أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمِنۡ اَهۡلِ الۡكِتٰبِ مَنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِقِنۡطَارٍ يُّؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ‌ۚ وَمِنۡهُمۡ مَّنۡ اِنۡ تَاۡمَنۡهُ بِدِيۡنَارٍ لَّا يُؤَدِّهٖۤ اِلَيۡكَ اِلَّا مَا دُمۡتَ عَلَيۡهِ قَآٮِٕمًا ‌ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَالُوۡا لَيۡسَ عَلَيۡنَا فِىۡ الۡاُمِّيّٖنَ سَبِيۡلٌۚ وَيَقُوۡلُوۡنَ عَلَى اللّٰهِ الۡكَذِبَ وَ هُمۡ يَعۡلَمُوۡنَ

ترجمہ:

اور (اے مخاطب) اہل کتاب میں سے بعض ایسے لوگ ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ڈھیروں مال بھی امانت رکھو تو وہ تم کو ادا کردیں گے اور بعض ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو وہ تم کو ادا نہیں کریں گے سوا اس کے کہ تم ان کے سر پر کھڑے رہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہہ چکے ہیں کہ ان ان پڑھ لوگوں کا مال ہڑپ کرنے پر ان کی کوئی گرفت نہیں ہوگی اور وہ دانستہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں

تفسیر:

اہل کتاب کے امانت داروں اور خائنوں کا بیان : 

اس سے پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اہل کتاب نے کہا یہ کبھی نہیں ہوسکتا کہ جو کچھ ہمیں دیا گیا ہے اس کی مثل کسی اور کو بھی دی جائے اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ خیانت کرنا تمام مذاہب میں مذموم ہے ‘ اس کے باوجود وہ خیانت کرتے ہیں اور جو لوگ مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنے میں جھوٹے ہیں اور وہ کے ساتھ معاملہ میں کب سچے ہوسکتے ہیں ! نیز اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتلایا ہے کہ اہل کتاب کی دو قسمیں ہیں ‘ بعض ‘ معاملات میں ایماندار ہیں اور بعض خائن ہیں تاکہ مسلمان ان سے تعلق قائم کرنے میں ہوشیار رہیں کیونکہ اہل کتاب خائن ہیں وہ مسلمانوں کا مال ہڑپ کرنا جائز سمجھتے ہیں۔

امام واحدی ضحاک سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن سلام (رض) کے پاس بارہ سواوقیہ (ایک اوقیہ چوتھائی چھٹانک کے برابر ہے) سونا رکھا ‘ انہوں نے وہ سونا اس کو ادا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی مدح فرمائی ‘ اور ایک شخص نے فخ اس میں عازوراء نام کے ایک یہودی عالم کے پاس ایک دینار امانت رکھا تو اس نے اس میں خیانت کی (الوسیط ج ١ ص ٤٥١) اللہ تعالیٰ نے فرمایا سوا اس کے کہ تم ان کے سر پر کھڑے رہو ‘ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ عملا اس کے سر پر کھڑا رہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس سے مسلسل مطالبہ کرتا رہے خواہ کھڑا ہو یا نہ ہو ‘ سدی وغیرہ نے کہا ہے کہ وہ اس کا پیچھا نہ چھوڑے ‘ ہر وقت اس کے ساتھ رہے اور اس سے مطالبہ کرتا رہے ‘ امام ابوحنیفہ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ قرض خواہ کے لئے جائز ہے کہ وہ اس وقت تک مقروض کا پیچھا نہ چھوڑے جب تک کہ وہ اس کا قرض ادا نہ کرے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی خیانت کی وجہ بیان فرمائی کہ یہودی یہ کہتے تھے کہ ان ‘ ان پڑھ لوگوں کا مال ہڑپ کرنے پر ان کی کوئی گرفت نہیں ہوگی ‘ یہودی اسلام اور قرآن کے مخالف تھے اس کے باوجود ان میں جو نیک لوگ تھے اور امانت ادا کرتے تھے قرآن مجید نے ان کی نیکی کو ظاہر فرمایا ‘ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید نے یہودیوں کی خیانت کو خصوصیت کے ساتھ بیان کیا ہے حالانکہ اور قوموں میں بھی موجود ہیں ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ یہودی مسلمانوں کے ساتھ خیانت کرنے کو جائز سمجھتے تھے بلکہ اس کو کار ثواب قرار دیتے تھے۔

کفار کی نیکیوں کے مقبول یا مردود ہونے کی بحث : 

مفتی محمد شفیع دیوبندی متوفی ١٣٩٦ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

اس سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ اچھی بات گو کافر کی ہو وہ بھی کسی درجہ میں اچھی ہی ہے ‘ جس کا فائدہ اس کو دنیا میں نیک نامی ہے اور آخرت میں عذاب کی کمی۔ (معارف القرآن ج ٢ ص ٩٣‘ مطبوعہ ادارۃ المعارف کراچی ‘ ١٣٩٧ ھ) ہمارے نزدیک یہ تفسیر صحیح نہیں ہے۔ آخرت میں کفار کے عذاب میں کمی ہونا صراحۃ قرآن مجید کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” لا یخفف عنہم العذاب ولا ھم ینظرون “۔ (البقرہ : ١٦٢)

ترجمہ : نہ ان کے عذاب میں کمی کی جائے گی نہ انہیں مہلت دی جائے گی۔

شیخ محمود الحسن متوفی ١٣٣٩ ھ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

یعنی ان پر عذاب یکساں اور متصل رہے گا اور یہ نہ ہوگا کہ عذاب میں کسی قسم کی کمی ہوجائے یا کسی وقت ان کو عذاب سے مہلت مل جائے۔

شیخ اشرف علی تھانوی متوفی ١٣٦٢ ھ لکھتے ہیں :

داخل ہونے کے بعد کسی وقت ان پر سے جہنم کا عذاب ہلکا بھی نہ ہونے پائے گا اور نہ داخل ہونے سے قبل ان کو کسی میعاد کی مہلت دی جائے گی۔

امام مسلم روایت کرتے ہیں کہ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن جدعان زمانہ جاہلیت میں رشتہ داروں سے حسن سلوک کرتا تھا مسکین کو کھانا کھلاتا تھا کہ اس کو اس کا فائدہ ہوگا آپ نے فرمایا ان نیکیوں سے اس کو نفع نہیں ہوگا اس نے ایک دن بھی یہ نہیں کہا۔ اے اللہ ! قیامت کے دن میری خطاؤں کو بخش دینا۔ (صحیح مسلم ج ١ ص ١٢٥)

علامہ نووی نے قاضی عیاض سے نقل کیا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ کفار کو ان اعمال سے نفع نہیں ہوگا ‘ ان کو ثواب ہوگا نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔

علامہ عینی نے علامہ قرطبی سے نقل کیا ہے کہ ابولہب اور جن کفار کے متعلق تخفیف عذاب کی تصریح ہے وہ ان ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ (عمدۃ القاری ج ٢٠ ص ٩٥)

