أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بَلٰى مَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ وَاتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُتَّقِيۡنَ

ترجمہ:

کیوں نہیں ! جس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور اللہ سے ڈرا تو اللہ متقین کو محبوب رکھتا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیوں نہیں جس نے اپنے عہد کو پورا کیا ‘ اور اللہ سے ڈرا تو اللہ متقین کو محبوب رکھتا ہے۔ (آل عمران : ٧٦)

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس قول کا رد کیا ہے کہ ” ان پڑھ لوگوں کا مال کھانے پر ہماری گرفت نہیں ہوگی “ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کیوں نہیں ان کی اس پر گرفت ہوگی ‘ عہد شکنی کرنے والوں کی مذمت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ عہد پورا کرنے والوں کی مدح فرماتا ہے کہ جس شخص نے عہد پورا کیا اور عہد شکنی کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈراتو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک محبوب ہے۔

عہد پورا کرنے کی فضیلت یہ ہے کہ اطاعت دو چیزوں میں منحصر ہے ‘ اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور مخلوق پر شفقت ‘ اور عہد پورا کرنا ان دونوں چیزوں پر مشتمل ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے عہد پورا کرنے کا حکم دیا ہے ‘ اس لیے عہد پورا کرنے سے اس کے حکم پر عمل ہوتا ہے اور یہ اللہ کی تعظیم ہے اور عہد پورا کرنے سے مخلوق کو فائدہ پہنچتا ہے اس لیے اس میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے ساتھ ساتھ مخلوق پر شفقت بھی ہے ‘ اور جو شخص بندوں سے کئے ہوئے عہد کو پورا کرے گا وہ اللہ سے بھی کیے ہوئے عہد کو پورا کرے گا ‘ اور بندہ کا اللہ سے عہد یہ ہے کہ وہ اس کے تمام احکام پر عمل کرے اور اس کی عبادت بجا لائے اور ان تمام کاموں سے باز رہے ‘ جن سے اللہ تعالیٰ نے اس کو منع کیا ہے اور جب انسان اللہ تعالیٰ اور بندوں سے کئے ہوئے عہود کو پورا کرے گا تو وہ کامل متقی بن جائے گا اور انہی لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 76