بات کرے گا ‘ اور تیسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت کا محمل یہ ہے اللہ تعالیٰ ان سے خوشی سے باپ نہیں کرے گا ‘ اور نہ ان سے ایسی بات کرے گا جس سے وہ خوش ہوں۔

(٣) قیامت کے دن ان کی طرف نظر نہیں فرمائے گا : اس آیت کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو دیکھے گا نہیں کیونکہ کائنات کی کوئی چیز اللہ سے اوجھل اور مخفی نہیں ہے بلکہ اس کا یہ معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی طرف محبت اور رحمت سے نہیں دیکھے گا۔

(٤) اللہ تعالیٰ ان کا تزکیہ نہیں فرمائے گا : اس کا ایک معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے گناہوں کے میل اور زنگ سے پاک اور صاف نہیں کرے گا بلکہ ان کے گناہوں کی ان کو سزا دے گا اور ان کو معاف نہیں کرے گا ‘ دوسرا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جس طرح اپنے نیک بندوں کی تعریف اور ستائش کرے گا ان کی تعریف نہیں کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی تعریف فرشتوں کے واسطہ سے بھی کرے گا اور بلاواسطہ بھی ان کی تعریف فرمائے گا فرشتوں کے واسطہ سے یہ تعریف ہے :

(آیت) ”۔ والملائکۃ یدخلون علیھم من کل باب ،۔ سلام علیکم بماصبرتم فنعم عقبی الدار “ (الرعد : ٣٤۔ ٣٣)

ترجمہ : اور فرشتے (جنت کے) ہر دروازہ سے (یہ کہتے ہوئے) ان پر داخل ہوں گے ‘ تم پر سلامتی ہو کیونکہ تم نے صبر کیا سو کیا ہی اچھا ہے آخرت کا گھر۔

اللہ تعالیٰ نے خود اپنے نیک بندوں کی دنیا میں بھی تعریف فرمائی ہے :

(آیت) ” التآئبون العابدون الحامدون السآئحون الراکعون الساجدون الامرون بالمعروف والناھون عن المنکر والحفظون لحدود اللہ وبشر المؤمنین “۔ (التوبہ ١١٢)

ترجمہ : جو توبہ کرنے والے ہیں ‘ عبادت کرنے والے ہیں ‘ اللہ کی حمد کرنے والے ہیں ‘ روزہ رکھنے والے ہیں ‘ رکوع کرنے والے ہیں ‘ سجدہ کرنے والے ہیں ‘ نیکی کا حکم دینے والے ہیں ‘ برائی سے روکنے والے ہیں اور اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں اور مومنوں کو بشارت دیجئے۔

اور اللہ تعالیٰ آخرت میں بھی ان کی تعریف فرمائے گا :

(آیت) ” سلم قولا من رب رحیم “۔ (یس : ٣٦)

ترجمہ : ان پر رب رحیم کا فرمایا ہوا سلام ہوگا :

(٥) انکے لیے درد ناک عذاب ہے : پہلے چار امور میں اللہ تعالیٰ نے ان سے ثواب کی نفی کی ہے اور اس آخری امر میں اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب کی وعید سنائی ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 77