یہودی غیر یہودی کا مال کھانا کیوں جائز سمجھتے تھے ؟ 

(١) یہودی اپنے دین میں سخت متعصب تھے وہ کہتے تھے جو دین میں ان کا مخالف ہو اس کو قتل کرنا بھی جائز ہے اور جس طرح بن پڑے اس کا مال لوٹنا بھی جائز ہے۔

(٢) یہودی کہتے تھے ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے محبوب ہیں اور ساری مخلوق ہماری غلام ہے اس لیے وہ ہر غیر یہودی کا مال اپنے لیے جائز سمجھتے تھے۔

(٣) یہودی مطلقا غیر کے مال کو حلال نہیں سمجھتے تھے بلکہ عرب کے جو لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے تھے ان کے مال کو کھانا اپنے لیے جائز گردانتے تھے۔ (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٧٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ)

یہودی جو کہتے تھے کہ مسلمانوں کا مال کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اس سے ان کا مقصد مسلمانوں کی تحقیر اور اپنا تفوق بیان کرنا تھا ‘ وہ اس پر تکبر کتے تھے کہ وہ پڑھے لکھے لوگ ہیں اور ان کو مسلمانوں سے پہلے کتاب دی گئی اس لیے وہ خود کو اہل کتاب اور مسلمانوں کو امین کہتے تھے ‘ اور جو شخص دین میں ان کا مخالف ہو اس کے حقوق کے استحاصل کو جائز سمجھتے تھے ‘ اور ان کا یہ اعتقاد تھا کہ جو شخص جاہل ہو یا امی ہو اس کے حقوق کو ضائع کرنا جائز ہے۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ تورات میں اسرائیلی اور غیر اسرائیل کے ساتھ معاملات میں تفریق تو کی ہے لیکن یہ نہیں لکھا کہ غیر اسرائیلی کے مال کو ناجائز طور پر ہڑپ کرلیا جائے لیکن انہوں نے اپنے سوء فہم اور کم عقلی سے یہ سمجھ لیا کہ غیر اسرائیلی کا مال کھانا جائز ہے ‘ تو رات کی عبارت یہ ہے :

تو پردیسی (اجنبی ‘ غیر اسرائیلی) کو سود پر قرض دے تو دے پر اپنے بھائی کو سود پر قرض نہ دینا تاکہ خداوند تیرا اس ملک میں جس پر تو قبضہ کرنے جارہا ہے تیرے سب کاموں میں جن کو تو ہاتھ لگائے تجھ تجھ کو برکت دے۔ (استثناء باب : ٢٣ آیت : ٢٠‘ پرانا عہد نامہ ص ١٨٨)

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ غیر اسرائیلی سے اسرائیلی کا سود لینا جائز ہے ‘ یہ نہیں کہا کہ غیر اسرائیلی کا اصل مال ہڑپ کرلینا جائز ہے ‘ اور یہ بھی اس تقدیر پر ہے کہ ہم یہ تسلیم کرلیں کہ موجودہ تورات میں جو یہ آیت لکھی ہوئی ہے اصل تورات میں بھی یہ حکم اسی طرح تھا ‘ جب کہ قرآن مجید میں غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت محرف ہے ‘ کیونکہ جب غیر اسرائیلی سے سود لینا جائز ہوگا تو غیر اسرائیلی سے اس کی اصل رقم سے زائد رقم وصول کرنا جائز ہوگا۔ اور یہی غیر اسرائیلی کا ناحق مال کھانا ہے جس کو یہودی جائز سمجھتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے اس کا رد فرمایا : وہ اللہ پر دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں۔ (آل عمران : ٧٥)

اما امام ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اس آیت کی تفسیر میں اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :

قتادہ بیان کرتے ہیں کہ یہود نے کہا عربوں کا مال لوٹنے پر ہم سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔

سدی بیان کرتے ہیں کہ یہود سے کہا گیا کہ تم اپنے پاس رکھوائی ہوئی امانتیں واپس کیوں نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا کہ عربوں کا مال کھانے پر ہماری گرفت نہیں ہوگی ‘ کیونکہ اللہ نے ان کا مال ہمارے لیے حلال کردیا ہے۔

ابن جریج بیان کرتے ہیں کہ قبل از اسلام کچھ لوگوں نے یہودیوں کے ہاتھ کچھ مال فروخت کیا ‘ پھر وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور انہوں نے یہودیوں سے اپنے مال کی قیمت کا تقاضا کیا ‘ یہودیوں کے ہاتھ کچھ مال فروخت کیا ‘ پھر وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور انہوں نے یہودیوں سے اپنے مال کی قیمت کا تقاضا کیا ‘ یہودیوں نے کہا ہمارے پاس تمہاری کوئی امانت نہیں ہے ‘ نہ ہم نے تمہارا کوئی مال ادا کرنا ہے ‘ کیونکہ تم نے اپنا سابق دین ترک کردیا ہے اور انہوں نے دعوی کیا کہ ہماری کتاب میں نہ اسی طرح لکھا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا کہ یہ لوگ اللہ پر دانستہ جھوٹ باندھتے ہیں :

غیر معروف طریقہ سے مخالفین کا مال کھانے کا عدم جواز : 

سعید بن جبیر روایت کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کے دشمن جھوٹ بولتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے ان دو قدموں کے نیچے ہے ‘ ماسوا امانت کے کیونکہ وہ ادا کی جائے گی۔ (جامع البیان ج ٣ ص ٢٢‘ مطبوعہ دارالمعرفتہ بیروت ‘ ١٤٠٩ ھ)

بعض یورپی ممالک میں بعض علماء اسلام یہ فتوی دیتے ہیں کہ یورپ ‘ امریکہ اور افریقہ کے کافر ممالک میں سود کا لین دین جائز ہے اور غیر معروف طریقہ سے کافروں کا مال کھانا جائز ہے مثلا ایک شخص شہر میں خود کو بےروزگار ظاہر کرکے حکومت سے بیروزگاری کا وظیفہ لے اور دوسرے شہر میں کوئی ملازمت کرے اور حکومت کو فریب دے کر وظیفہ لیتا رہے تو یہ جائز ہے ‘ یا خاوند اور بیوی جھوٹ بول کر طلاق ظاہر کریں اور دونوں الگ الگ رہائش حکومت سے حاصل کرلیں اور ایک رہائش کو خفیہ طور پر کرایہ پر اٹھادیں ‘ یا ایک شخص کسی ادارہ سے تنخواہ زیادہ وصول کرے اور کاغذات میں تنخواہ کم دکھائے تاکہ حکومت سے کم آمدنی کی مراعات حاصل کرے تو یہ تمام امور شرعا جائز ہیں کیونکہ کافر کا مال کھانا جائز ہے۔

یہ طریقہ بالکل یہودیوں کا طریقہ ہے جو یہ کہتے ہیں تھے کہ مسلمانوں کا مال کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ اسلام ایک عالم گیر دین ہے ‘ اسلام نے ایمان داری اور راستبازی کی تعلیم دی ہے ‘ ایسی دیانت اور امانت کی تعلیم دی جس سے متاثر ہو کر دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی حقلہ بگوش اسلام ہوجائیں ‘ نہ یہ کہ اسلام میں دوسرے مذہب کے لوگوں سے دھوکے اور فریب سے رقم بٹورنے کا جواز بیان کیا جائے جس سے دوسری اقوام متنفر ہوں۔ اسلام کی ہدایت تمام بنی نوع انسان کے لئے ہے میدان جنگ اور جہاد میں جو قوم مسلمانوں سے بالفعل بر سرپیکار ہو ان کی جان اور ان کے اموال محترم نہیں ہیں۔ انکو دوران جہاد جنگ اور جہاد میں جو قوم مسلمانوں سے بالفعل برسرپیکار ہو ان کی جان اور ان کے اموال محترم نہیں ہیں۔ ان کو دوران جہاد قتل کردیا جائے گا اور جو زندہ بچیں گے ان کو گرفتار کر لیاجائے گا اور میدان جنگ میں کافروں کا جو مال ملے گا وہ مال غنیمت ہے ‘ امام اس مال کا پانچواں حصہ بیت المال کے لیے روانہ کرے گا اور باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کردیئے جائیں گے۔

یا کافر اپنی املاک چھوڑ کر چلے جائیں اور مسلمان املاک پر بغیر جنگ کے قبضہ کرلیں جیسے فدک تھا اس کو مال فے کہتے ہیں ‘ اس کے علاوہ کافروں کا مال لینے کی کوئی جائز صورت نہیں ہے ‘ جو کافر جزیہ دے رہے ہوں ان کے جان و مال کی حفاظت کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری ہے اور جن کافر ملکوں سے انکے معاہدے ہوں انکے مال بھی کسی غیر معروف طریقہ سے لینا جائز نہیں ہے۔ یہ صرف یہودیوں کا نظریہ تھا کہ جو لوگ دین میں ان کے مخالف ہوں ان کا مال غیر معروف اور غیر قانونی طریقہ سے لینا جائز ہے۔

ڈاکٹر وہبہ زحیلی لکھتے ہیں : حقوق اور امانات کی ادائیگی میں اللہ کے دین میں مومن اور غیر مومن کی مطلقا تفریق نہیں ہے ‘ کیونکہ حق مقدس ہے اور کسی شخص کے دین کی وجہ سے اس کا حق بالکل متاثر نہیں ہوتا ‘ اور رہے یہود تو وہ عہد پورا کرنے کو حق واجب نہیں کہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے یہود کے اس قول کے بعد فرمایا :

(آیت) ” ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔ (ال عمران : ٧٥)

ترجمہ : اور وہ دانستہ اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں۔

اس آیت میں ان کافروں کا رد ہے جو از خود چیزوں کو حرام اور حلال قرار دیتے تھے اور ان کو شریعت اور دین بتاتے تھے۔

اللہ کے ساتھ عہد پورا کرنا یہ ہے کہ اس کے احکام پر وجوبا عمل کیا جائے اور جن چیزوں سے اس نے روکا ہے ان سے لازما اجتناب کیا جائے۔ اور لوگوں سے معاملات ‘ عقود اور امانات کی ادائیگی کا جو عہد کیا ہے اس کو پورا کیا جائے۔ اس عہد کو پورا کرنا بھی ایمان سے ہے بلکہ یہ ایمان کی اعلی خصال میں سے ہے اور اسی ایمان کی وجہ سے بندہ اپنے رب کے قریب تر ہوتا ہے اور اس کی محبت اور رضا کا مستحق قرار پاتا ہے ‘ اور جو شخص عہد شکنی کرے وہ بالکل اللہ سے ڈرنے والا نہیں ہے بلکہ وہ گروہ منافقین میں سے ہے اور باطل اور غیر معروف طریقہ سے مال کھانے کہ وجہ سے انسان اللہ کے غضب اور اس کی ناراضگی کا مستحق ہوتا ہے ‘ امام احمد نے حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے کسی مسلمان کا مال ناحق کھایا وہ جب اللہ سے ملاقات کرے گا تو اللہ اس سے ناراض ہوگا ‘ اور امام بخاری ‘ امام مسلم ‘ امام ترمذی اور امام نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا منا فق کی تین نشانیاں ہیں جب بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کے خلاف کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرتا ‘ اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت انس (رض) سے یہ حدیث روایت کی ہے کہ جو شخص امانت دار نہ ہو وہ مومن نہیں اور جو شخص عہد پورا نہ کرے اس کا کوئی دین نہیں اور عہد توڑنے والے اور امانت میں خیانت کرنے والے کی سزا اللہ کے نزدیک زنا ‘ چوری ‘ شراب نوشی ‘ جوئے اور ماں باپ کی نافرمانی اور دیگر تمام کبیرہ گناہوں سے زیادہ ہے ‘ کیونکہ عہد شکنی کا فساد اور اس کا ضرر بہت بڑا اور بہت عام اور بہت شامل ہے۔ (تفسیر منیرج ٣ ص ٢٧٠۔ ٢٦٩‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٢ ھ)

غیر معروف اور غیر قانونی طریقوں سے کافر اقوام کا مال کھانے کے دلائل پر بحث ونظر : 

جب مسلمان کسی کافر قوم سے برسرجنگ ہوں اس وقت کافروں کا ملک دارالحرب ہوتا ہے اور اس وقت دارالحرب کے کافروں کی جان اور اموال مباح ہیں لیکن جن ممالک سے مسلمان برسر جنگ نہیں ہیں۔ ان سے سفارتی تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں اور ان کے ہاں پاسپورٹ اور ویزے سے آنا جانا جاری اور معمول ہے اور ان ممالک میں مسلمانوں کو جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ حاصل ہے بلکہ وہاں انہیں اسلامی احکام پر عمل کرنے کی بھی آزادی ہے جیسے امریکہ ‘ برطانیہ ‘ کینیڈا اور جرمنی وغیرہ ایسے ملک دارالحرب نہیں بلکہ دارالکفر ہیں اور ایسے ممالک کے کافروں کے اموال مسلمانوں پر مباح نہیں ہیں۔ بعض علماء کا یہ خیال ہے کہ کافروں کا مال ان پر مباح ہے خواہ جس طرح حاصل ہو بشرطیکہ اس سے مسلمانوں کا وقار مجروح نہ ہو ان کا استدلال قرآن مجید کی اس آیت سے ہے :

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل الا ان تکون تجارۃ عن تراض منکم “۔ (النساء : ٢٩)

ترجمہ : اے ایمان والو ! آپس میں اپنے اموال ناحق نہ کھاؤ الا یہ کہ تمہاری آپس کی رضامندی سے تجارت ہو۔

اس آیت سے یہ لوگ اس طرح استدلال کرتے ہیں کہ قرآن مجید نے مسلمانوں کو آپس میں ناجائز طریقے سے مال کھانے سے منع کیا ہے اور اگر مسلمان کافروں کا مال ناجائز طریقے سے کھالیں تو اس سے منع نہیں کیا گیا ‘ سو مسلمانوں کے لئے کفار کے اموال عقد فاسد سے یا ناجائز طریقے سے کھانا جائز ہے۔ اولا تو یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں کہ یہ مفہوم مخالف سے استدلال ہے اور وہ جائز نہیں ہے ‘ ثانیا یہ استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ قرآن مجید کا عام اسلوب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ مکارم اخلاق سے مسلمانوں کے ساتھ خطاب کرتا ہے لیکن اس سے قرآن مجید کا منشاء یہ نہیں ہے کہ نیکی صرف مسلمانوں کے ساتھ کی جائے اور کفار کے ساتھ سلوک میں مسلمان نیکیوں کو چھوڑ کر بدترین برائیوں پر اتر آئیں حتی کہ کفار کے نزدیک مسلمان ایک خائن اور بدکردار قوم کے نام سے معروف ہوں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ولا تکرھوا فتیاتکم علی البغآء ان اردن تحصنا لتبتغوا عرض الحیوۃ الدنیا “۔ (النور : ٣٣)

ترجمہ : اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کرو جب کہ وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم (اس بدکاری کے کاروبار کے ذریعہ) دنیا کا عارضی فائدہ طلب کرو۔

اس آیت میں مسلمانوں کو اس سے منع کیا ہے کہ وہ اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور کریں تو کیا اس آیت کی رو سے مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کسی دارالکفر میں کافر عورتوں کا کوئی قحبہ خانہ کھول کر اس سے کاروبار کرنا شروع کردیں ؟

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تخونوا اللہ والرسول وتخونوا امنتکم وانتم تعلمون “۔ (الانفال : ٢٧)

ترجمہ : اے ایمان والو ! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ اپنی امانتوں میں خیانت کرو درآں حالیکہ تم جانتے ہو۔

کیا اس آیت کی رو سے مسلمانوں کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کافروں کی امانتوں میں خیانت کرلیا کریں ؟

(آیت) ” ولا تتخذوا ایمانکم دخلا بینکم “۔ (النحل : ٩٤)

ترجمہ : اور اپنی قسموں کو آپس میں دھوکا دینے کے لئے بہانہ نہ بناؤ۔

کیا اس آیت کا یہ معنی ہے کہ کافروں سے رروغ حلفی میں کوئی مضائقہ نہیں ؟

(آیت) ” ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشۃ فی الذین امنوا لھم عذاب الیم فی الدنیا والاخرۃ “۔ (النور : ١٩)

ترجمہ : بیشک جو لوگ مسلمانوں میں بےحیائی پھیلانا پسند کرتے ہیں ان کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔

کیا اس آیت سے یہ استدلال کیا جاسکتا ہے کہ کافروں میں بےحیائی اور بدکاری کو پھیلانا جائز اور صواب ہے اور اخروی ثواب کا موجب ہے ؟

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا منشایہ ہے کہ اخلاق اور کردار کے اعتبار سے دنیا میں مسلمان ایک آئیڈیل قوم کے لحاظ سے پہچانے جائیں غیر اقوام مسلمانوں کے اعلیٰ اخلاق اور بلند کردار کو دیکھ کر متاثر ہوں۔ مسلمانوں کی امانت اور دیانت کی ایک عالم میں دھوم ہو۔ کیا آپ نہیں دیکھتے کہ کفار قریش ہزار اختلاف کے باوجود نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی راستبازی ‘ پارسائی ‘ امانت اور دیانت کے معترف اور مداح تھے۔ اسلام کی تبلیغ و اشاعت میں تلوار اور جہاد سے زیادہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی باکمال سیرت کا حصہ ہے۔ مسلمانوں کی کافر سے لڑائی تیروتفنگ کی نہیں اصول اور اخلاق کی لڑائی ہے۔ اس کا نصب العین زر اور زمین کا حصول نہیں بلکہ دنیا میں اپنے اصول اور اقدار پھیلانا ہے۔ اب اگر اس نے اپنے مکارم اخلاق ہی کو کھو دیا اور خود ہی ان اصولوں اور تعلیمات کو قربان کردیا جس کو پھیلانے کے لیے وہ کھڑا ہوا ہے تو پھر اس میں اور دوسری اقوام میں کیا فرق رہے گا اور کس چیز کی وجہ سے اس کو دوسروں پر فتح حاصل ہوگی اور کس قوت سے وہ دلوں اور روحوں کو مسخر کر سے گا ؟

جو لوگ دارالکفر میں حربی کافروں سے سود لینے کو جائز کہتے ہیں اور حربی کافروں کے اموال کو عقد فاسد کے ساتھ لینے کو جائز قرار دیتے ہیں وہ اس پر کیوں غور نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے اس عمل کی مذمت کی ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کو حق کھانے کے لئے یہ مسئلہ گھڑ لیا تھا کہ عرب کے امی جو ہمارے مذہب پر نہیں ہیں ان کا مال جس طرح لے لیا جائے روا ہے ‘ غیر مذاہب والوں کی امانت میں خیانت کی جائے تو کچھ گناہ نہیں خصوصا وہ عرب جو اپنا آبائی دین کو چھوڑ کر مسلمان بن گئے خدا نے ان کا مال ہمارے لئے حلال کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

(آیت) ” ومنہم من ان تامنہ بدینار لا یؤدہ الیک الا مادمت علیہ قآئما ذالک بانھم قالوا لیس علینا فی الامیین سبیل ویقولون علی اللہ الکذب وھم یعلمون “۔ (آل عمران : ٧٥)

ترجمہ : اور ان (یہودیوں) میں سے بعض ایسے ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک اشرفی امانت رکھو تو جب تک تم ان کے سر پر نہ کھڑے رہو وہ تم کو واپس نہیں دیں گے یہ اس لئے ہے کہ انہوں نے کہہ دیا کہ امیین (مسلمانوں) کا مال لینے سے ہماری پکڑ نہیں ہوگی اور یہ لوگ جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے ہیں :

غور کیجئے جو لوگ دارالکفر میں حربی کافروں سے سود لینے اور عقد فاسد پر ان کے معاملے کو جائز کہتے ہیں ان کے عمل میں اور یہودیوں کے اس مذموم عمل میں کیا فرق رہ گیا ؟

حضرت ابوبکر کے قمار کی وضاحت :

جو لوگ کافروں سے سود لینے کو جائز کہتے ہیں ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر نے مکہ میں ابی بن خلف سے اہل روم کی فتح پر شرط لگائی تھی اس وقت مکہ دارالحرب تھا حضرت ابوبکر نے ابی بن خلف سے شرط جیت کر وہ رقم وصول کرلی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انہیں رقم لینے سے منع نہیں کیا اس سے معلوم ہوا کہ حربی کافروں سے قمار اور دیگر عقود فاسدہ کے ذریعہ رقم بٹورنا جائز ہے۔

یہ استدلال بالکل بےجان ہے کیونکہ حضرت ابوبکر کے شرط لگانے کا ذکر جن روایات میں ہے وہ باہم متعارض ہیں۔

قاضی بیضاوی ‘ بغوی ‘ علامہ آلوسی اور دیگر مفسرین نے بغیر کسی سند کے اس واقعہ کا ذکر کیا ہے جس میں حضرت ابوبکر کے شرط جیتنے کا بیان ہے کہ حضرت ابوبکر نے ابی بن خلف سے یہ شرط لگائی تھی کہ اگر تین سال کے اندر رومی ایرانیوں سے ہار گئے تو وہ دس اونٹ دیں گے اور اگر تین سال کے اندر رومی ایرانیوں سے جیت گئے تو ابی کو دس اونٹ دینے ہوں گے پھر جب حضور سے اس شرط کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا یہ تم نے کیا کیا ہے۔ بضع کا لفظ تو تین سے لے کر نو تک بولا جاتا ہے تم شرط اور مدت دونوں کو بڑھا دو پھر حضرت ابوبکر نے نوسال میں سو اونٹوں کی شرط لگائی جب ساتواں سال شروع ہوا اور ابن ابی حاتم اور ابن عساکر کی روایت میں ہے کہ جنگ بدر کے دن رومی ایرانیوں پر غالب آگئے حضرت ابوبکر نے ابی کے ورثاء سے اونٹ لے لئے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس وہ اونٹ لے کر آئے تو آپ نے فرمایا یہ سحت (مال حرام) ہے اس کو صدقہ کردو حالانکہ اس وقت تک حرم قمار کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ (روح المعانی ج ٢١ ص ‘ ١٨ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت)

علامہ آلوسی نے ترمذی کے حوالے سے بھی حضرت ابوبکر کے جیت جانے کا واقعہ لکھا ہے لیکن یہ علامہ آلوسی کا تسامح ہے ‘ جامع ترمذی میں حضرت ابوبکر کے شرط ہارنے کا ذکر ہے حافظ ابن کثیر نے بھی ترمذی کے حوالے سے ہارنے ہی کا ذکر ہی کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ تابعین کی ایک جماعت نے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور مفسرین کی ذکر کردہ مذکورہ الصدر روایت کو عطاء خراسانی کے حوالے سے بیان کیا ہے اور اس کو بہت غریب (اجنبی) قرار دیا ہے۔ (تفسیر القرآن العظیم ج ٥ ص ٣٤٢۔ ٣٤١ مطبوعہ دارالندلس بیروت)

جامع ترمذی کی روایت کا متن یہ ہے :

نیار بن اسلمی بیان کرتے ہیں جب یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ” الم غلبت الروم فی ادنی الارض وھم من بعد غلبہم سیغلبون فی بضع سنین ‘۔۔

الم اہل روم قریب کی زمین میں (فارس) مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے چند سالوں بعد غالب ہوجائیں گے۔ جن دنوں یہ آیت نازل ہوئی ان دنوں میں ایرانیوں کو رومیوں پر برتری تھی اور مسلمانوں کی خواہش تھی کہ رومی ایرانیوں پر فتح پاجائیں کیونکہ وہ اور رومی اہل کتاب تھے اور اسی بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے۔

(آیت) ” ویومئذ یفرح المؤمنون بنصر اللہ ینصر من یشاء وھو العزیز الرحیم “۔۔

ترجمہ : جس دن مسلمانوں اللہ کی مدد سے خوش ہوں گے اللہ تعالیٰ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ عزیز رحیم ہے۔۔

اور قریش یہ چاہتے تھے کہ ایرانی غالب ہوجائیں کیونکہ وہ دونوں نہاہل کتاب تھے نہ بعثت پر ایمان رکھتے تھے ‘ جب یہ آیت نازل ہوئی حضرت ابوبکر نے مکہ کے اطراف میں یہ اعلان کردیا۔ الم اہل روم قریب کی زمین میں (فارس سے) مغلوب ہوگئے اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد چند سالوں میں غالب ہوجائیں گے۔ قریش کے کچھ لوگوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا تمہارے پیغمبر یہ کہتے ہیں کہ چند سالوں میں رومی ایرانیوں پر غالب ہوجائیں گے کیا ہم اس پر شرط نہ لگائیں حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کیوں نہیں اور یہ قمار کی حرمت نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ تھا پھر حضرت ابوبکر (رض) اور مشرکین نے شرط لگائی مشرکین نے کہا ” بضع سنین “ تین سالوں سے لے کر نو سالوں تک ہے تم ہمارے درمیان اس کی درمیانی مدت طے کرلو پھر انہوں نے یہ مدت چھ سال طے کی پھر چھ سال گذر گئے اور رومی غالب نہ ہوئے اور مشرکین نے حضرت ابوبکر (رض) سے شرط وصول کرلی اور پھر جب ساتواں سال شروع ہوا تو رومی ایرانیوں پر غالب ہوگئے تو پھر مسلمانوں نے حضرت ابوبکر پر تنقید کی کہ انہوں نے ” بضع سنین “ کو چھ سال کیوں قرار دیا کیونکہ اللہ نے تو ” بضع سنین “ فرمایا تھا (اور وہ نو سال تک کو کہتے ہیں) امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ (جامع ترمذی ص ‘ ٤٦٠ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)

حضرت ابوبکر (رض) کے قمار سے جو یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ حربی کافروں کا مال ناجائز طریقے سے بھی لینا جائز ہے اس روایت کی تحقیق کے بعد اس کے حسب ذیل جواب ہیں :

(١) حضرت ابوبکر کے قمار کا واقعہ جن روایات سے ثابت ہے وہ مضطرب ہیں یعنی بعض روایات میں حضرت ابوبکر کے جیتنے کا ذکر ہے اور بعض میں ہارنے کا ذکر ہے اور مضطرب روایا ات سے استدلال صحیح نہیں ہے۔

(٢) قمار کا یہ واقعہ بالاتفاق حرمت قمار سے پہلے کا ہے کیونکہ یہ شرط فتح مکہ سے پہلے لگائی گئی تھی اور قمار کی حرمت سورة مائدہ میں نازل ہوئی ہے جو مدینہ میں سب سے آخر میں نازل ہوئی تھی۔

(٣) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس مال کو نہ خود قبول فرمایا نہ حضرت ابوبکر کو لینے دیا بلکہ فرمایا یہ مال حرام ہے اس کو صدقہ کردو۔ (اس میں یہ دلیل ہے کہ جب انسان کسی مال حرام سے بری ہونا چاہے تو برات کی نیت سے اس کو صدقہ کردے)

دارالحرب ‘ دارالکفر اور دارالاسلام کی تعریفات : 

شمس الائمہ سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ دارالحرب کی تعریف بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

خلاصہ یہ ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک دارالحرب کی تین شرطیں ہیں ایک یہ کہ اس پورے علاقے میں کافروں کی حکومت ہو اور درمیان میں مسلمانوں کا کوئی ملک نہ ہو ‘ دوسری یہ کہ اسلام کی وجہ سے کسی مسلمان کی جان ‘ مال اور عزت محفوظ نہ ہو اسی طرح ذمی بھی محفوظ نہ ہو ‘ تیسری شرط یہ ہے کہ اس میں شرک کے احکام ظاہر ہوں۔ (المبسوط ج ١٠ ص ١١٤ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١٣٩٨ ھ)

علامہ سرخسی نے دارالحرب کی تیسری شرط یہ بیان کی ہے کہ اس میں مشرکین شرک کے احکام ظاہر کریں ‘ علامہ شامی اس کی تشریح میں لکھتے ہیں :

یعنی شرک کے احکام مشہور ہوں اور اس میں اہل اسلام کا کوئی حکم نافذ نہ کیا جائے۔ (ھندیہ) اور ظاہر یہ ہے کہ اگر اس میں مسلمانوں اور مشرکوں دونوں کے احکام جاری ہوں تو پھر وہ دارالحرب نہیں ہوگا۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٢٥٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

یہ تعریف اس ملک پر صادق آئے گی جس ملک سے مسلمان عملا برسر جنگ ہوں اس ملک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم نہ ہوں اور وہاں کسی مسلمان کی اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے جان مال اور عزت محفوظ نہ ہو جیسا کہ کسی زمانہ میں اسپین میں تھا وہاں ایک ایک مسلمان کو چن کر قتل کردیا گیا وہاں اپنے مذہبی شعائر پر عمل کرنے کی بھی آزادی ہے جیسے امریکہ برطانیہ ہالینڈ جرمنی اور افریقی ممالک یہ ملک دارالحرب نہیں ہیں بلکہ دارالکفر ہیں۔ فقہاء احناف نے اسلامی احکام پر عمل کرنے کی آزادی کے پیش نظر ایسے ممالک کو دار الاسلام کہا ہے لیکن یہ حکما دارالاسلام ہیں حقیقتا دارالکفر ہیں۔ بعض اوقات فقہاء دارالکفر پر مجازا دارالحرب کا بھی اطلاق کردیتے ہیں لیکن یہ ملک حقیقتا دارالسلام ہیں نہ دارالحرب بلکہ یہ دارالکفر ہیں ‘ کافروں کی حکومت کی وجہ سے کبھی ان پر دارالحرب کا اطلاق کردیا جاتا ہے اور اسلامی احکام پر عمل کی آزادی کی وجہ سے کبھی ان پر دارالسلام کا اطلاق کردیا جاتا ہے۔

علامہ ابن عابدین شامی حنفی لکھتے ہیں :

معراج الدرایہ میں مبسوط کے حوالے سے لکھا ہے جو شہر کفار کے ہاتھوں میں ہیں وہ بلاد اسلام ہیں بلاد حرب نہیں ہیں کیونکہ کفار نے ان شہروں میں کفر کے احکام ظاہر نہیں کئے بلکہ قاضی اور حاکم مسلمان ہیں جو ضرورت کی وجہ سے یا بلاضرورت کفار کی اطاعت کرتے ہیں ‘ اور ہر وہ شہر جس میں کفار کی طرف سے حاکم مقرر ہو اس میں جمعہ اور عیدین پڑھنا اور حد قائم کرنا اور قاضیوں کو مقرر کرنا جائز ہے کیونکہ شرعا مسلمان کافروں پر غالب ہیں اور اگر حاکم کفار ہوں پھر بھی مسلمانوں کے لئے جمعہ کو قائم کرنا جائز ہے اور مسلمانوں کی رضا مندی سے کسی شخص کو قاضی بنادیا جائے گا اور مسلمانوں پر ضروری ہے کہ وہ کسی مسلمان حاکم کو تلاش کریں۔ (رد المختار ج ١ ص ‘ ٥٤١۔ ٥٤٠ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

مبسوط کی اس عبارت میں کافروں کے ملک کو جو بلاد اسلام یا دارالاسلام سے تعبیر کیا گیا ہے ظاہر ہے یہ حقیقی اطلاق نہیں ہے کیونکہ دارالاسلام وہ ملک ہے جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور وہاں اسلامی شعائر اور احکام اسلامیہ کا غلبہ ہو لیکن کافروں کے جس ملک میں مسلمانوں کو اسلامی احکام پر عمل آزادی ہو وہاں جمعہ اور عید کا قیام جائز ہے اور اسی وجہ سے وہ علاقہ حکما دارالاسلام ہے حقیقتا دارالاسلام ہے نہ حقیقتا دارالحرب ہے ‘ قبل از تقسیم ہندوستان کو جو علماء نے دارالاسلام قرار دیا تھا اس کا یہی مطلب تھا ورنہ ظاہر ہے کہ وہاں مسلمانوں کی حکومت تھی نہ احکام اسلامیہ کا غلبہ تھا اس لئے ہندوستان حقیقتا دارالکفر ہی تھا اور حقیقتا دارالحرب اس لیے نہیں تھا کہ وہاں مسلمانوں کو جان اور مال کا تحفظ حاصل تھا۔

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

مسلمان تاجر جب گھوڑے پر سوار ہو کر اور اسلحہ کے ساتھ امان لے کر دارالحرب جائیں درآں حالیکہ وہ اس گھوڑے اور اسلحہ کو کافروں کے ہاتھ بیچنے کا ارادہ نہ رکھتے ہوں تو ان کو اس سے منع نہیں کیا جائے گا کیونکہ تاجر کو اپنے مصالح کے لئے ان چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے پس جس طرح تاجر کے لیے یہ چیزیں دارالاسلام میں ممنوع نہیں اسی طرح دارالحرب میں ممنوع نہیں ہیں۔ (شرح السیر الکبیر ج ٤ ص ١٥٧١‘ مطبوعۃ المکتب للحرکۃ الثورۃ الاسلامیہ افغانستان ١٤٠٥ ھ)

فقہاء نے اس باب میں یہ بیان کیا ہے کہ مسلمان تاجر کے لئے سواری اور اسلحہ کو دارالحرب میں تجارت کے لئے لے جا کر فروخت کرنا جائز نہیں البتہ کھانے پینے کی اشیاء اور جن چیزوں کا تعلق آلات حرب سے نہ ہو ان کو دارالحرب میں لے جا کر فروخت کرنا اور ان کی تجارت کرنا جائز ہے۔

ہم نے یہ عبادت اس لئے نقل کی ہے کہ فقہاء دارالکفر پر بھی مجازا دارالحرب کا اطلاق کردیتے ہیں کیونکہ دارالحرب کی تو یہ تعریف ہے جہاں مسلمان اور ذمی کو جان ‘ مال اور عزت کا تحفظ حاصل نہ ہو اس لئے ایسی جگہ مسلمان تاجروں کا تجارت کے لئے جانے کا کوئی معنی نہیں ہے۔ اس لئے یہ دارالحرب نہیں ہے اب تک کی بحث سے جو تعریفات حاصل ہوئی ہیں ان کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

دارالاسلام : وہ علاقہ جہاں مسلمانوں کی حکومت ہو اور شعائر اسلامی اور احکام اسلامیہ کا غلبہ ہو۔ دارالحرب : وہ علاقہ جہاں کافروں کی حکومت ہو اور کفر کے احکام کا غلبہ ہو اور کسی مسلمان کو اس کے مسلمان ہونے کی حیثیت سے جان ‘ مال اور عزت کا تحفظ حاصل نہ ہو ‘ اسی طرح ذمی کو بھی تحفظ حاصل نہ ہو۔

دارالکفر : وہ علاقہ جہاں کافروں کی حکومت ہو ‘ اس علاقے کے ساتھ مسلمانوں کے سفارتی تعلقات ہوں ‘ مسلمان وہاں تجارت کے لئے جاتے ہوں ‘ مسلمانوں کو وہاں جان ‘ مال اور عزت کا تحفظ حاصل ہو اور احکام اسلامیہ پر عمل کرنے کی آزادی ہو۔

ان تعریفات کے اعتبار سے امریکہ ‘ برطانیہ ‘ کینیڈا ‘ ہالینڈ ‘ مغربی جرمنی اور افریقی ممالک جہاں مسلمان امان اور آزادی کے ساتھ رہتے ہیں یہ سب دارالکفر ہیں یہاں جمعہ اور عیدین پڑھنا جائز ہے اور یہ ممالک دارالحرب نہیں ہیں اس لیے یہاں مسلمانوں کے لئے سود کا لین دین کسی طرح جائز نہیں ہے اسی طرح یہاں کافروں کا مال عقود فاسدہ سے لینا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اگر فقہاء احناف نے درجہ کراہت میں کافروں کے مال لینے کو جائز کہا ہے تو دارالحراب میں کہا ہے اور یہ ممالک دارالحرب نہیں ہیں اس لئے یہاں مسلمانوں کے لئے سود کا لین دین کسی طرح جائز نہیں ہے اسی طرح یہاں کافروں کا مال عقود فاسدہ سے لینا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ اگر فقہاء احناف نے درجہ کراہت میں کافروں کے مال لینے کو جائز کہا ہے تو دارالحرب میں کہا ہے اور یہ ممالک دارالحرب نہیں ہیں۔ فقہاء نے ایسے ممالک پر مجازا دارالحرب کا اطلاق کیا ہے اور مجازا ” دارالاسلام کا اطلاق بھی کیا ہے لیکن حقیقت میں یہ ممالک دارالکفر ہیں ‘ دارالحرب ہیں نہ دارالاسلام۔

علامہ علاء الدین محمد بن علی بن محمد حصکفی حنفی متوفی ١٠٨٨ ھ لکھتے ہیں :

اگر دارالحرب میں اہل اسلام کے احکام جاری کردیئے جائیں تو وہ دارالاسلام بن جاتا ہے مثلا جمعہ اور عید پڑھائی جائے۔ خواہ اس میں کافر اصلی باقی رہیں اور خواہ وہ علاقہ دارالاسلام سے متصل نہ ہو۔

یہ دارالحرب اور دارالاسلام کی تعریفیں ہیں اور دارالکفر کی تعریف علامہ شامی کی اس عبارت سے مستفاد ہوتی ہے :

رہے وہ ممالک جن کے والی کفار ہیں تو مسلمانوں کے لئے ان ملکوں میں جمعہ اور عید کی نماز قائم کرنا جائز ہے اور مسلمانوں کی باہمی رضا مندی سے وہاں قاضی مقرر کرنا جائز ہے اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ مسلمان والی کو (بہ شرط استطاعت) طلب کریں اور ہم اس سے پہلے جمعہ کے باب میں اس کو بزاز یہ سے نقل کرچکے ہیں (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٥٤١۔ ٢٥٣ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

دارا الکفر میں غیر قانونی طریقہ سے کافروں کا مال کھانے کا عدم جواز :

خلاصہ یہ ہے کہ اسرائیل کے سوا تمام کا فرملکوں کے ساتھ حکومت پاکستان کے سفارتی تعلقات ہیں اور پاسپورٹ اور ویزے کے ساتھ مسلمانان کافر ملکوں میں جاسکتے ہیں اور وہ مسلمانوں کے ملکوں میں آسکتے ہیں اور جو لوگ ویزہ لے کر کسی ملک میں جائیں ان کو اس ملک میں جائیں ان کو اس ملک میں امان حاصل ہوتی ہے اور ان کی جان اور مال کی حفاظت کرنا اس حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ شخص کسی مال کو غیر معروف اور غیر قانونی طریقہ سے حاصل نہیں کرسکتا اور اگر اس نے ایسا کیا تو وہ مال حرام ہوگا اور اس پر اس کا صدقہ کرنا واجب ہے اس کو شرعی اصطلاح میں مستامن کہتے ہیں۔

علامہ حصکفی حنفی لکھتے ہیں :

مستامن کا معنی ہے جو امان کا طالب ہو اور یہ وہ شخص ہے جو کسی دوسرے ملک میں امان لے کر داخل ہو خواہ وہ شخص مسلمان ہو یا حربی ‘ مسلمان دارالحرب (یعنی دارالکفر) میں امان لے کر داخل ہوا تو اس پر ان کی جان ‘ مال اور ان کی عورتوں کی عزت کے درپے ہونا حرام ہے ‘ کیونکہ مسلمان اپنی شرائط کے پابند ہیں (علامہ شامی نے لکھا ہے کیونکہ مسلمان جب امان لے کر ان کے ملک میں داخل ہوا تو وہ اس بات کا ضامن ہوگیا کہ وہ ان کی جان مال اور عزت کے درپے نہیں ہوگا اور عہد شکنی کرنا حرام ہے ہاں اگر کافروں کا حکمران عہد شکنی کرے اور اس مسلمان کا مال لوٹ لے یا اس کو قید کرلے یا کوئی اور کافر ایسا کام کرے اور حکمران کو اس کا علم ہو اور وہ اس کو منع نہ کرے تو پھر مسلمان پر بھی ان شرائط پابندی نہیں ہے کیونکہ انہی کافروں نے عہد شکنی کی ہے۔ (بحر ‘ رد المختارج ٣ ص ٢٤٧) اگر کوئی مسلمان وہاں سے (غیرقانونی طور پر) کوئی مال لے کر دارالاسلام میں آیا تو وہ وہ اس کی ملکیت میں حرام چیز ہے اور اس کا صدقہ کرنا واجب ہے ‘ اور اگر وہ ان سے کوئی چیز چھین کر لایا ہے تو اس پر واجب ہے کہ جس شخص کی چیز ہے وہ اس کو واپس کرے۔ (درمختار علی ھامش رد المختار ج ٣ ص ٢٥٣۔ ٢٤٧‘ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

علامہ سید محمد امین ابن عابدین شامی حنفی متوفی ١٢٥٢ ھ لکھتے ہیں :

علامہ حاکم نے کافی میں لکھا ہے کہ اگر مسلمانوں نے کافروں کے ملک میں ایک درہم کو دو درہموں کے عوض نقد یا ادھار فروخت کیا یا کوئی چیز ان کے ہاتھ خمر (انگوری شراب) یا خنزیر یا مردار کے عوض فروخت کی تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ‘ کیونکہ مسلمان کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ کافروں کی رضا مندی سے ان سے مال حاصل کرلے ‘ یہ امام ابوحنیفہ اور امام محمد کا قول ہے اور امام ابو یوسف کے نزدیک ان میں سے کوئی چیز جائز نہیں ہے۔ (رد المختار ج ٣ ص ‘ ٢٤٧ مطبوعہ دارا حیاء التراث العربی ‘ بیروت ١٤٠٧ ھ)

ہمارے نزدیک امام ابو یوسف کا قول ہی صحیح ہے کیونکہ اسلام عالم گیر مذہب ہے اور اس کے احکام قیامت تک تمام انسانوں کے لئے ہیں اسلام نے شراب ‘ خنزیر ‘ مردار اور سود کو مطلقا حرام کیا ہے ‘ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں ان کی حرمت کے لئے کوئی استثناء نہیں ہے دارالاسلام ہو ‘ دارالکفرہو یا درالحرب ہو ہر جگہ شراب ‘ خنزیر ‘ مردار اور سود حرام ہیں ‘ اور جو لوگ غیر قانونی طریقہ سے کافروں کے مال لینے کو جائز کہتے ہیں وہ بھی دارالکفر میں مسلمانوں کے لئے خنزیر اور شراب کی بیع کو جائز کہنے کی جرات نہیں کریں گے۔

پاکستان اور دیگر اسلامی ملکوں نے جن کافر ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کئے ہوئے ہیں اور پاسپورٹ اور ویزے کے ساتھ ایک دوسرے کے ملکوں میں ان کے باشندوں کی آمدورفت رہتی ہے اور ان کے ساتھ تجارتی اور ثقافتی تعلقات بھی ہیں سو یہ ان کے ساتھ معاہدہ امن و سلامتی اور بقاء باہمی کے وعدہ کے قائم مقام ہے ‘ اس لئے کسی مسلمان کا ایسے کسی کافر ملک میں جاکر دھوکے اور فراڈ کے ذریعہ ان کا پیسہ بٹورنا جائز نہیں ہے۔

علامہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں :

جو مسلمان کافر ملک میں امان حاصل کرکے (ویزہ لے کر) جائے اس پر ان کے ساتھ عہد شکنی کرنا اور دھوکہ دینا مکروہ (تحریمی) ہے کیونکہ غدر (عہدشکنی) حرام ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت کے دن ہر عہد شکن کی دبر (مقعد) پر ایک جھنڈا گاڑ دیا جائے گا جس سے اس کی عہد شکنی پہچانی جائے گی ‘ اگر اس مسلمان نے کافروں سے عہد شکنی اور دھوکا دہی سے ان کا مال حاصل کرلیا اور اس مال کو دارالاسلام میں لے آیا تو دوسرے مسلمانوں کو اگر علم ہو تو ان کے لیے اس مال کو خریدنا حرام ہے کیونکہ وہ مال کسب خبیث سے حاصل ہوا ہے اور اس مال کو خریدنے سے اس کسب خبیث کی حوصلہ افزائی ہوگی اور یہ مسلمانوں کے لیے مکروہ ہے ‘ اور اس کی دلیل حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کی یہ حدیث ہے کہ جب انہوں نے اپنے کافر ساتھیوں کو قتل کردیا اور ان کا مال لے کر مدینہ آئے اسلام قبول کرلیا اور انہوں نے یہ چاہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس مال میں سے خمس (پانچواں حصہ) لے لیں ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا اسلام تو مقبول ہے لیکن تمہارا مال غدر (عہد شکنی اور دھوکا دہی پر مبنی ہے) سو ہمیں اس مال کی ضرورت نہیں ہے۔ (المبسوط ج ١٠ ص ٩٧۔ ٩٦ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ١٣٩٨ ھ)

نیز علامہ سرخسی حنفی لکھتے ہیں :

جب مسلمان مشرکین کی کسی قوم کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں تو ان کی اجازت کے بغیر ان کا مال لینا جائز نہیں ہے ‘ کیونکہ ہمارے اور ان کے درمیان معاہدہ قائم ہے ‘ اور اس معاہدہ کی وجہ سے ان کی جان اور مال مسلمانوں کی جان اور مال کی طرح محترم ہے ‘ سو جس طرح مسلمانوں کی اجازت کے بغیر ان کا مال لینا جائز نہیں ہے ‘ اسی طرح جن مشرکوں سے معاہدہ ہو ان کی رضا مندی کے بغیر ان کا مال لینا بھی جائز نہیں ہے کیونکہ بغیر رضامندی کے ان کا مال لینا غدر اور عہد شکنی ہے ‘ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عہد پورا کیا جائے اور اس میں غدر نہ کیا جائے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابوثعلبہ خشنی بیان کرتے ہیں کہ معاہدہ ہونے کے بعد کچھ یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کے اصحاب نے ہمارے کھیتوں میں سے سبزیاں اور لہسن لے لیے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کو یہ حکم دیا کہ وہ لوگوں میں یہ اعلان کردیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ حکم دیا ہے کہ جس قوم کے ساتھ معاہدہ ہو اس کا کوئی مال حق کے سوا لینا جائز نہیں ہے۔ (شرح السیر الکبیر ج ٢ ص ١٣٣‘ مطبوعۃ المکتبہ الثورۃ الاسلامیہ افغانستان ١٤٠٥ ھ)

علامہ ابوالحسن علی بن ابی بکر المرغینانی الحنفی ٥٩٣ لکھتے ہیں :

جب مسلمان دارالحرب (دارالکفر) میں تجارت کے لیے داخل ہو تو اس کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ ان کی جانوں اور مالوں کے درپے ہو ‘ کیونکہ وہ ان سے امان طلب کرنے کے بعد اس بات کا ضامن ہوگیا ہے کہ وہ ان کی جان اور مال میں تعرض نہیں کرے گا ‘ اور ضمانت کے بعد تعرض کرنا غدر (عہد شکنی) ہے اور غدر حرام ہے۔ (ہدایہ اولین میں ص ٥٨٤‘ مکتبہ امدادیہ ملتان)

علامہ بدرالدین عینی نے اس کی شرح میں یہ حدیث ذکر کی ہے :

حضرت ابن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عہد شکن کے لیے قیامت کے دن ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ فلاں کی عہد شکنی ہے (صحیح بخاری ج ٢ ص ٩١٢) (البنایہ ج ٦ ص ٦١٨‘ مطبوعہ دارالکفر بیروت ‘ ١٤١١ ھ)

احادیث اور فقہاء کے ان کثیر حوالہ جات سے یہ واضح ہوگیا کہ دارالکفر میں غیر قانونی طریقہ سے کافروں کا مال کھانا جائز نہیں ہے۔

تفسیر تبیان القرآن – سورۃ 3 – آل عمران – آیت 75